خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
اقتصادية
وَ مِنْ وَصِيَّة لَهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) امامؑ کی وصیتوں میں سے
بِما يُعْمَلُ فى اَمْوالِهِ، كَتَبَها بَعْدَ مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفّينَ حضرتؑ کی وصیت اس امر کے متعلق کہ آپؑ کے اموال میں کیا عمل درآمد ہو گا۔ اسے صفین سے پلٹنے کے بعد تحریر فرمایا:
«هذَا مَا أَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِب أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فِي مَالِهِ،»۱یہ وہ ہے جو خدا کے بندے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے اموال (اوقاف) کے بارے میں حکم دیا ہے
«ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ،»۲محض اللہ کی رضا جوئی کیلئے
«لِیُولِجَهُ بِهِ الْجَنَّةَ،»۳تاکہ وہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل کرے
«وَ یُعْطِیَهُ بِهِ الاَْمَنَةَ (الأمنيّه).»۴اور امن و آسائش عطا فرمائے
اس وصیت کا ایک حصہ یہ ہے
«فَإِنَّهُ یَقُومُ بِذلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ»۵حسن ابن علی علیہما السلام اس کے متولی ہوں گے
«یَأْکُلُ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ،»۶جو اس مال سے مناسب طریقہ پر روزی لیں گے
«وَ یُنْفِقُ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ،»۷اور امور خیر میں صرف کریں گے
«فَإِنْ حَدَثَ بِحَسَن حَدَثٌ وَ حُسَیْنٌ حَیٌّ،»۸اگر حسن علیہ السلام کو کچھ ہو جائے اور حسین علیہ السلام زندہ ہوں
«قَامَ بِالاَْمْرِ بَعْدَهُ،»۹تو وہ ان کے بعد اس کو سنبھال لیں گے
«وَ أَصْدَرَهُ مَصْدَرَهُ.»۱۰اور انہی کی راہ پر چلائیں گے
«وَ إِنَّ لاِبْنَیْ فَاطِمَةَ مِنْ صَدَقَةِ عَلِیٍّ مِثْلَ الَّذِي لِبَنِی عَلِیٍّ،»۱۱علی علیہ السلام کے اوقاف میں جتنا حصہ فرزندانِ علیؑ کا ہے اتنا ہی اولادِ فاطمہؑ کا ہے
«وَ إِنِّي إِنَّمَا جَعَلْتُ الْقِیَامَ بِذلِكَ إِلَى ابْنَیْ فَاطِمَةَ»۱۲اس کی تولیت فاطمہ کے دونوں فرزندوں سے مخصوص کی ہے
«ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ،»۱۳بیشک میں نے صرف اللہ کی رضا مندی
«وَ قُرْبَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ (صلیاللهعلیهوآلهوسلم)،»۱۴رسول ﷺ کے تقرب
«وَ تَکْرِیماً لِحُرْمَتِهِ،»۱۵ان کی عزت و حرمت کے اعزاز
«وَ تَشْرِیفاً لِوُصْلَتِهِ.»۱۶اور ان کی قرابت کے احترام کے پیش نظر
«وَ یَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي یَجْعَلُهُ إِلَيْهِ»۱۷اور جو اس جائیداد کا متولی
«أَنْ یَتْرُکَ الْمَالَ عَلَى أُصُولِهِ،»۱۸ہو اس پر یہ پابندی عائد ہو گی کہ وہ مال کو اس کی اصلی حالت پر رہنے دے
«وَ یُنْفِقَ مِنْ ثَمَرِهِ حَيْثُ أُمِرَ بِهِ وَ هُدِیَ لَهُ،»۱۹اور اس کے پھلوں کو ان مصارف میں جن کے متعلق ہدایت کی گئی ہے تصرف میں لائے
«وَ أَلاَّ یَبِیعَ مِنْ أَوْلاَدِ نَخِیلَ هذِهِ الْقُرَی وَدِیَّةً»۲۰اور یہ کہ وہ ان دیہاتوں کے نخلستانوں کی نئی پود کو فروخت نہ کرے
«حَتَّى تُشْکِلَ أَرْضُهَا غِرَاساً.»۲۱یہاں تک کہ ان دیہاتوں کی زمین کا ان نئے درختوں کے جم جانے سے عالم ہی دوسرا ہو جائے
«وَ مَنْ کَانَ مِنْ إِمَائِی ـ اللاَّتِي أَطُوفُ عَلَيْهِنَّ ـ لَهَا وَلَدٌ، أَوْ هِيَ حَامِلٌ،»۲۲اور وہ کنیزیں جو میرے تصرف میں ہیں ان میں سے جس کی گود میں بچہ یا پیٹ میں ہے
«فَتُمْسَکُ عَلَى وَلَدِهَا وَ هِيَ مِنْ حَظِّهِ،»۲۳تو وہ بچے کے حق میں روک لی جائے گی اور اس کے حصہ میں شمار ہو گی
«فَإِنْ مَاتَ وَلَدُهَا وَ هِيَ حَیَّةٌ فَهِيَ عَتِیقَةٌ،»۲۴پھر اگر بچہ مر بھی جائے اور وہ زندہ ہو تو بھی وہ آزاد ہو گی
«قَدْ أَفْرَجَ عَنْهَا الرِّقُّ،»۲۵اس سے غلامی چھٹ گئی ہے
«وَ حَرَّرَهَا الْعِتْقُ.»۲۶اور آزادی اسے حاصل ہو چکی ہے
قَوْلُهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) فى هذِهِ الْوَصِيَّةِ: «اَنْ لايَبِيعَ مِنْ نَخْلِها وَدِيَّةً» الْوَدِيَّةُ: الْفَسيلَةُ، وَ جَمْعُها وَدِىٌّ. سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس وصیت میں حضرتؑ کا ارشاد: اَنْ لَّا یَبِیْعَ مِنْ نَّخْلِھَا وَدِیَّةً میں وَدِیَّۃٌ کے معنی کھجور کے چھوٹے درخت کے ہیں اور اس کی جمع وَدِیٌّ آتی ہے۔ و قَوْلُهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ): «حَتّى تُشْكِلَ اَرْضُها غِراساً» هُوَ مِنْ اَفْصَحِ الْكَلامِ، وَ الْمُرادُ بِهِ اَنَّ الاَْرْضَ يَكْثُرُ فيها غِراسُ النَّخْلِ حَتّى يَراهَا النّاظِرُ عَلى غَيْرِ تِلْكَ الصَّفَةِ الَّتى عَرَفَها بِها، فَيُشْكِلُ عَلَيْه اَمْرُها، وَ يَحْسَبُها غَيْرَها. اور آپؑ کا یہ ارشاد: حَتّٰی تُشْکِلَ اَرْضُھَا غِرَاسًا (زمین درختوں کے جم جانے سے مشتبہ ہو جائے)، اس سے مراد یہ ہے کہ جب زمین میں کھجوروں کے پیڑ کثرت سے اُگ آتے ہیں تو دیکھنے والے نے جس صورت میں اسے پہلے دیکھا تھا ، اب دوسری صورت میں دیکھنے کی وجہ سے اسے اشتباہ ہو جائے گا اور اسے دوسری زمین خیال کرے گا۔