• خواندن
  • نمایش تاریخچه
  • ویرایش
 

مکتوب ۲۴ نہج البلاغہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔



اقتصادية



وَ مِنْ وَصِيَّة لَهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ)
امامؑ کی وصیتوں میں سے

بِما يُعْمَلُ فى اَمْوالِهِ، كَتَبَها بَعْدَ مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفّينَ
حضرتؑ کی وصیت اس امر کے متعلق کہ آپؑ کے اموال میں کیا عمل درآمد ہو گا۔ اسے صفین سے پلٹنے کے بعد تحریر فرمایا:

۱. الوصايا الاقتصادية

«هذَا مَا أَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِب أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فِي مَالِهِ،»۱
یہ وہ ہے جو خدا کے بندے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے اموال (اوقاف) کے بارے میں حکم دیا ہے



«ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ،»۲
محض اللہ کی رضا جوئی کیلئے



«لِیُولِجَهُ بِهِ الْجَنَّةَ،»۳
تاکہ وہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل کرے



«وَ یُعْطِیَهُ بِهِ الاَْمَنَةَ (الأمنيّه).»۴
اور امن و آسائش عطا فرمائے

مِنْـها
اس وصیت کا ایک حصہ یہ ہے

«فَإِنَّهُ یَقُومُ بِذلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ»۵
حسن ابن علی علیہما السلام اس کے متولی ہوں گے



«یَأْکُلُ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ،»۶
جو اس مال سے مناسب طریقہ پر روزی لیں گے



«وَ یُنْفِقُ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ،»۷
اور امور خیر میں صرف کریں گے



«فَإِنْ حَدَثَ بِحَسَن حَدَثٌ وَ حُسَیْنٌ حَیٌّ،»۸
اگر حسن علیہ السلام کو کچھ ہو جائے اور حسین علیہ السلام زندہ ہوں



«قَامَ بِالاَْمْرِ بَعْدَهُ،»۹
تو وہ ان کے بعد اس کو سنبھال لیں گے



«وَ أَصْدَرَهُ مَصْدَرَهُ۱۰
اور انہی کی راہ پر چلائیں گے



«وَ إِنَّ لاِبْنَیْ فَاطِمَةَ مِنْ صَدَقَةِ عَلِیٍّ مِثْلَ الَّذِي لِبَنِی عَلِیٍّ،»۱۱
علی علیہ السلام کے اوقاف میں جتنا حصہ فرزندانِ علیؑ کا ہے اتنا ہی اولادِ فاطمہؑ کا ہے



«وَ إِنِّي إِنَّمَا جَعَلْتُ الْقِیَامَ بِذلِكَ إِلَى ابْنَیْ فَاطِمَةَ»۱۲
اس کی تولیت فاطمہ کے دونوں فرزندوں سے مخصوص کی ہے



«ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ،»۱۳
بیشک میں نے صرف اللہ کی رضا مندی



«وَ قُرْبَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ (صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم)،»۱۴
رسول ﷺ کے تقرب



«وَ تَکْرِیماً لِحُرْمَتِهِ،»۱۵
ان کی عزت و حرمت کے اعزاز



«وَ تَشْرِیفاً لِوُصْلَتِهِ۱۶
اور ان کی قرابت کے احترام کے پیش نظر

۲. ضرورة حفظ الاموال

«وَ یَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي یَجْعَلُهُ إِلَيْهِ»۱۷
اور جو اس جائیداد کا متولی



«أَنْ یَتْرُکَ الْمَالَ عَلَى أُصُولِهِ،»۱۸
ہو اس پر یہ پابندی عائد ہو گی کہ وہ مال کو اس کی اصلی حالت پر رہنے دے



«وَ یُنْفِقَ مِنْ ثَمَرِهِ حَيْثُ أُمِرَ بِهِ وَ هُدِیَ لَهُ،»۱۹
اور اس کے پھلوں کو ان مصارف میں جن کے متعلق ہدایت کی گئی ہے تصرف میں لائے



«وَ أَلاَّ یَبِیعَ مِنْ أَوْلاَدِ نَخِیلَ هذِهِ الْقُرَی وَدِیَّةً»۲۰
اور یہ کہ وہ ان دیہاتوں کے نخلستانوں کی نئی پود کو فروخت نہ کرے



«حَتَّى تُشْکِلَ أَرْضُهَا غِرَاساً۲۱
یہاں تک کہ ان دیہاتوں کی زمین کا ان نئے درختوں کے جم جانے سے عالم ہی دوسرا ہو جائے



«وَ مَنْ کَانَ مِنْ إِمَائِی ـ اللاَّتِي أَطُوفُ عَلَيْهِنَّ ـ لَهَا وَلَدٌ، أَوْ هِيَ حَامِلٌ،»۲۲
اور وہ کنیزیں جو میرے تصرف میں ہیں ان میں سے جس کی گود میں بچہ یا پیٹ میں ہے



«فَتُمْسَکُ عَلَى وَلَدِهَا وَ هِيَ مِنْ حَظِّهِ،»۲۳
تو وہ بچے کے حق میں روک لی جائے گی اور اس کے حصہ میں شمار ہو گی



«فَإِنْ مَاتَ وَلَدُهَا وَ هِيَ حَیَّةٌ فَهِيَ عَتِیقَةٌ،»۲۴
پھر اگر بچہ مر بھی جائے اور وہ زندہ ہو تو بھی وہ آزاد ہو گی



«قَدْ أَفْرَجَ عَنْهَا الرِّقُّ،»۲۵
اس سے غلامی چھٹ گئی ہے



«وَ حَرَّرَهَا الْعِتْقُ۲۶
اور آزادی اسے حاصل ہو چکی ہے

قَوْلُهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ) فى هذِهِ الْوَصِيَّةِ: «اَنْ لايَبِيعَ مِنْ نَخْلِها وَدِيَّةً» الْوَدِيَّةُ: الْفَسيلَةُ، وَ جَمْعُها وَدِىٌّ.
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس وصیت میں حضرتؑ کا ارشاد: اَنْ لَّا یَبِیْعَ مِنْ نَّخْلِھَا وَدِیَّةً میں وَدِیَّۃٌ کے معنی کھجور کے چھوٹے درخت کے ہیں اور اس کی جمع وَدِیٌّ آتی ہے۔

و قَوْلُهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ): «حَتّى تُشْكِلَ اَرْضُها غِراساً» هُوَ مِنْ اَفْصَحِ الْكَلامِ، وَ الْمُرادُ بِهِ اَنَّ الاَْرْضَ يَكْثُرُ فيها غِراسُ النَّخْلِ حَتّى يَراهَا النّاظِرُ عَلى غَيْرِ تِلْكَ الصَّفَةِ الَّتى عَرَفَها بِها، فَيُشْكِلُ عَلَيْه اَمْرُها، وَ يَحْسَبُها غَيْرَها.
اور آپؑ کا یہ ارشاد: حَتّٰی تُشْکِلَ اَرْضُھَا غِرَاسًا (زمین درختوں کے جم جانے سے مشتبہ ہو جائے)، اس سے مراد یہ ہے کہ جب زمین میں کھجوروں کے پیڑ کثرت سے اُگ آتے ہیں تو دیکھنے والے نے جس صورت میں اسے پہلے دیکھا تھا ، اب دوسری صورت میں دیکھنے کی وجہ سے اسے اشتباہ ہو جائے گا اور اسے دوسری زمین خیال کرے گا۔





جعبه ابزار