خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
سياسی، تاريخی
وَ مِنْ خُطْبَة لَهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) امامؑ کے خطبات میں سے
وَ قَدْ اَرْسَلَ رَجُلاً مِنْ اَصْحابِهِ يَعْلَمُ لَهُ عِلْمَ اَحْوالِ قَوْم مِنْ جُنْدِ الْكُوفَةِ قَدْ هَمُّوا بِاللَّحاقِ بِالْخَوارِجِ و كانُوا عَلى خَوْف مِنْهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ). حضرتؑ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو سپاہِ کوفہ کی ایک جماعت کی خبر لانے کیلئے بھیجا جو خارجیوں سے منضم ہو نے کا تہیہ کئے بیٹھی تھی، لیکن حضرتؑ سے خائف تھی
فَلَمّا عادَ اِلَيْهِ الرَّجُلُ قالَ لَهُ: «اَاَمِنُوا فَقَطَنُوا، اَمْ جَبُنُوا فَظَعَنُوا» چنانچہ جب وہ شخص پلٹ کر آیا تو آپؑ نے دریافت کیا کہ: کیا وہ مطمئن ہو کر ٹھہر گئے ہیں یا کمزوری و بزدلی دکھاتے ہوئے چل دیے ہیں
فَقالَ الرَّجُلُ: «بَلْ ظَعَنُوا يا اَمْيرَ الْمُؤْمِنينَ.» اس نے کہا: یا امیر المومنینؑ وہ تو چلے گئے
فَقالَ (عَلَيْهِالسَّلامُ): تو آپؑ نے ارشاد فرمایا:
تقريح المخدوعين من الخوارج «بُعْداً لَهُمْ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ!»۱انہیں قوم ثمود کی طرح خدا کی رحمت سے دوری ہو!
«أَمَا لَوْ أُشْرِعَتِ الْأَسِنَّةُ إِلَيْهِمْ،»۲دیکھنا جب نیزوں کے رخ ان کی طرف سیدھے ہوں گے
«وَ صُبَّتِ السُّیُوفُ عَلَى هَامَاتِهِمْ،»۳اور تلواروں کے وار ان کی کھوپڑیوں پر پڑیں گے
«لَقَدْ نَدِمُوا عَلَى مَا کَانَ مِنْهُمْ.»۴تو اپنے کئے پر پچھتائیں گے
«إِنَّ الشَّیْطَانَ الْیَوْمَ قَدِ اسْتَفَلَّهُمْ،»۵آج تو شیطان نے انہیں تتر بتر کر دیا ہے
«وَ هُوَ غَداً مُتَبَرِّئٌ مِنْهُمْ،»۶اور کل ان سے اظہار بیزاری کرتا ہوا ۔
«وَ مُخَلٍّ عَنْهُمْ.»(۱)۷ان سے الگ ہو جائے گا
«فَحَسْبُهُمْ بِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْهُدَی، وَ ارْتِکَاسِهِمْ فِي الضَّلَالِ وَ الْعَمَی، وَ صَدِّهِمْ عَنِ الْحَقِّ، وَ جِمَاحِهِمْ فِي التِّیهِ.»۸ان کا ہدایت سے نکل جانا، گمراہی و ضلالت میں جا پڑنا، حق سے منہ پھیر لینا اور ضلالتوں میں منہ زوریاں دکھانا ہی ان کے (مستحق عذاب) ہونے کیلئے کافی ہے۔
(۱) کچھ نسخوں میں
«وَ مُتَخَلٍّ عَنْهُمْ.» وارد ہوا ہے۔