امام علیؑ اور قرآنی سوالات

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



اس مضمون میں امیر المومنینؑ سے متعلق پوچھے جانے والے قرآنی سوالات کو پیش کیا گیا ہے۔


امام علیؑ کی شان میں آیات

[ترمیم]

سوال ۱: براہ کرم، حضرت علیؑ کی شان میں نازل ہونے والی آیات کو سورت کا نام اور آیت کا نشان ذکر کر کے بیان کریں؟!
جواب: قرآن میں ایسی آیات موجود ہیں جو شیعہ و سنی کے بقول آئمہؑ کی امامت، ولایت اور عصمت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں؛ ان میں سے منجملہ ذیل کی آیات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

آیتِ کمال دین

[ترمیم]

یہ آیت شریفہ سورہ مائدہ کی آیت ۳ ہے، ارشاد الہٰی ہے: «الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا...» ؛ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو تمہارے اوپر تمام کر دیا ہے اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند کر لیا ہے۔
’’الیوم‘‘ سے مراد، غدیر خم کا دن ہے کہ جب پیغمبر اکرمؐ نے امیر المومنینؑ کو باقاعدہ طور پر اپنی جانشینی کیلئے متعین کیا اور اسی دن اسلام اپنے کمال کو پہنچا اور خدا کی نعمت علی بن ابی طالبؑ جیسے شائستہ رہبر کی تقرری کے ساتھ کامل ہوئی۔

آیتِ تبلیغ

[ترمیم]

یہ آیت، سورہ مائدہ کی آیت ۶۷ ہے۔ جس میں ارشاد ہے: اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔
خدائے متعال اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ اس اہم مسئلے (پیغمبرؐ کیلئے جانشین کا انتخاب اور اسلام و مسلمین کی سرنوشت) کو لوگوں کے سامنے ابلاغ کر دیں۔

آیت تطہیر

[ترمیم]

یہ آیت مبارکہ سورہ احزاب کی آیت ۳۳ ہے جس میں ارشاد ہے: «انما یریدالله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا»؛
یہ آیت آل عبا کی پانچ ذوات مقدسہ یعنی پیغمبر اکرمؐ، علی، فاطمہ، حسن و حسینؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان پنجتن کی عصمت کو ثابت کرتی ہے اور یہ آیت تطہیر کے نام سے معروف ہے۔

آیتِ ولایت

[ترمیم]

یہ سورہ مائدہ کی آیت ۵۵ ہے کہ فرمایا: ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔
ابوذر غفاری نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول خداؐ کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ایک ضرورت مند مسجد میں آیا اور اس نے مدد مانگی؛ مگر کسی نے اسے کچھ نہیں دیا۔ سائل نے کہا: خدایا! تو گواہ ہے کہ رسول خداؐ کی مسجد میں کسی نے میری مدد نہیں کی! حضرت علیؑ اس وقت رکوع میں تھے اور اسی حال میں آپؑ نے اپنی انگشتر اسے عطا کر دی۔ پیغمبر اکرمؐ کو یہ ماجرا معلوم ہوا تو فرمایا: خدایا! میں محمدؐ تیرا پیغمبر اور برگزیدہ ہوں۔ میرا سینہ کشادہ فرما اور میرے کاموں کو آسان کر دے۔ میرے خاندان میں سے علیؑ کو میرا وزیر بنا دے تاکہ اس کے وسیلے سے میری کمر مضبوط ہو۔ ابھی پیغمبرؐ کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ جبرئیلؑ پیغمبرؐ پر یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔

آیتِ اطعام

[ترمیم]

یہ دھر کی آیت ۸ ہے: «و یطعمون الطعام علی حبه مسکینا و یتیما و اسیرا»
اس آیت کا شان نزول بھی اہل بیتؑ کے بارے میں ہے۔

آیتِ مباہلہ

[ترمیم]

