خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
وَ قَالَ (عَلَيْهِالسَّلامُ): امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
«الرِّزْقُ رِزْقَانِ:»۱رزق دو طرح کا ہوتا ہے:
«طَالِبٌ، وَ مَطْلُوبٌ،»۲ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے
«فَمَنْ طَلَبَ الدُّنْیَا»۳چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے
«طَلَبَهُ الْمَوْتُ حَتَّى یُخْرِجَهُ عَنْهَا،»۴موت اس کو ڈھونڈتی ہے، یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے
«مَنْ طَلَبَ الْآخِرَةَ»۵اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوتا ہے
«طَلَبَتْهُ الدُّنْیَا حَتَّى یَسْتَوْفِیَ رِزْقَهُ مِنْهَا.»۶دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