• خواندن
  • نمایش تاریخچه
  • ویرایش
 

مکتوب ۲۵ نہج البلاغہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



خرابی کی رپورٹ
ہر لفظ کے معنی اور تفصیل دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔



اخلاقية ، اقتصادية



وَ مِنْ وَصِيَّة لَهُ (عَلَيْهِ‌السَّلامُ)
امامؑ کی وصیتوں میں سے

كانَ يَكْتُبُها لِمَنْ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الصَّدَقاتِ. وَ اِنَّما ذَكَرْنا هُنا جُمَلاً مِنْها لِيُعْلَمَ بِها اَنَّهُ (عَليه‌السَّلامُ) كانَ يُقيمُ عِمادَ الْحَقِّ، وَ يَشْرَعُ اَمْثِلَةَ الْعَدْلِ فى صَغيرِ الاُْمُورِ وَ كَبيرِها، وَ دَقيقِها وَ جَليلِها.
جن کارندوں کو زکوٰۃ و صدقات کے وصول کرنے پر مقرر کرتے تھے ان کیلئے یہ ہدایت نامہ تحریر فرماتے تھے اور ہم نے اس کے چند ٹکڑے یہاں پر اس لئے درج کئے ہیں کہ معلوم ہو جائے کہ آپؑ ہمیشہ حق کے ستون کھڑے کرتے تھے اور ہر چھوٹے بڑے اور پوشیدہ و ظاہر امور میں عدل کے نمونے قائم فرماتے تھے۔

۱. الجباة و الاخلاق الاجتماعية

«انْطَلِقْ عَلَى تَقْوَی اللهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ،»۱
اللہ وحدہٗ لا شریک کا خوف دل میں لئے ہوئے چل کھڑے ہو



«وَ لاَ تُرَوِّعَنَّ مُسْلِماً»۲
اور دیکھو! کسی مسلمان کو خوفزدہ نہ کرنا



«وَ لاَ تَجْتَازَنَّ (تحتازنّ) عَلَيْهِ کَارِهاً،»۳
اور اس (کے املاک) پر اس طرح سے نہ گزرنا کہ اسے ناگوار گزرے



«وَ لاَ تَأْخُذَنَّ مِنْهُ أَکْثَرَ مِنْ حَقِّ اللهِ فِي مَالِهِ،»۴
اور جتنا اس کے مال میں اللہ کا حق نکلتا ہو اس سے زائد نہ لینا



«فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى الْحَیِّ»۵
جب کسی قبیلے کی طرف جانا



«فَانْزِلْ بِمَائِهِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ تُخَالِطَ أَبْیَاتَهُمْ،»۶
تو لوگوں کے گھروں میں گھسنے کی بجائے پہلے ان کے کنوؤں پر جا کر اترنا



«ثُمَّ امْضِ إِلَيْهِمْ بِالسَّکِینَةِ وَ الْوَقَارِ۷
پھر سکون و وقار کے ساتھ ان کی طرف بڑھنا



«حَتَّى تَقُومَ بَیْنَهُمْ،»۸
یہاں تک کہ جب ان میں جا کر کھڑے ہو جاؤ



«فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ،»۹
تو ان پر سلام کرنا



«وَ لاَ تُخْدِجْ بِالتَّحِیَّةِ لَهُمْ،»۱۰
اور آداب و تسلیم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا



«ثُمَّ تَقُولَ: عِبَادَ اللهِ،»۱۱
اس کے بعد ان سے کہنا کہ اے اللہ کے بندو!



