خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
اخلاقي
وَ مِنْ كِتاب لَهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) امامؑ کے مکتوبات میں سے
قالَـهُ قُبَيْلَ مَوْتِـهِ عَلى سَبيـلِ الْوَصِيَّـةِ، لَمَّـا ضَرَبَـهُ ابْـنُ مُلْجَـم (لَعَنَـهُاللّـهُ). جب ابن ملجم نے آپؑ کے سر اقدس پر ضربت لگائی تو انتقال سے کچھ پہلے آپؑ نے بطور وصیت ارشاد فرمایا:
«وَصِیَّتِی لَكُمْ:»۱تم لوگوں سے میری وصیت ہے
«أَنْ لاَ تُشْرِکُوا بِاللهِ شَیْئاً;»۲کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا
«وَ مُحَمَّدٌ (صَلَّیاللّهُعَلَیْهِوَآلِهِ) فَلاَ تُضَیِّعُوا سُنَّتَهُ،»۳اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرنا
«أَقِیمُوا هذَيْنِ الْعَمُودَیْنِ،»۴ان دونوں ستونوں کو قائم کئے رہنا
«وَ أَوْقِدُوا هذَيْنِ الْمِصْبَاحَیْنِ،»۵اور ان دونوں چراغوں کو روشن رکھنا
«وَ خَلاَکُمْ ذَمٌّ!»۶بس پھر برائیوں نے تمہارا پیچھا چھوڑ دیا
«أَنَا بِالاَْمْسِ صَاحِبُکُمْ،»۷میں کل تمہارا ساتھی تھا
«وَ الْیَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ،»۸اور آج تمہارے لئے (سراپا) عبرت ہوں
«وَ غَداً مُفَارِقُکُمْ.»۹اور کل کو تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا
«إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِیُّ دَمِی،»۱۰اگر میں زندہ رہا تو مجھے اپنے خون کا اختیار ہو گا
«وَ إِنْ أَفْنَ فَالْفَنَاءُ مِیعَادِی،»۱۱اور اگر مر جاؤں تو موت میری وعدہ گاہ ہے
«وَ إِنْ أَعْفُ فَالْعَفْوُ لِي قُرْبَةٌ،»۱۲اگر معاف کر دوں تو یہ میرے لئے رضائے الٰہی کا باعث ہے
«وَ هُوَ لَكُمْ حَسَنَةٌ،»۱۳اور وہ تمہارے لئے بھی نیکی ہو گی
«فَاعْفُو:»۱۴پس معاف کر دو
(أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَکُمْ)
(۱)۱۵«کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟»
«وَاللهِ مَا فَجَأَنِی مِنَ الْمَوْتِ وَارِدٌ کَرِهْتُهُ،»۱۶خدا کی قسم! یہ موت کا ناگہانی حادثہ ایسا نہیں ہے کہ میں اسے نا پسند جانتا ہوں
«وَ لاَ طَالِعٌ أَنْکَرْتُهُ;»۱۷اور نہ یہ ایسا سانحہ ہے کہ میں اسے برا جانتا ہوں
«وَ مَا کُنْتُ إِلاَّ کَقَارِب وَرَدَ،»۱۸میری مثال بس اس شخص کی سی ہے جو رات بھر پانی کی تلاش میں چلے اور صبح ہوتے ہی چشمہ پر پہنچ جائے
«وَ طَالِب وَجَدَ.»۱۹اور اس ڈھونڈنے والے کی مانند ہوں جو مقصد کو پالے
(وَ مَا عِنْدَ اللهِ خَیْرٌ لِلاَْبْرَارِ)
(۲)۲۰«اور جو اللہ کے یہاں ہے وہی نیکو کاروں کیلئے بہتر ہے»
اَقُولُ: وَ قَدْ مَضى بَعْضُ هذَا الْكَلامِ فيما تَقَدَّمَ مِنَ الْخُطَبِ اِلاّ اَنَّ فيهِ ههُنا زِيادَةً اَوْجَبَـتْ تَكْريرَهُ. سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ اس کلام کا کچھ حصہ (خطبہ ۱۴۹) میں گزر چکا ہے، مگر یہاں کچھ اضافہ تھا جس کی وجہ سے دوبارہ درج کرنا ضروری ہوا۔
(۱)
نور/سوره۲۴، آیت۲۲۔ (۲)
آل عمران/سوره۳، آیت۱۹۸۔