خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
اخلاقية ، اقتصادية
وَ مِنْ وَصِيَّة لَهُ (عَلَيْهِالسَّلامُ) امامؑ کی وصیتوں میں سے
كانَ يَكْتُبُها لِمَنْ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الصَّدَقاتِ. وَ اِنَّما ذَكَرْنا هُنا جُمَلاً مِنْها لِيُعْلَمَ بِها اَنَّهُ (عَليهالسَّلامُ) كانَ يُقيمُ عِمادَ الْحَقِّ، وَ يَشْرَعُ اَمْثِلَةَ الْعَدْلِ فى صَغيرِ الاُْمُورِ وَ كَبيرِها، وَ دَقيقِها وَ جَليلِها. جن کارندوں کو زکوٰۃ و صدقات کے وصول کرنے پر مقرر کرتے تھے ان کیلئے یہ ہدایت نامہ تحریر فرماتے تھے اور ہم نے اس کے چند ٹکڑے یہاں پر اس لئے درج کئے ہیں کہ معلوم ہو جائے کہ آپؑ ہمیشہ حق کے ستون کھڑے کرتے تھے اور ہر چھوٹے بڑے اور پوشیدہ و ظاہر امور میں عدل کے نمونے قائم فرماتے تھے۔
۱. الجباة و الاخلاق الاجتماعية «انْطَلِقْ عَلَى تَقْوَی اللهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ،»۱اللہ وحدہٗ لا شریک کا خوف دل میں لئے ہوئے چل کھڑے ہو
«وَ لاَ تُرَوِّعَنَّ مُسْلِماً»۲اور دیکھو! کسی مسلمان کو خوفزدہ نہ کرنا
«وَ لاَ تَجْتَازَنَّ (تحتازنّ) عَلَيْهِ کَارِهاً،»۳اور اس (کے املاک) پر اس طرح سے نہ گزرنا کہ اسے ناگوار گزرے
«وَ لاَ تَأْخُذَنَّ مِنْهُ أَکْثَرَ مِنْ حَقِّ اللهِ فِي مَالِهِ،»۴اور جتنا اس کے مال میں اللہ کا حق نکلتا ہو اس سے زائد نہ لینا
«فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى الْحَیِّ»۵جب کسی قبیلے کی طرف جانا
«فَانْزِلْ بِمَائِهِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ تُخَالِطَ أَبْیَاتَهُمْ،»۶تو لوگوں کے گھروں میں گھسنے کی بجائے پہلے ان کے کنوؤں پر جا کر اترنا
«ثُمَّ امْضِ إِلَيْهِمْ بِالسَّکِینَةِ وَ الْوَقَارِ;»۷پھر سکون و وقار کے ساتھ ان کی طرف بڑھنا
«حَتَّى تَقُومَ بَیْنَهُمْ،»۸یہاں تک کہ جب ان میں جا کر کھڑے ہو جاؤ
«فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ،»۹تو ان پر سلام کرنا
«وَ لاَ تُخْدِجْ بِالتَّحِیَّةِ لَهُمْ،»۱۰اور آداب و تسلیم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا
«ثُمَّ تَقُولَ: عِبَادَ اللهِ،»۱۱اس کے بعد ان سے کہنا کہ اے اللہ کے بندو!
«أَرْسَلَنِی إِلَيْكُمْ وَلِیُّ اللهِ وَ خَلِیفَتُهُ،»۱۲مجھے اللہ کے ولی اور اس کے خلیفہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے
«لاِخُذَ مِنْكُمْ حَقَّ اللهِ فِي أَمْوَالِکُمْ،»۱۳اگر تمہارے مال میں اللہ کا کوئی حق نکلتا ہے تو اسے وصول کروں
«فَهَلْ لِلّهِ فِي أَمْوَالِکُمْ مِنْ حَقٍّ فَتُؤَدُّوهُ إِلَى وَلِیِّهِ.»۱۴لہٰذا تمہارے مال میں اللہ کا کوئی واجب الاداء حق ہے کہ جسے اللہ کے ولی تک پہنچاؤ؟
«فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: لاَ،»۱۵اگر کوئی کہنے والا کہے کہ: نہیں
«فَلاَ تُرَاجِعْهُ،»۱۶تو پھر اس سے دہرا کر نہ پوچھنا
«وَ إِنْ أَنْعَمَ لَكَ مُنْعِمٌ»۱۷اور اگر کوئی ہاں کہنے والا ہاں کہے
«فَانْطَلِقْ مَعَهُ»۱۸اس کے ساتھ ہو لینا