«أَرْسَلَنِی إِلَيْكُمْ وَلِیُّ اللهِ وَ خَلِیفَتُهُ،»۱۲
مجھے اللہ کے ولی اور اس کے خلیفہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے



«لاِخُذَ مِنْكُمْ حَقَّ اللهِ فِي أَمْوَالِکُمْ،»۱۳
اگر تمہارے مال میں اللہ کا کوئی حق نکلتا ہے تو اسے وصول کروں



«فَهَلْ لِلّهِ فِي أَمْوَالِکُمْ مِنْ حَقٍّ فَتُؤَدُّوهُ إِلَى وَلِیِّهِ۱۴
لہٰذا تمہارے مال میں اللہ کا کوئی واجب الاداء حق ہے کہ جسے اللہ کے ولی تک پہنچاؤ؟



«فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: لاَ،»۱۵
اگر کوئی کہنے والا کہے کہ: نہیں



«فَلاَ تُرَاجِعْهُ،»۱۶
تو پھر اس سے دہرا کر نہ پوچھنا



«وَ إِنْ أَنْعَمَ لَكَ مُنْعِمٌ»۱۷
اور اگر کوئی ہاں کہنے والا ہاں کہے



«فَانْطَلِقْ مَعَهُ»۱۸
اس کے ساتھ ہو لینا



«مِنْ غَیْرِ أَنْ تُخِیفَهُ أَوْ تُوعِدَهُ أَوْ تَعْسِفَهُ أَوْ تُرْهِقَهُ۱۹
تو اسے ڈرائے دھمکائے یا اس پر سختی و تشدد کئے بغیر



«فَخُذْ مَا أَعْطَاکَ مِنْ ذَهَب أَوْ فِضَّة،»۲۰
اور جو سونا یا چاندی (درہم و دینار) وہ دے لے لینا



«فَإِنْ کَانَ لَهُ مَاشِیَةٌ أَوْ إِبِلٌ فَلاَ تَدْخُلْهَا إِلاَّ بِإِذْنِهِ،»۲۱
اور اگر اس کے پاس گائے، بکری یا اونٹ ہوں تو ان کے غول میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا



«فَإِنَّ أَکْثَرَهَا لَهُ.»۲۲
کیونکہ ان میں زیادہ حصہ تو اسی کا ہے



«فَإِذَا أَتَیْتَهَا فَلاَ تَدْخُلْ عَلَيْهَا دُخُولَ مُتَسَلِّط (متسلط) عَلَيْهِ»۲۳
اور جب (اجازت کے بعد)ان تک جانا تو یہ انداز اختیار نہ کرنا



«وَ لاَ عَنِیف بِهِ.»۲۴
کہ جیسے تمہیں اس پر پورا قابو ہے اور تمہیں اس پر تشدد کرنے کا حق حاصل ہے



«وَ لاَ تُنَفِّرَنَّ بَهِیمَةً وَ لاَ تُفْزِعَنَّهَا،»۲۵
دیکھو! نہ کسی جانور کو بھڑکانا، نہ ڈرانا



«وَ لاَ تَسُوءَنَّ صَاحِبَهَا فِيهَا،»۲۶
اور نہ اس کے بارے میں اپنے غلط رویہ سے مالک کو رنجیدہ کرنا



«وَ اصْدَعِ الْمَالَ صَدْعَیْنِ،»۲۷
جتنا مال ہو اس کے دو حصے کر دینا



«ثُمَّ خَیِّرْهُ،»۲۸
اور مالک کو یہ اختیار دینا (کہ وہ جونسا حصہ چاہے) پسند کر لے



«فَإِذَا اخْتَارَ فَلاَ تَعْرِضَنَّ لِمَا اخْتَارَهُ۲۹
اور جب وہ کوئی سا حصہ منتخب کر لے تو اس کے انتخاب سے تعرض نہ کرنا



«ثُمَّ اصْدَعِ الْباقیَ صَدْعَیْنِ،»۳۰
پھر بقیہ حصے کے دو حصے کر دینا



«ثُمَّ خَیِّرْهُ،»۳۱
اور مالک کو اختیار دینا (کہ وہ جو حصہ چاہے لے لے)



