حال

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



لفظِ حال مختلف علوم میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ حال کی دلالت اکثر و بیشتر زمانہِ حال پر ہوتی ہے جو ماضی اور مستقبل کے درمیان کا زمانہ ہے جسے زمانہِ حاضر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ علم نحو میں حال سے مراد وہ اسم نکرہ ہے جو فاعل یا مفعول کی حالت کو بیان کرے۔ جبکہ علم کلام میں معتزلہ اس سے مراد وجود اور عدم کے درمیان ایک واسطہ لیتے ہیں اور اہل حق اس کو خصوصی عطاء اور عنایت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جو مقام کے مقابلے میں ہے۔ حکماء نے اس سے نفس میں راسخ نہ ہونے والے اوصاف مراد لیے ہیں۔


حال کے لغوی اور اصولی معنی

[ترمیم]

عربی لغت میں لفظِ حال کے اصلی حروف ح-و-ل ہیں جس کے درج ذیل معانی وارد ہوئے ہیں:
۱. کلمہِ حال کا ایک اصلی معنی دائرے میں حرکت کرنا ہے۔ اسی سے سال کو حوۡل کہتے ہیں کیونکہ اس میں جہاں سے آغاز ہوتا ہے سورج کی مشرق و مغرب پر مختلف حرکات و سکنات سے گزر کر دوبارہ اسی مہینے تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو حَوۡل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پس حَوۡل کی دلالت کامل سال پر ہوتی ہے۔
۲. تحرّک و قدرت۔
۳. حال یعنی وہ وقت جس میں آپ موجود ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ حال لغت میں اس زمانے کو کہتے ہیں جو ماضی کا اختتام ہو اور مستقبل کا آغاز۔ پس حال سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں ماضی ختم ہو جاتا ہے اور اس سے آئندہ کا زمانہ یعنی مستقبل شروع ہوتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حال دو زمانوں کے درمیان برزخ یعنی ماضی اور مستقبل کے درمیان برزخ ہے۔ حال کا ایک معنی دو چیزوں کے درمیان حائل ہونا ہے، ممکن ہے کہ زمانہِ حال کو اس لیے حال کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ماضی اور مستقبل کے درمیان حائل ہوتا ہے۔
۴. تغیر اور تبدُّل، تحوُّل یعنی تبدیل ہو جانا۔
علم اصولی فقہ میں حال سے مراد زمانہِ حال لیا جاتا ہے۔ اصولیوں نے مشتق کی بحث میں حال کے لفظ کا خصوصی استعمال کیا ہے اور اس سے مراد اس کے لغوی معنی لیے ہیں۔ کیونکہ ایک ذات ایک صفت کے ساتھ یا تو ماضی میں متلبس و متصف رہی ہے یا مستقبل میں ہو گی یا حال میں متصف ہے۔ اسی طرح اصولیوں نے جملہ کی بحث میں زمانے پر دلالت کے اعتبار سے ہیئت جملہ کے ذیل میں دقت کے ساتھ جائزہ لیا ہے کہ فعل کی زمانے پر دلالت کیسے اور کس اعتبار سے ہوتی ہے۔

علم نحو میں حال کے معنی

[ترمیم]

علم نحو میں اسماءِ معربہ کے ذیل میں منصوبات کو پڑھا جاتا ہے جس میں سے ایک حال ہے۔ حال سے مراد وہ کلمہ ہے جو لفظ یا معنی کے اعتبار سے فاعل یا مفعول کی حالت کو بیان کرے حال منصوبات میں سے شمار ہوتا ہے اس لیے بعض نے اس کی تعریف میں فضلة یعنی اضافی جزء ہونے کی قید لگائی ہے تاکہ اس سے اس صفت کو خارج کریں جو کلام کا ضروری جزء قرار پاتی ہے، مثلا جاء زید راکبا، دَعوتُ اللہَ سَمِیۡعًا۔ اکثر و بیشتر حال اسم نکرہ، منصوب اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے والے اوصاف پر دلالت کرتا ہے اور مشتق ہوتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی حال صفتِ دائمی کے معنی میں بھی آتا ہے اور اسماءِ جامدہ سے بھی آ جاتا ہے لیکن اس صورت میں ان اسماء جامدہ کا معنی مشتق والا کیا جائے گا۔

