قرینہ منفصل
پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں
قرینہ منفصل سے مراد متکلم کے
کلام سے جدا وہ چیز ہے جو متکلم کے مرادِ جدّی پر
دلالت کرے۔ علم
اصول فقہ میں اس سے بحث کی جاتی ہے۔
[ترمیم]
قرینہ منفصل اس
قرینہ کو کہتے ہیں جو کلام یعنی ذو القرینہ سے متصل نہ ہو بلکہ الگ سے مستقل کلام ہو جسے پہلے کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ ہر وہ کلام جو دوسرے کلام پر قرینہ بنے اور پہلی گفتگو کے مفہوم کو روشن کرے تو اس دوسرے کلام کو قرینہِ منفصل کہا جاتا ہے، مثلا مولی کہے:
أَکۡرِمۡ کُلَّ فَقَیۡرٍ، پھر ایک مدت کے بعد کہے:
لَا تُکۡرِمِ الۡفُسَّاق مِنَ الفُقَرَاءِ۔ اس مثال میں دوسرا جملہ قرینہ منفصل کہلائے گا جوکہ پہلے جملے کو مزید روشن کر رہا ہے اور پہلے کلام سے متکلم کی مرادِ جدّی کو بیان کر رہا ہے کہ متکلم کہنا چاہ رہا ہے کہ ہر عالم فقیر کا احترام بجا لاؤ۔
[ترمیم]
قرینہ متصل میں کلام یعنی ذو القرینہ کے ظہور کے انعقاد کو روکا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ظہورِ کلام متکلم کا مرادِ جدی نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف قرینہ منفصل میں میں گذشتہ کلام یعنی ذو القرینہ کا ظاہر ہونے والا معنی اختیار کیا جاتا ہے بلکہ قرینہ منفصل پہلے کلام کے حجیت ظہور سے مانع ہوتا ہے اور قرینہ منفصل کو مقدم کیا جاتا ہے کیونکہ قرینہ ذو القرینہ پر مقدم ہوتا ہے۔
عقل کے نظری ادراکات کلام کے لیے قرینہِ منفصل کی مانند ہیں۔
[ترمیم]
[ترمیم]
فرہنگنامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۶۳۴، یہ تحریر مقالہ قرینہ منفصل سے لی گئی ہے۔ اس صفحے کے زمرہ جات :
قرینہ