لعل

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



کلمہِ لَعَلَّ امید و رجاء کے معنی میں آتا ہے۔ امید اور رجاء کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اگر مستقبل میں ایک عمل کے انجام پانے کی توقع اور امید پائی جائے تو عربی زبان میں اس کو لَعَلَّ کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ لَعَلَّ اگر انسان کے کلام میں آئے تو اس کا معنی واضح اور روشن ہے کیونکہ انسان مستقبل کے بارے میں نہیں جانتا اس لیے اس کی توقع اور امید رکھ سکتا ہے۔ لہذا انسان کے کلام میں اس کے آنے کی صورت میں معنی واضح ہے۔ مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے کہ جب یہ لفظ کلامِ الہی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالی غیب سے آگاہ اور مستقبل کا تمام علم رکھتا ہے۔ لہذا اگر کلامِ الہی میں لعل استعمال ہو تو اس کا کیا معنی بنے گا ؟


لَعَلَّ سے مراد

[ترمیم]

لَعَلَّ حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ اس لفظ کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہو اس کے مبتدا کو اپنا اسم بناتے ہوئے منصوب کر دیتا ہے اور خبر کو مرفوع کرتا ہے۔ اس کا معنی امید اور توقع رکھںا ہے۔ لَعَلَّ اگر انسان کے کلام میں استعمال ہو تو اس کا معنی واضح اور روشن ہے کیونکہ عموما انسان مستقبل سے باخبر نہیں ہے اس لیے وہ مستقبل کے بارے میں امید رکھ سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالی کے کلام میں لَعَلَّ کا لفظ استعمال ہو کیونکہ اللہ تعالی مستقبل سے کاملًا با خبر ہے اس لیے وہ مستقبل میں ہمیشہ ٹھوس، مضبوط اور محکم بات بیان فرمائے گا۔

ایک اہم سواال

[ترمیم]

متعدد آیات کریمہ میں اللہ تعالی نے کلام کرتے ہوئے لَعَلَّ استعمال کیا ہے، مثلا اللہ تعالی نے ایسا کیوں فرمایا ہے: لَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُوا مُؤْمِنين‌؛ شاید آپ اپنے آپ کو (غم و حزن) سے ہلاک کر ڈالیں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے یا نہیں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالی نے لَعَلَّ کو استعمال کیا ہے جس کا مطلب مستقبل کے امور کا حتمی علم نہ ہونے پر ہے؟!

لَعَلَّ کے بارے میں مختلف نظریات

[ترمیم]

اس سوال کے جواب لَعَلَّ کے مختلف معانی پیش کیے جاتے ہیں:

← لَعَلَّ بمعنی سبب


کلامِ الہی میں لَعَلَّ علت اور سبب کو بیان کرنے آیا ہے: ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون؛ پھر ہم نے اس کے بعد تم لوگوں کو معاف کر دیا تاکہ تم لوگ شکر گزار بن جاؤ۔ اس آیت میں لَعَلَّ کا ترجمہ تاکہ ہو گا جس کے ذریعے معاف کرنے کا سبب بیان کیا جا رہا ہے۔

← لَعَلَّ بمعنی امید دلانے کے لیے


بعض اوقات لَعَلَّ مخاطب یا سامع کو امید دلانے اور اس کو مایوسی کی بجائے توقع و رجاء کی طرف لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیساکہ ارشادِ باری تعالی ہوتا ہے: فَقُولا لَهُ قَوْلاً لَيِّناً لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشى‌؛ آیت کریمہ میں جناب موسی ؑ اور جناب ہارون ؑ کو امید دلائی جا رہی ہے کہ ممکن ہے کہ فرعون ایمان لے آئے۔ یعنی آپ دونوں فرعون سے ایمان قبول کرنے کی امید رکھتے ہوئے نرم لہجے میں گفتگو کریں۔

← لَعَلَّ بمعنی موقع سے تعلق ہونا


بسا اوقات امید کا تعلق متکلم کی بجائے موقع و محل سے ہوتا ہے جیساکہ آیت کریمہ میں وارد ہوا ہے: لَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُوا مُؤْمِنين‌؛ شاید آپؐ (اس غم و حزن) میں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔ یہاں پر لَعَلَّ امید کا تعلق اللہ تعالی سے نہیں بلکہ موقع اور مناسبت سے ہے کہ جو شخص بھی اس حالت میں آپؐ کو دیکھے تو کہہ اٹھے گا کہ یہ شخص ممکن ہے اس راہ میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے۔

وضاحت

[ترمیم]

گذشتہ گفتگو سے معلوم ہو گیا کہ ان معانی کو پیش کرنے والے قائل ہیں کہ لَعَلَّ قرآن کریم کی بعض آیات میں اپنے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر ان آیات کو ملاحظہ کریں جن میں لفظِ لَعَلَّ آیا ہے تو معلوم ہو گا کہ ان آیات میں لَعَلَّ ایک معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ حکم اور موضوع کی مناسبت سے متعدد معانی میں سے ایک معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اکثر و بیشتر مفسرین قائل ہیں کہ ان آیات میں لَعَلَّ بمعنی کَیۡ یعنی علت اور سبب کو بیان کرنے آیا ہے، قرآن کریم کی آیت کریمہ ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون‌، اس آیت کریمہ کے ذیل میں مرحوم طبرسی نے لَعَلَّ کی تفسیر کَیۡ کرتے ہوئے لکھا ہے: آیت کریمہ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون‌ کا معنی یہ ہے کہ تم اللہ کی منع کردہ چیزوں سے احتناب کرو اور اس میں زہد اختیار کرو تاکہ اللہ کے اس ثواب تک پہنچنے مین کامیاب ہو جائے اس نے متقین کے لیے جس کی ضمانت خود دی ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. صفائی بوشہری، غلام‌ علی، ترجمہ و شرح مغنی الادیب، ج۲، ص۲۰۱۔    
۲. شعراء/سوره۲۶، آیت ۳۔    
۳. بقره/سوره۲، آیت ۵۲۔    
۴. طه/سوره۲۰، آیت ۴۴۔    
۵. شعراء/سوره۲۶، آیت ۳۔    
۶. قرشی، سید علی‌ اکبر، قاموس قرآن، ج۶، ص۱۹۳ ۱۹۴۔    
۷. راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص۴۵۱۔    
۸. بقره/سوره۲، آیت ۱۸۹۔    
۹. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۲۸۔    
۱۰. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص ۵۰۹۔    


مأخذ

[ترمیم]
مقالہ لَعَلَّ اسلام کوئسٹ ویب سائٹ سے لیا گیا ہے، آخری بار مشاہدہ کرنے کی تاریخ:۲۰۱۹/۱۱/۲۷۔    






جعبه ابزار