متکلمین کی نظر میں

[ترمیم]

متکلمین کے نزدیک حال ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ شیء ہے جو اپنے علاوہ کسی دوسری جگہ پر حلول کر جائے۔ ہر وہ شیء جو کسی دوسری شیء پر طاری ہو اس کو حَالَ اور اس جگہ کو مَحَلّ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ البتہ عرض اور حال میں فرق ہے اور دونوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ پس ہر عرض حال ہے لیکن ہر حال عرض نہیں ہے کیونکہ عرض اخصّ ہے اور حال اعمّ ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے بعض حال جوہر ہوں۔ اس صورت میں حال موضوع کا محتاج نہیں ہو گا بلکہ مادہ کا محتاج ہو گا۔ لیکن اگر حال عرض ہو کہ عرض ہمیشہ حال ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ موضوع کا محتاج ہو گا، مثلا سفید جسم، اس میں سفید رنگ عرض و حال ہے اور موضوع کا محتاج ہو گا۔ یہاں موضوع سے مراد وہ مَحَلّ ہے جس کا محتاج عرض یا حال ہوتا ہے۔ موضوع ہمیشہ خود قوام اور استقلال رکھتا ہے اور خارج میں اپنے وجود میں اپنے غیر کا محتاج نہیں ہوتا برخلاف عرض کے۔ عرض اس وقت تک خارج میں وجود میں نہیں آ سکتا جب تک کوئی موضوع نہ ہو جس پر وہ طاری ہو۔ پس اس موضوع کو مَحَلّ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عرض اور موضوع میں عموم خصوص من وجہ کی نسبت پائی جاتی ہے۔

← اشاعرہ کا نظریہ حال


اشاعرہ قائل ہیں کہ اگر دو چیزیں ہو جن میں سے ایک دوسری کے ساتھ مختص ہو، ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کریں تو دوسرے کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے، دوسری چیز اپنے وجود میں مستغنی و بے نیاز ہے۔ اس صورت میں محتاج چیز کو حال اور بے نیاز و مستغنی کو مَحَلّ کہا جائے گا۔ اکابرِ اشاعرہ امام الحرمین اور قاضی ابو بکر باقلانی معتقد ہیں کہ معلوم کا اگر خارج میں کوئی ثبوت نہیں ہے تو اس کو معدوم کہتے ہیں اور اگر خارج میں اس کا ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ ثبوت یا مستقل اور بذاتہ ہو گا تو اس کو وجود کہتے ہیں ورنہ غیر مستقل اور غیر کی اتباع کر رہا ہو گا اس کو اصطلاح میں حال کہتے ہیں۔

← معتزلہ کا نظریہ حال


معتزلہ کے نزدیک حال سے مراد صفتِ ثبوتیہ ہے جو وجود اور عدم کے درمیان ہوتی ہے۔ یعنی وہ صفت جو ایسے موصوف کی صفت قرار پاتی ہے جو نہ وجود کے ساتھ متصف ہوتا ہے اور نہ عدم کے ساتھ۔ حال کہلاتی ہے۔ معتزلہ کا نظریہ ہے کہ وجود اور عدم کے درمیان ایک واسطہ ہے جسے حال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دین اسلام کے بقیہ مکاتب فکر خصوصا مکتبِ امامیہ نے شدت سے اس نظریہ کی نفی کی ہے کیونکہ ہم واضح اور بدیہی طور پر وجود اور عدم کے درمیان کسی واسطہ کو نہیں پاتے۔ جواحہ طوسی نے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معتزلہ کے مشایخ نے ثبوت کو وجود، عدم اور ان کے درمیان واسطہ جسے حال کہا جاتا ہے میں تقسیم کیا ہے اور ان تین کے علاوہ ہر قسم کے ثبوت کی نفی کی ہے۔ جبکہ حکماء کہتے ہیں کہ موجود یا تو خارجی ہو گا یا ذہنی، یا ہر دو ہو گا یا معدوم ہو گا۔

اہل عرفان کی نظر میں

[ترمیم]