«فَاذا اخْتارَ فَلا تَعْرِضَنَّ لِما اخْتارَهُ»۳۲
اور جب وہ ایک حصہ منتخب کر لے تو اس کے انتخاب پر معترض نہ ہونا



«فَلاَ تَزَالُ كَذلِكَ حَتَّى یَبْقَی مَا فِيهِ وَفَاءٌ لِحَقِّ اللهِ فِي مَالِهِ۳۳
یونہی ایسا ہی کرتے رہنا، یہاں تک کہ بس اتنا رہ جائے جتنے سے اس مال میں جو اللہ کا حق ہے



«فَاقْبِضْ حَقَّ اللهِ مِنْهُ.»۳۴
وہ پورا ہو جائے تو اسے بس تم اپنے قبضہ میں کرلینا



«فَإِنِ اسْتَقَالَکَ فَأَقِلْهُ،»۳۵
اور (اس پر بھی) اگر وہ پہلے انتخاب کو مسترد کر کے دوبارہ انتخاب کرنا چاہے تو اسے اس کا موقع دو



«ثُمَّ اخْلِطْهُمَا»۳۶
اور دونوں حصوں کو ملا کر پھر نئے سرے سے



«ثُمَّ اصْنَعْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتَ أَوَّلا»۳۷
وہی کرو جس طرح پہلے کیا تھا



«حَتَّى تَأْخُذَ حَقَّ اللهِ فِي مَالِهِ۳۸
یہاں تک کہ اس کے مال سے اللہ کا حق لے لو



«وَ لاَ تَأْخُذَنَّ عَوْداً وَ لاَ هَرِمَةً وَ لاَ مَکْسُورَةً وَ لاَ مَهْلُوسَةً، وَ لاَ ذَاتَ عَوَار،»۳۹
ہاں دیکھو! کوئی بوڑھا، بالکل پھونس اونٹ اور جس کی کمر شکستہ یا پیر ٹوٹا ہوا ہو، یا بیماری کا مارا ہوا یا عیب دار ہو، نہ لینا



«وَ لاَ تَأْمَنَنَّ عَلَيْهَا إِلاَّ مَنْ تَثِقُ بِدِینِهِ،»۴۰
اور انہیں کسی ایسے شخص کی امانت میں سونپنا



«رَافِقاً بِمَالِ الْمُسْلِمِینَ،»۴۱
جس کی دینداری پر تم کو اعتماد ہو کہ جو مسلمانوں کے مال کی نگہداشت کرتا ہو



«حَتَّى یُوَصِّلَهُ إِلَى وَلِیِّهِمْ،»۴۲
ان کے امیر تک پہنچا دے،



«فَیَقْسِمَهُ بَیْنَهُمْ۴۳
تاکہ وہ اس مال کو مسلمانوں میں بانٹ دے

۲. حماية حقوق الحيوانات

«وَ لاَ تُوَکِّلْ بِهَا إِلاَّ نَاصِحاً شَفِیقاً وَ أَمِیناً حَفِیظاً،»۴۴
کسی ایسے ہی شخص کے سپرد کرنا جو خیر خواہ، خدا ترس، امانتدار اور نگران ہو



«غَیْرَ مُعْنِف وَ لاَ مُجْحِف،»۴۵
کہ نہ تو ان پر سختی کرے اور نہ دوڑا دوڑا کر انہیں لاغر و خستہ کرے



«وَ لاَ مُلْغِب وَ لاَ مُتْعِب۴۶
نہ انہیں تھکا مارے اور نہ تعب و مشقت میں ڈالے



«ثُمَّ احْدُرْ إِلَيْنَا مَا اجْتَمَعَ عِنْدَكَ»۴۷
پھر جو کچھ تمہارے پاس جمع ہو اسے جلد سے جلد ہماری طرف بھیجتے رہنا



«نُصَیِّرْهُ حَيْثُ أَمَرَ اللهُ بِهِ،»۴۸
تاکہ ہم جہاں جہاں اللہ کا حکم ہے اسے کام میں لائیں