یہ سورہ آل عمران کی آیت ۶۱ ہے۔ مفسرین نے کہا ہے: یہ آیت نجران کے ایک گروہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ پیغمبرؐ نے جنہیں مباہلے کی دعوت دی۔ انہوں نے اگلے دن تک کی مہلت مانگی اور نجران کی شخصیات سے بات چیت کرنے کے بعد ان کے اسقف (لاٹ پادری) نے انہیں کہا: تم کل محمد کو دیکھو۔ اگر اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ مباہلے کیلئے آئے تو ان کے ساتھ مباہلے سے ڈرو اور اگر اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے تو ان کے ساتھ مباہلہ کرو۔
اگلے دن پیغمبر اکرمؐ اس عالم میں تشریف لائے کہ علی بن ابی طالبؑ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور امام حسنؑ و امام حسینؑ آگے آگے چل رہے تھے اور حضرت فاطمہؑ آپؐ کے پیچھے تھیں۔ نصاریٰ بھی باہر نکلے اس حال میں کہ ان کا اسقف آگے آگے تھا۔ اس نے پیغمبرؐ کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا، اسے بتایا گیا: یہ آپؐ کے چچا زاد، داماد اور مخلوق میں سے ان کے محبوب ترین ہیں اور یہ دو بچے، ان کی بیٹی کے ہیں جو علیؑ کی اولاد ہیں اور وہ معظمہ خاتون ان کی بیٹی فاطمہُ ہیں جو ان کے قلب میں عزیز ترین ہیں ۔۔۔ اسقف نے کہا: میں ایک ایسے مرد کو دیکھ رہا ہوں جو مباہلے کا پوری جرات کے ساتھ اقدام کر رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ سچا ہو گا اور اس صورت میں خدا کی قسم ! ایک سال بھی نہیں گزرے گا کہ دنیا میں کوئی عیسائی باقی نہیں رہے گا جو پانی نوش کرے۔ لہٰذا پیغمبرؐ سے عرض کیا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ مصالحہ کریں گے اور پیغمبرؐ نے ان کے ساتھ مصالحت کر لی۔

امام علیؑ اور تعلیم قرآن

[ترمیم]

سوال ۲: حضرت علیؑ نے کب اور کتنے برس میں پیغمبرؐ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی؟!
جواب: علیؑ ابھی دس برس کے بھی نہیں تھے کہ پیغمبرؐ رسالت پر مبعوث ہوئے۔
[۷] فروغ ولایت، آیت‌الله سبحانی، ص۳۵۔
اس وقت سے عمر کے آخر تک پیغمبرؐ رسول خداؐ کی خدمت میں رہے اور تمام علوم منجملہ قرآن کی تعلیم حاصل کی؛ چنانچہ حضرت علیؑ اس بارے میں فرماتے ہیں: پیغمبرؐ پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی مگر یہ کہ میرے سامنے اس کی تلاوت کی تاکہ میں اسے لکھ لوں۔ میں نے اپنے خط سے آیات کو لکھا۔ پیغمبرؐ نے آیات کی تفسیر و تاویل ۔۔۔ کا علم بھی مجھے عطا کیا اور میرے لیے دعا کی کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسے فراموش نہ کروں اور جب سے پیغمبرؐ نے میرے حق میں دعا کی ہے، اس کے بعد میں نے کوئی آیت فراموش نہیں کی۔

امام صادقؑ کی ایک حدیث

[ترمیم]

عن ابی عبدالله علیه‌السّلام قال: «ان الله تعالی علم رسوله القرآن و علمه اشیاء سوی ذلک فما علم الله رسوله فقد علم رسوله علیا»؛ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قرآن کی تعلیم دی اور اس کے علاوہ بھی دیگر معارف کی تعلیم دی؛ جو علم اللہ نے اپنے رسولؐ کو دیا وہ رسول اکرمؐ نے علیؑ کو تعلیم فرما دیا۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. مائده/سوره۵، آیه۳۔    
۲. مائده/سوره۵، آیه۶۷۔    
۳. احزاب/سوره۳۳، آیه۱۱۔    
۴. مائده/سوره۵، آیه۵۵۔    
۵. انسان/سوره۷۶، آیه۸۔    
۶. آل عمران/سوره۳، آیه۶۱۔    
۷. فروغ ولایت، آیت‌الله سبحانی، ص۳۵۔
۸. بحار الانوار، علامه مجلسی، ج۴۰، ص۲۰۹۔    


ماخذ

[ترمیم]
دانشنامه کلام و عقاید، ماخوذ از مقالہ «امام علی در پرسش های قرآنی».    


اس صفحے کے زمرہ جات : امام علیؑ | اہل بیتؑ کے فضائل




جعبه ابزار