خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
اخلاقي
وَ مِنْ كَلام لَهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) امامؑ کے خطبات میں سے
شہادت سے پہلے فرمایا
«اَيُّهَا النّاسُ،»۱اے لوگو!
«كُلُّ امْرِئ لاقٍ ما یَفِرُّ مِنْهُ فى فِرارِهِ»۲ہر شخص اسی چیز کا سامنا کرنے والا ہے جس سے وہ راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہے
«وَ الْأَجَلُ مَسَاقُ النَّفْسِ،»۳اور جہاں زندگی کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے
«وَ الْهَرَبُ مِنْهُ مُوافاتُهُ»۴موت سے بھاگنا اسے پا لینا ہے
«كَمْ اَطْرَدْتُ الْأَیّامَ اَبْحَثُها عَنْ مَکْنُونِ هذَا الْأَمْرِ،»۵میں نے اس موت کے چھپے ہوئے بھیدوں کی جستجو میں کتنا ہی زمانہ گزارا
«فَاَبَی اللّهُ اِلَّا اِخْفاءَهُ!»۶مگر مشیت ایزدی یہی رہی کہ اس کی (تفصیلات) بے نقاب نہ ہوں
«هَیْهاتَ، عِلْمٌ مَخْزُونٌ.»۷اس کی منزل تک رسائی کہاں وہ تو ایک پوشیدہ علم ہے
۲. وصايا اميرالمؤمنين(عليهالسلام) «اَمّا وَصِیَّتی:»۸تو ہاں میری وصیت یہ ہے
«فَاللّهُ لَا تُشْرِکُوا بِهِ شَیْئاً،»۹کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ
«وَ مُحَمَّدٌ (صَلَّیاللّهُعَلَیْهِوَآلِهِ) فَلَا تُضَیِّعُوا سُنَّتَهُ»۱۰اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو
«اَقیمُوا هذَيْنِ الْعَمُودَیْنِ»۱۱ان دونوں ستونوں کو قائم و برقرار رکھو
«وَ اَوْقِدُوا هذَيْنِ الْمِصْباحَیْنِ.»۱۲اور ان دونوں چراغوں کو روشن کئے رہو
«وَ خَلَاکُمْ ذَمٌّ ما لَمْ تَشْرُدُوا»۱۳جب تک منتشر و پراگندہ نہیں ہوتے تم میں کوئی برائی نہیں آئے گی
«حُمِّلَ كُلُّ امْرِیء مِنْكُمْ مَجْهُودَهُ»۱۴تم میں سے ہر شخص اپنی وسعت بھر بوجھ اٹھائے
«وَ خُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ.»۱۵نہ جاننے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے
«رَبٌّ رَحیمٌ،»۱۶(کیونکہ) اللہ رحم کرنے والا
«وَ دینٌ قَویمٌ،»۱۷دین سیدھا (کہ جس میں کوئی الجھاؤ نہیں)
«وَ اِمامٌ عَلیمٌ»۱۸اور پیغمبرؐ عالم و دانا ہے
«اَنَا بِالْأَمْسِ صَاحِبُکُمْ،»۱۹میں کل تمہارا ساتھی تھا
«وَ اَنَا الْیَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ»۲۰اور آج تمہارے لئے عبرت بنا ہوا ہوں
«وَ غَداً مُفَارِقُکُمْ»۲۱اور کل تم سے چھوٹ جاؤں گا
«غَفَرَ اللّهُ لى وَ لَكُمْ.»۲۲خدا مجھے اور تمہیں مغفرت عطا کرے
«اِنْ تَثْبُتِ الْوَطْاَةُ فى هذِهِ الْمَزَلَّةِ فَذاكَ،»۲۳اگر اس پھسلنے کی جگہ پر قدم جمے رہے تو خیر
«وَ اِنْ تَدْحَضِ الْقَدَمُ»۲۴اور اگر قدموں کا جماؤ اکھڑ گیا
«فَاِنّا کُنّا فى اَفْیاءِ اَغْصان،»۲۵تو ہم بھی انہی (گھنی) شاخوں کی چھاؤں
«وَ مَهَبِّ رِیاح،»۲۶ہوا کی گزرگاہوں
«وَ تَحْتَ ظِلِّ غَمام»۲۷اور چھائے ہوئے ابر کے سایوں میں تھے
«اضْمَحَلَّ فِى الْجَوِّ مُتَلَفِّقُها،»۲۸(لیکن) اس کے تہ بہ تہ جمے ہوئے لکے چھٹ گئے
«وَ عَفَا فِى الْأَرْضِ مَخَطُّها»۲۹اور ہوا کے نشانات مٹ مٹا گئے۔
«وَ اِنَّما کُنْتُ جَاراً جاوَرَکُمْ بَدَنی اَیّاماً،»۳۰میں تمہارا ہمسایہ تھا کہ میرا جسم چند دن تمہارے پڑوس میں رہا
«وَ سَتُعْقَبُونَ مِنّى جُثَّةً خَلَاءً:»۳۱اور میرے مرنے کے بعد مجھے جسدِ بے روح پاؤ گے
«ساکِنَةً بَعْدَ حَراک،»۳۲کہ جو حرکت کرنے کے بعد تھم گیا
«وَ صامِتَةً بَعْدَ نُطُوق.»۳۳اور بولنے کے بعد خاموش ہو گیا
«لِیَعِظْکُمْ هُدُوّی، وَ خُفُوتُ اِطْراقی، وَ سُکُونُ اَطْرافی،»۳۴تاکہ میرا یہ سکون اور ٹھہراؤ اور آنکھوں کا مندھ جانا اور ہاتھ پیروں کا بے حس و حرکت ہو جانا تمہیں پند و نصیحت کرے
«فَاِنَّهُ اَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرینَ مِنَ الْمَنْطِقِ الْبَلیغِ وَ الْقَوْلِ الْمَسْمُوعِ»۳۵کیونکہ عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے یہ (منظر) بلیغ کلموں اور کان میں پڑنے والی باتوں سے زیادہ موعظت و عبرت دلانے والا ہوتا ہے
«وَداعی لَكُمْ وَداعُ امْرِئ مُرْصِد لِلتَّلاقی.»۳۶میں تم سے اس طرح رخصت ہو رہا ہوں جیسے کوئی شخص (کسی کی) ملاقات کیلئے چشم براہ ہو
«غَداً تَرَوْنَ اَیّامی»۳۷کل تم میرے اس دور کو یاد کرو گے
«وَ یُکْشَفُ لَكُمْ عَنْ سَرائِری،»۳۸اور میری نیتیں کھل کر تمہارے سامنے آ جائیں گی
«وَ تَعْرِفُونَنی بَعْدَ خُلُوِّ مَکانِی،»۳۹اور میری جگہ کے خالی ہونے سے تمہیں میری قدر و منزلت کی پہچان ہو گی
«وَ قِیامِ غَیْری مَقامی.»۴۰اور دوسروں کے اس مقام پر آنے سے۔