• خواندن
  • نمایش تاریخچه
  • ویرایش
 

خطبہ ۱۴۹ نہج البلاغہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔



اخلاقي



وَ مِنْ كَلام لَهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ)
امامؑ کے خطبات میں سے
قَبْلَ مَوْتِهِ
شہادت سے پہلے فرمایا

۱. الموت

«اَيُّهَا النّاسُ،»۱
اے لوگو!



«كُلُّ امْرِئ لاقٍ ما یَفِرُّ مِنْهُ فى فِرارِهِ»۲
ہر شخص اسی چیز کا سامنا کرنے والا ہے جس سے وہ راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہے



«وَ الْأَجَلُ مَسَاقُ النَّفْسِ،»۳
اور جہاں زندگی کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے



«وَ الْهَرَبُ مِنْهُ مُوافاتُهُ»۴
موت سے بھاگنا اسے پا لینا ہے



«كَمْ اَطْرَدْتُ الْأَیّامَ اَبْحَثُها عَنْ مَکْنُونِ هذَا الْأَمْرِ،»۵
میں نے اس موت کے چھپے ہوئے بھیدوں کی جستجو میں کتنا ہی زمانہ گزارا



«فَاَبَی اللّهُ اِلَّا اِخْفاءَهُ۶
مگر مشیت ایزدی یہی رہی کہ اس کی (تفصیلات) بے نقاب نہ ہوں



«هَیْهاتَ، عِلْمٌ مَخْزُونٌ۷
اس کی منزل تک رسائی کہاں وہ تو ایک پوشیدہ علم ہے

۲. وصايا اميرالمؤمنين(عليه‌السلام)

«اَمّا وَصِیَّتی۸
تو ہاں میری وصیت یہ ہے



«فَاللّهُ لَا تُشْرِکُوا بِهِ شَیْئاً،»۹
کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ



«وَ مُحَمَّدٌ (صَلَّی‌اللّهُ‌عَلَیْهِ‌وَ‌آلِهِ) فَلَا تُضَیِّعُوا سُنَّتَهُ»۱۰
اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو



«اَقیمُوا هذَيْنِ الْعَمُودَیْنِ»۱۱
ان دونوں ستونوں کو قائم و برقرار رکھو



«وَ اَوْقِدُوا هذَيْنِ الْمِصْباحَیْنِ۱۲
اور ان دونوں چراغوں کو روشن کئے رہو



«وَ خَلَاکُمْ ذَمٌّ ما لَمْ تَشْرُدُوا»۱۳
جب تک منتشر و پراگندہ نہیں ہوتے تم میں کوئی برائی نہیں آئے گی



«حُمِّلَ كُلُّ امْرِیء مِنْكُمْ مَجْهُودَهُ»۱۴
تم میں سے ہر شخص اپنی وسعت بھر بوجھ اٹھائے



«وَ خُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ۱۵
نہ جاننے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے



«رَبٌّ رَحیمٌ،»۱۶
(کیونکہ) اللہ رحم کرنے والا



«وَ دینٌ قَویمٌ،»۱۷
دین سیدھا (کہ جس میں کوئی الجھاؤ نہیں)



«وَ اِمامٌ عَلیمٌ»۱۸
اور پیغمبرؐ عالم و دانا ہے



«اَنَا بِالْأَمْسِ صَاحِبُکُمْ،»۱۹
میں کل تمہارا ساتھی تھا



«وَ اَنَا الْیَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ»۲۰
اور آج تمہارے لئے عبرت بنا ہوا ہوں



«وَ غَداً مُفَارِقُکُمْ»۲۱
اور کل تم سے چھوٹ جاؤں گا



«غَفَرَ اللّهُ لى وَ لَكُمْ.»۲۲
خدا مجھے اور تمہیں مغفرت عطا کرے



«اِنْ تَثْبُتِ الْوَطْاَةُ فى هذِهِ الْمَزَلَّةِ فَذاكَ،»۲۳
اگر اس پھسلنے کی جگہ پر قدم جمے رہے تو خیر



«وَ اِنْ تَدْحَضِ الْقَدَمُ»۲۴
اور اگر قدموں کا جماؤ اکھڑ گیا



«فَاِنّا کُنّا فى اَفْیاءِ اَغْصان،»۲۵
تو ہم بھی انہی (گھنی) شاخوں کی چھاؤں



«وَ مَهَبِّ رِیاح،»۲۶
ہوا کی گزرگاہوں



«وَ تَحْتَ ظِلِّ غَمام»۲۷
اور چھائے ہوئے ابر کے سایوں میں تھے



«اضْمَحَلَّ فِى الْجَوِّ مُتَلَفِّقُها،»۲۸
(لیکن) اس کے تہ بہ تہ جمے ہوئے لکے چھٹ گئے



«وَ عَفَا فِى الْأَرْضِ مَخَطُّها»۲۹
اور ہوا کے نشانات مٹ مٹا گئے۔



«وَ اِنَّما کُنْتُ جَاراً جاوَرَکُمْ بَدَنی اَیّاماً،»۳۰
میں تمہارا ہمسایہ تھا کہ میرا جسم چند دن تمہارے پڑوس میں رہا



«وَ سَتُعْقَبُونَ مِنّى جُثَّةً خَلَاءً۳۱
اور میرے مرنے کے بعد مجھے جسدِ بے روح پاؤ گے



«ساکِنَةً بَعْدَ حَراک،»۳۲
کہ جو حرکت کرنے کے بعد تھم گیا



«وَ صامِتَةً بَعْدَ نُطُوق۳۳
اور بولنے کے بعد خاموش ہو گیا



«لِیَعِظْکُمْ هُدُوّی، وَ خُفُوتُ اِطْراقی، وَ سُکُونُ اَطْرافی،»۳۴
تاکہ میرا یہ سکون اور ٹھہراؤ اور آنکھوں کا مندھ جانا اور ہاتھ پیروں کا بے حس و حرکت ہو جانا تمہیں پند و نصیحت کرے



«فَاِنَّهُ اَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرینَ مِنَ الْمَنْطِقِ الْبَلیغِ وَ الْقَوْلِ الْمَسْمُوعِ»۳۵
کیونکہ عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے یہ (منظر) بلیغ کلموں اور کان میں پڑنے والی باتوں سے زیادہ موعظت و عبرت دلانے والا ہوتا ہے



«وَداعی لَكُمْ وَداعُ امْرِئ مُرْصِد لِلتَّلاقی۳۶
میں تم سے اس طرح رخصت ہو رہا ہوں جیسے کوئی شخص (کسی کی) ملاقات کیلئے چشم براہ ہو



«غَداً تَرَوْنَ اَیّامی»۳۷
کل تم میرے اس دور کو یاد کرو گے



«وَ یُکْشَفُ لَكُمْ عَنْ سَرائِری،»۳۸
اور میری نیتیں کھل کر تمہارے سامنے آ جائیں گی



«وَ تَعْرِفُونَنی بَعْدَ خُلُوِّ مَکانِی،»۳۹
اور میری جگہ کے خالی ہونے سے تمہیں میری قدر و منزلت کی پہچان ہو گی



«وَ قِیامِ غَیْری مَقامی۴۰
اور دوسروں کے اس مقام پر آنے سے۔




جعبه ابزار