طغیانیت

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



طغیان کا اطلاق سرکشی و بغاوت پر ہوتا ہے۔


لفظ کا فقہی استعمال

[ترمیم]

علم فقہ میں نماز، جہاد اور نکاح کے ابواب میں اس سے متعلق احکام وارد ہوئے ہیں۔

باپ کی وہ نمازیں جو طغیانی کی بناء پر چھوڑیں

[ترمیم]

باپ کی قضاء نمازیں اس کی وفات کے بعد سب سے بڑے بیٹے پر واجب ہیں لیکن وہ نمازیں بڑے بیٹے پر واجب نہیں ہوں گی جنہیں باپ نے طغیانی اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے جان بوجھ کر چھوڑیں ہیں۔ پس طغیانیت کی بناء پر باپ کی ترک کردہ نمازیں بڑے بیٹے پر واجب نہیں ہیں۔
[۲] زین الدین، محمد امین، کلمۃ التقوی، ج۲، ص ۸۵۔


باغی کے خلاف جہاد

[ترمیم]

اگر کوئی شخص یا گروہ امام معصوم ؑ کے مقابلے میں سرکشی و طغیانیت کرے اور ان کے ہاتھوں پر کی گئی بیعت کو توڑ دے تو وہ شخص باغی شمار ہو گا اور شرائط کے ساتھ اس کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے۔

زوجہ کی سرکشی و طغیانیت

[ترمیم]

اگر شوہر کے مقابلے میں زوجہ کے کردار و رفتار اور اخلاق میں سرکشی و طغیانیت آ جائے، مثلا شوہر سے پہلے نرمی اور احترام سے پیش آتی تھی اور بعد میں کرخت لہجے، بد زبانی اور بد اخلاقی كا سلوک کرنا شروع کر دیا یا شوہر کے ساتھ ناروا سلوک اور سخت رویہ اختیار کرنا کر دے جبکہ پہلے اس کا رویہ ایسا نہیں ہوتا تھا تو اس صورت شوہر پہلے اسے سمجھائے اور نصیحت کرے اور جب دیکھے کہ نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے ہمراہ سونے سے اجتناب کرے۔ اگر پھر بھی اثر نہ ہو اور زوجہ حقِ زوجیت ادا نہ کرنے کی وجہ سے ناشزہ کے حکم میں آ جائے تو اس مقدار میں اس کو مار سکتا ہے کہ جس سے نہ زوجہ کو کوئی زخم آئے اور نہ ہی اس کے جسم بر کوئی نشان پڑے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، ج۳، ص۳۹۔    
۲. زین الدین، محمد امین، کلمۃ التقوی، ج۲، ص ۸۵۔
۳. اصفہانی، ابو الحسن، وسیلۃ النجاة، ص۷۵۵۔    
۴. سبزواری، عبد الاعلی، مہذب الاحکام فی بیان حلال والحرام، ج۲۵، ص۲۲۰-۲۲۱۔    


مأخذ

[ترمیم]
فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم‌ السلام، ج ۵، ص۱۸۷۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : جہاد | طلاق | فقہ | ماں باپ کی قضاء نمازیں




جعبه ابزار