«مِنْ غَیْرِ أَنْ تُخِیفَهُ أَوْ تُوعِدَهُ أَوْ تَعْسِفَهُ أَوْ تُرْهِقَهُ.»۱۹تو اسے ڈرائے دھمکائے یا اس پر سختی و تشدد کئے بغیر
«فَخُذْ مَا أَعْطَاکَ مِنْ ذَهَب أَوْ فِضَّة،»۲۰اور جو سونا یا چاندی (درہم و دینار) وہ دے لے لینا
«فَإِنْ کَانَ لَهُ مَاشِیَةٌ أَوْ إِبِلٌ فَلاَ تَدْخُلْهَا إِلاَّ بِإِذْنِهِ،»۲۱اور اگر اس کے پاس گائے، بکری یا اونٹ ہوں تو ان کے غول میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا
«فَإِنَّ أَکْثَرَهَا لَهُ.»۲۲کیونکہ ان میں زیادہ حصہ تو اسی کا ہے
«فَإِذَا أَتَیْتَهَا فَلاَ تَدْخُلْ عَلَيْهَا دُخُولَ مُتَسَلِّط (متسلط) عَلَيْهِ»۲۳اور جب (اجازت کے بعد)ان تک جانا تو یہ انداز اختیار نہ کرنا
«وَ لاَ عَنِیف بِهِ.»۲۴کہ جیسے تمہیں اس پر پورا قابو ہے اور تمہیں اس پر تشدد کرنے کا حق حاصل ہے
«وَ لاَ تُنَفِّرَنَّ بَهِیمَةً وَ لاَ تُفْزِعَنَّهَا،»۲۵دیکھو! نہ کسی جانور کو بھڑکانا، نہ ڈرانا
«وَ لاَ تَسُوءَنَّ صَاحِبَهَا فِيهَا،»۲۶اور نہ اس کے بارے میں اپنے غلط رویہ سے مالک کو رنجیدہ کرنا
«وَ اصْدَعِ الْمَالَ صَدْعَیْنِ،»۲۷جتنا مال ہو اس کے دو حصے کر دینا
«ثُمَّ خَیِّرْهُ،»۲۸اور مالک کو یہ اختیار دینا (کہ وہ جونسا حصہ چاہے) پسند کر لے
«فَإِذَا اخْتَارَ فَلاَ تَعْرِضَنَّ لِمَا اخْتَارَهُ.»۲۹اور جب وہ کوئی سا حصہ منتخب کر لے تو اس کے انتخاب سے تعرض نہ کرنا
«ثُمَّ اصْدَعِ الْباقیَ صَدْعَیْنِ،»۳۰پھر بقیہ حصے کے دو حصے کر دینا
«ثُمَّ خَیِّرْهُ،»۳۱اور مالک کو اختیار دینا (کہ وہ جو حصہ چاہے لے لے)
«فَاذا اخْتارَ فَلا تَعْرِضَنَّ لِما اخْتارَهُ»۳۲اور جب وہ ایک حصہ منتخب کر لے تو اس کے انتخاب پر معترض نہ ہونا
«فَلاَ تَزَالُ كَذلِكَ حَتَّى یَبْقَی مَا فِيهِ وَفَاءٌ لِحَقِّ اللهِ فِي مَالِهِ;»۳۳یونہی ایسا ہی کرتے رہنا، یہاں تک کہ بس اتنا رہ جائے جتنے سے اس مال میں جو اللہ کا حق ہے
«فَاقْبِضْ حَقَّ اللهِ مِنْهُ.»۳۴وہ پورا ہو جائے تو اسے بس تم اپنے قبضہ میں کرلینا
«فَإِنِ اسْتَقَالَکَ فَأَقِلْهُ،»۳۵اور (اس پر بھی) اگر وہ پہلے انتخاب کو مسترد کر کے دوبارہ انتخاب کرنا چاہے تو اسے اس کا موقع دو
«ثُمَّ اخْلِطْهُمَا»۳۶اور دونوں حصوں کو ملا کر پھر نئے سرے سے
«ثُمَّ اصْنَعْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتَ أَوَّلا»۳۷وہی کرو جس طرح پہلے کیا تھا
«حَتَّى تَأْخُذَ حَقَّ اللهِ فِي مَالِهِ.»۳۸یہاں تک کہ اس کے مال سے اللہ کا حق لے لو
«وَ لاَ تَأْخُذَنَّ عَوْداً وَ لاَ هَرِمَةً وَ لاَ مَکْسُورَةً وَ لاَ مَهْلُوسَةً، وَ لاَ ذَاتَ عَوَار،»۳۹ہاں دیکھو! کوئی بوڑھا، بالکل پھونس اونٹ اور جس کی کمر شکستہ یا پیر ٹوٹا ہوا ہو، یا بیماری کا مارا ہوا یا عیب دار ہو، نہ لینا
«وَ لاَ تَأْمَنَنَّ عَلَيْهَا إِلاَّ مَنْ تَثِقُ بِدِینِهِ،»۴۰اور انہیں کسی ایسے شخص کی امانت میں سونپنا
«رَافِقاً بِمَالِ الْمُسْلِمِینَ،»۴۱جس کی دینداری پر تم کو اعتماد ہو کہ جو مسلمانوں کے مال کی نگہداشت کرتا ہو
«حَتَّى یُوَصِّلَهُ إِلَى وَلِیِّهِمْ،»۴۲ان کے امیر تک پہنچا دے،
