امام علی کا وصی نہ بنانے کا شبہپی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریںاہل سنت کتب میں امیر المؤمنین ؑ کی نسبت سے ایک روایت وارد ہوئی ہے جبکہ اہل سنت کا نظریہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے: اصل روایت[ترمیم] [۱]
طوسی، محمد بن حسن، تلخیص الشافی، ج۲، ص۳۳۷۔
روایت پر اعتراضات[ترمیم]اس روایت پر بنیاد تین اعتراضات سامنے آتے ہیں: ← نقل کرنے والے نے اصل کتا ب نہیں دیکھیاس روایت کو کتبِ شیعہ سے نقل کرنے والے عمومًا کتاب الشافی سے نقل کرتے ہیں جوکہ سید مرتضی علم الہدی کی کتاب ہے۔ لیکن یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس حدیث کو نقل کرنے والے نے کبھی اصل کتاب نہیں دیکھی۔ کیونکہ سید مرتضی علم الہدی نے اس کتاب میں کثرت سے قاضی عبد الجبار کا قول نقل کیا ہے اور اس کے بعد ایک ایک کر تمام شبہات و اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ یہ روایت بھی قاضی عبد الجبار کے کلام میں نقل کی گئی ہے اور قاضی کی دلیل کو ذکر کرتے ہوئے سید مرتضی نے اس کو الشافی میں تحریر کیا ہے۔ قاضی عبد الجبار کی تمام گفتگو کو نقل کرنے کے بعد سید مرتضی نے ان شبہات کے جوابات دیئے ہیں۔ ← روایت کی سند نہیں ہےیہ روایت ضعیف ہے اور اس کی معتبر سند کسی کتاب میں موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ← امام علی نے امام حسن کو اپنا جانشین بنایاامام علی ؑ نے وصیت کی تھی کہ ان کا جانشین امام حسن ؑ ہوں گے اور خود امام علی ؑ نے یہ انتخاب فرمایا جوکہ تاریخ کے قطعی حقائق میں سے ہے اور تمام اہل سنت بھی اس کے معترف ہیں۔ ←← ابن کثیر کی رائےابنکثیر دمشقی سلفی نے تحریر کیا ہے: ←← ابو الفرج اصفہانیابو الفرج اصفہانی نے ابو الاسود سے ایک روایت نقل کی ہے: پس معلوم ہوا کہ امام علی ؑ نے اس فرزند کے لیے وصیت کی جو رسول اللہ ؐ کی ذریت سے ان کی کے فرزند اور اخلاق و رفتار میں آنحضرتؐ کی مانند تھے۔ ←← عبد ربہ کی نظر ابن عبد ربہ اندلسی نے لکھا ہے: ←← اعثم کوفی کی نظرابن اعثم کوفی نے روایت نقل کی ہے کہ امام حسن نے معاویہ کو خط میں اس طرح تحریر کیا : حوالہ جات[ترمیم]
مأخذ[ترمیم]مؤسسہ ولیعصر، برگرفتہ از مقالہ آیا روایت:ما اوصی رسول الله (صلیاللهعلیہوآلہ) از قول امیر المؤمنین (علیہ السّلام) صحت دارد؟۔ اس صفحے کے زمرہ جات : امام علی کی وصیتیں | اہل سنت کے شبہات | حدیثی مباحث | کلامی مباحث | وہابیت کے شبہات
|