«فَإِذَا أَخَذَهَا أَمِینُکَ فَأَوْعِزْ إِلَيْهِ،»۴۹
جب تمہارا امین اس مال کو اپنی تحویل میں لے لے تو اسے فہمائش کرنا



«أَلاَّ یَحُولَ بَیْنَ نَاقَة وَ بَیْنَ فَصِیلِهَا،»۵۰
کہ وہ اونٹنی اور اس کے دودھ پیتے بچے کو الگ الگ نہ رکھے



«وَ لاَ یَمْصُرَ لَبَنَهَا فَیَضُرَّ ذلِكَ بِوَلَدِهَا۵۱
اور نہ اس کا سارے کا سارا دودھ دوہ لیا کرے کہ بچے کیلئے ضرر رسانی کا باعث بن جائے



«وَ لاَ یَجْهَدَنَّهَا رُکُوباً،»۵۲
اور اس پر سواری کر کے اسے ہلکان نہ کر ڈالے



«وَ لْیَعْدِلْ بَیْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِي ذلِكَ وَ بَیْنَهَا،»۵۳
اس میں اور اس کے ساتھ کی دوسری اونٹنیوں میں (سواری کرنے اور دوہنے میں) انصاف و مساوات سے کام لے



«وَ لْیُرَفِّهْ عَلَى اللاَّغِبِ،»۵۴
تھکے ماندے اونٹ کو سستانے کا موقع دے



«وَ لْیَسْتَأْنِ بِالنَّقِبِ وَ الظَّالِعِ،»۵۵
اور جس کے کھر گھس گئے ہوں یا پیر لنگ کرنے لگے ہوں اسے آہستگی اور نرمی سے لے چلے



«وَ لْیُورِدْهَا مَا تَمُرُّ بِهِ مِنَ الْغُدُرِ،»۵۶
اور ان کی گزر گاہوں میں جو تالاب پڑیں وہاں انہیں پانی پینے کیلئے اتارے



«وَ لاَ یَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَبْتِ الاَْرْضِ إِلَى جَوَادِّ الطُّرُقِ،»۵۷
اور زمین کی ہریالی سے ان کا رخ موڑ کر (بے آب و گیاہ) راستوں پر نہ لے چلے



«وَ لْیُرَوِّحْهَا فِي السَّاعَاتِ،»۵۸
اور وقتاً فوقتاً انہیں راحت پہنچاتا رہے



«وَ لُْیمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ وَ الاَْعْشَابِ۵۹
اور جہاں تھوڑا بہت پانی یا گھاس سبزہ ہو انہیں کچھ دیر کیلئے مہلت دے



«حَتَّى تَأْتِیَنَا بِإِذْنِ اللهِ بُدَّناً مُنْقِیَات،»۶۰
تاکہ جب وہ ہمارے پاس پہنچیں تو وہ بحکم خدا موٹے تازے ہوں اور ان کی ہڈیوں کا گودا بڑھ چکا ہو



«غَیْرَ مُتْعَبَات وَ لاَ مَجْهُودَات،»۶۱
وہ تھکے ماندے اور خستہ حال نہ ہوں



«لِنَقْسِمَهَا عَلَى کِتَابِ اللهِ وَ سُنَّةِ نَبِیِّهِ (صَلَّى‌اللّهُ‌عَلَيْهِ‌وَ‌آلِهِ)»۶۲
تاکہ ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق انہیں تقسیم کریں



«فَإِنَّ ذلِكَ أَعْظَمُ لاَِجْرِکَ،»۶۳
بیشک یہ تمہارے لئے بڑے ثواب کا باعث



«وَ أَقْرَبُ لِرُشْدِکَ،»۶۴
اور منزل ہدایت تک پہنچنے کا ذریعہ ہو گا



«إِنْ شَاءَ اللهُ۶۵
ان شاء اللہ۔




جعبه ابزار