• خواندن
  • نمایش تاریخچه
  • ویرایش
 

مکتوب ۲۳ نہج البلاغہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔



اخلاقي



وَ مِنْ كِتاب لَهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ)
امامؑ کے مکتوبات میں سے

قالَـهُ قُبَيْلَ مَوْتِـهِ عَلى سَبيـلِ الْوَصِيَّـةِ، لَمَّـا ضَرَبَـهُ ابْـنُ مُلْجَـم (لَعَنَـهُ‌اللّـهُ).
جب ابن ملجم نے آپؑ کے سر اقدس پر ضربت لگائی تو انتقال سے کچھ پہلے آپؑ نے بطور وصیت ارشاد فرمایا:

نصائح خالدة

«وَصِیَّتِی لَكُمْ:»۱
تم لوگوں سے میری وصیت ہے



«أَنْ لاَ تُشْرِکُوا بِاللهِ شَیْئاً۲
کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا



«وَ مُحَمَّدٌ (صَلَّی‌اللّهُ‌عَلَیْهِ‌وَآلِهِ) فَلاَ تُضَیِّعُوا سُنَّتَهُ،»۳
اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرنا



«أَقِیمُوا هذَيْنِ الْعَمُودَیْنِ،»۴
ان دونوں ستونوں کو قائم کئے رہنا



«وَ أَوْقِدُوا هذَيْنِ الْمِصْبَاحَیْنِ،»۵
اور ان دونوں چراغوں کو روشن رکھنا



«وَ خَلاَکُمْ ذَمٌّ۶
بس پھر برائیوں نے تمہارا پیچھا چھوڑ دیا



«أَنَا بِالاَْمْسِ صَاحِبُکُمْ،»۷
میں کل تمہارا ساتھی تھا



«وَ الْیَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ،»۸
اور آج تمہارے لئے (سراپا) عبرت ہوں



«وَ غَداً مُفَارِقُکُمْ۹
اور کل کو تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا



«إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِیُّ دَمِی،»۱۰
اگر میں زندہ رہا تو مجھے اپنے خون کا اختیار ہو گا



«وَ إِنْ أَفْنَ فَالْفَنَاءُ مِیعَادِی،»۱۱
اور اگر مر جاؤں تو موت میری وعدہ گاہ ہے



«وَ إِنْ أَعْفُ فَالْعَفْوُ لِي قُرْبَةٌ،»۱۲
اگر معاف کر دوں تو یہ میرے لئے رضائے الٰہی کا باعث ہے



«وَ هُوَ لَكُمْ حَسَنَةٌ،»۱۳
اور وہ تمہارے لئے بھی نیکی ہو گی



«فَاعْفُو۱۴
پس معاف کر دو



(أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَکُمْ)

(۱)۱۵
«کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟»



«وَاللهِ مَا فَجَأَنِی مِنَ الْمَوْتِ وَارِدٌ کَرِهْتُهُ،»۱۶
خدا کی قسم! یہ موت کا ناگہانی حادثہ ایسا نہیں ہے کہ میں اسے نا پسند جانتا ہوں



«وَ لاَ طَالِعٌ أَنْکَرْتُهُ۱۷
اور نہ یہ ایسا سانحہ ہے کہ میں اسے برا جانتا ہوں



«وَ مَا کُنْتُ إِلاَّ کَقَارِب وَرَدَ،»۱۸
میری مثال بس اس شخص کی سی ہے جو رات بھر پانی کی تلاش میں چلے اور صبح ہوتے ہی چشمہ پر پہنچ جائے



«وَ طَالِب وَجَدَ۱۹
اور اس ڈھونڈنے والے کی مانند ہوں جو مقصد کو پالے



(وَ مَا عِنْدَ اللهِ خَیْرٌ لِلاَْبْرَارِ)

(۲)۲۰
«اور جو اللہ کے یہاں ہے وہی نیکو کاروں کیلئے بہتر ہے»

اَقُولُ: وَ قَدْ مَضى بَعْضُ هذَا الْكَلامِ فيما تَقَدَّمَ مِنَ الْخُطَبِ اِلاّ اَنَّ فيهِ ههُنا زِيادَةً اَوْجَبَـتْ تَكْريرَهُ.
سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ اس کلام کا کچھ حصہ (خطبہ ۱۴۹) میں گزر چکا ہے، مگر یہاں کچھ اضافہ تھا جس کی وجہ سے دوبارہ درج کرنا ضروری ہوا۔



(۱) نور/سوره۲۴، آیت۲۲۔    
(۲) آل عمران/سوره۳، آیت۱۹۸۔    




جعبه ابزار