عرفاء نے سالک کے مختلف مراتب، مقامات اور منازل بیان کی ہیں اور اس پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے۔ انہی میں سے ایک حال ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معنی یا عنایتِ الہی جو اہل حق کے قلب پر بغیر کسی تصنع و کسب و حزن کے وارد ہوتا ہے اس کو حال کہا جاتا ہے۔ پس احوال مواہب و عنایات ہیں، جبکہ مقامات کسب کیے جاتے ہیں۔ احوال عینِ جود و کرم سے آتے ہیں جبکہ مقامات مشقت و زحمت اور انتھک محنت کے بعد حاصل کیے جاتے ہیں۔ اہل سیر و سلوک کے نزدیک حال قلب پر طاری ہونے والی ایسی حالت ہے جو بغیر دقت و زحمت و کسب کے طاری ہوتی ہے اور صاحبِ حال کی حالت اور اس کے اوصاف کو تبدیل کر کے رکھ دیتی ہے۔ یہ حالت اپنے دوام اور زوال کے اعتبار سے مختلف افراد پر مختلف ہوتی ہے۔ بعض ایسے افراد ہوتے ہیں جن پر یہ دائمی طور پر یہ حالت طاری رہتی ہے اور بعض پر ہمیشگی نہیں ہوتی بلکہ حالت زائل ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال متکلمین کی اصطلاح میں عرض سے دی جا سکتی ہے۔

فلاسفہ و حکماء کی نظر میں

[ترمیم]

فلاسفہ نے حال سے مراد انسانی نفس کے وہ اوصاف مراد لیے ہیں جو نفسِ انسانی میں راسخ نہیں ہو پاتے۔ پس ان کے نزدیک حال ملکہ کے مقابلے میں ہے۔ ملکہ کا مطلب نفس میں راسخ اوصاف و کمالات ہیں ۔ لیکن اگر اوصاف یا کمالات ابھی نفس میں راسخ نہیں ہوئے تو اس کو حال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ابن فارس، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۲، ص ۱۲۱۔    
۲. طریحی، فخر الدین، مجمع البحرین، ج ۱، ص ۵۹۹۔    
۳. حسینی زبیدی، محمد مرتضی، تاج العروس من جواہر القاموس، ج ۲۸، ص ۳۷۴۔    
۴. فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج ۳، ص ۲۹۹۔    
۵. جرجانی، سید شریف، کتاب التعریفات، ص ۸۱۔    
۶. جابلقی، محمد شفیع بن علی، القواعد الشریفۃ، ص ۱۳۔    
۷. خمینی، سید مصطفی خمینی، تحریرات فی الاصول، ص ۳۶۴۔    
۸. استرآبادی، رضی الدین، شرح الرضی علی الکافیۃ، ج ۲، ص۷ ۔    
۹. ابن عقیل، عبد اللہ بن عبد الرحمن، ج ۱، ص ۲۷۵۔    
۱۰. لاہیجی، عبد الرزاق، شوارق الالہام فی شرح تجرید الکلام، ج ۳، ص ۴۰۔    
۱۱. فخر الدین رازی، محمد بن عمر، الاربعین فی اصول الدین، ج ۱، ص ۲۰۔    
۱۲. لاہیجی، عبد الرزاق، شوارق الالہام فی شرح تجرید الکلام، ج ۱، ص ۲۴۵۔    
۱۳. متعدد مؤلفین کی طرف سے، شرح المصطلحات الکلامیۃ، ص ۱۱۳۔    
۱۴. خواجہ نصیر الدین طوسی، محمد بن حسن، قواعد العقائد، ص ۲۸۔    
۱۵. جرجانی، سید شریف، کتاب التعریفات، ص ۸۱۔    
۱۶. ابن عربی، محیی الدین، الفتوحات المکیۃ، ج ۲، ص ۳۸۴۔    
۱۷. قاضی نگری، عبد النبی احمد، جامع العلوم فی اصطلاحات فنون الملقب بدستور العلماء، ج ۲، ص ۴۔    


مأخذ

[ترمیم]
ویکی فقہ اردو سے مربوط گروہِ محققین کی طرف سے یہ مقالہ ایجاد کیا گیا ہے۔






جعبه ابزار