«فَیَقْسِمَهُ بَیْنَهُمْ.»۴۳تاکہ وہ اس مال کو مسلمانوں میں بانٹ دے
«وَ لاَ تُوَکِّلْ بِهَا إِلاَّ نَاصِحاً شَفِیقاً وَ أَمِیناً حَفِیظاً،»۴۴کسی ایسے ہی شخص کے سپرد کرنا جو خیر خواہ، خدا ترس، امانتدار اور نگران ہو
«غَیْرَ مُعْنِف وَ لاَ مُجْحِف،»۴۵کہ نہ تو ان پر سختی کرے اور نہ دوڑا دوڑا کر انہیں لاغر و خستہ کرے
«وَ لاَ مُلْغِب وَ لاَ مُتْعِب.»۴۶نہ انہیں تھکا مارے اور نہ تعب و مشقت میں ڈالے
«ثُمَّ احْدُرْ إِلَيْنَا مَا اجْتَمَعَ عِنْدَكَ»۴۷پھر جو کچھ تمہارے پاس جمع ہو اسے جلد سے جلد ہماری طرف بھیجتے رہنا
«نُصَیِّرْهُ حَيْثُ أَمَرَ اللهُ بِهِ،»۴۸تاکہ ہم جہاں جہاں اللہ کا حکم ہے اسے کام میں لائیں
«فَإِذَا أَخَذَهَا أَمِینُکَ فَأَوْعِزْ إِلَيْهِ،»۴۹جب تمہارا امین اس مال کو اپنی تحویل میں لے لے تو اسے فہمائش کرنا
«أَلاَّ یَحُولَ بَیْنَ نَاقَة وَ بَیْنَ فَصِیلِهَا،»۵۰کہ وہ اونٹنی اور اس کے دودھ پیتے بچے کو الگ الگ نہ رکھے
«وَ لاَ یَمْصُرَ لَبَنَهَا فَیَضُرَّ ذلِكَ بِوَلَدِهَا;»۵۱اور نہ اس کا سارے کا سارا دودھ دوہ لیا کرے کہ بچے کیلئے ضرر رسانی کا باعث بن جائے
«وَ لاَ یَجْهَدَنَّهَا رُکُوباً،»۵۲اور اس پر سواری کر کے اسے ہلکان نہ کر ڈالے
«وَ لْیَعْدِلْ بَیْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِي ذلِكَ وَ بَیْنَهَا،»۵۳اس میں اور اس کے ساتھ کی دوسری اونٹنیوں میں (سواری کرنے اور دوہنے میں) انصاف و مساوات سے کام لے
«وَ لْیُرَفِّهْ عَلَى اللاَّغِبِ،»۵۴تھکے ماندے اونٹ کو سستانے کا موقع دے
«وَ لْیَسْتَأْنِ بِالنَّقِبِ وَ الظَّالِعِ،»۵۵اور جس کے کھر گھس گئے ہوں یا پیر لنگ کرنے لگے ہوں اسے آہستگی اور نرمی سے لے چلے
«وَ لْیُورِدْهَا مَا تَمُرُّ بِهِ مِنَ الْغُدُرِ،»۵۶اور ان کی گزر گاہوں میں جو تالاب پڑیں وہاں انہیں پانی پینے کیلئے اتارے
«وَ لاَ یَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَبْتِ الاَْرْضِ إِلَى جَوَادِّ الطُّرُقِ،»۵۷اور زمین کی ہریالی سے ان کا رخ موڑ کر (بے آب و گیاہ) راستوں پر نہ لے چلے
«وَ لْیُرَوِّحْهَا فِي السَّاعَاتِ،»۵۸اور وقتاً فوقتاً انہیں راحت پہنچاتا رہے
«وَ لُْیمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ وَ الاَْعْشَابِ.»۵۹اور جہاں تھوڑا بہت پانی یا گھاس سبزہ ہو انہیں کچھ دیر کیلئے مہلت دے
«حَتَّى تَأْتِیَنَا بِإِذْنِ اللهِ بُدَّناً مُنْقِیَات،»۶۰تاکہ جب وہ ہمارے پاس پہنچیں تو وہ بحکم خدا موٹے تازے ہوں اور ان کی ہڈیوں کا گودا بڑھ چکا ہو
«غَیْرَ مُتْعَبَات وَ لاَ مَجْهُودَات،»۶۱وہ تھکے ماندے اور خستہ حال نہ ہوں
«لِنَقْسِمَهَا عَلَى کِتَابِ اللهِ وَ سُنَّةِ نَبِیِّهِ (صَلَّىاللّهُعَلَيْهِوَآلِهِ)»۶۲تاکہ ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق انہیں تقسیم کریں
«فَإِنَّ ذلِكَ أَعْظَمُ لاَِجْرِکَ،»۶۳بیشک یہ تمہارے لئے بڑے ثواب کا باعث
«وَ أَقْرَبُ لِرُشْدِکَ،»۶۴اور منزل ہدایت تک پہنچنے کا ذریعہ ہو گا
«إِنْ شَاءَ اللهُ.»۶۵ان شاء اللہ۔