حضرت زہراؑ کی شیخین کے ساتھ گفتگو

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



کتاب سلیم بن قیس الھلالی میں معتبر سند کے ساتھ ابن عباس سےمنقول ہے کہ جب ابوبکر کے فدک پر قابض ہو جانے کی خبر سیدہ فاطمہؑ تک پہنچی، تو آپؑ بنی ہاشم کی خواتین کے جھرمٹ میں ابوبکر سے ملاقات کیلئے تشریف لائیں اور ان سے فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ مجھ سے وہ زمین چھین لو جو رسول خداؐ نے مجھے عنایت فرمائی ہے؟! ابوبکر نے فوری طور پر قلم و کاغذ طلب کیا تاکہ زمین، فاطمہؑ کے نام واپس لوٹانے کی تحریر لکھ دیں، مگر عمر کی آمد کے باعث یہ کام انجام نہیں پایا۔ عمر، نے اپنے دوست کو اس اقدام سے روکا اور کہا: زہراؑ اپنے دعویٰ کے اثبات کیلئے شہادت قائم کریں۔ زہراؑ نے فرمایا: علی اور ام ایمن اس دعوے پر گواہ ہیں۔ عمر نے جواب دیا: ام ایمن غیر عرب خاتون ہے کہ فصاحت سے بے بہرہ ہے، لہٰذا اس کی شہادت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ علیؑ بھی اس زمین سے اپنے مفادات کی وجہ سے گواہی دیں گے۔ زہراؑ غضبناک اور رنجیدہ خاطر ہو کر واپس آ گئیں اور اسی دن بستر بیماری پر دراز ہو گئیں۔


ابوبکر و عمر کی درخواست ملاقات

[ترمیم]

ایک دن علیؑ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ وہ دونوں حضرتؑ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہماری فاطمہؑ کے ساتھ بات چیت سے باخبر ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ہم سے رنجیدہ ہیں۔ اگر ممکن ہے تو ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم ان کے پاس جا کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں۔ امامؑ نے فرمایا: یہ کام تم سے مربوط ہے۔ ابوبکر و عمر چل پڑے اور بنت پیغمبرؐ کے حجرے کے باہر کھڑے ہو گئے۔ امیر المومنینؑ اندر داخل ہوئے اور اپنی زوجہ سے فرمایا: اے بانو! وہ دونوں دروازے سے باہر کھڑے ہیں اور ملاقات کی درخواست کر رہے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟! فاطمہؑ نے جواب دیا: یہ گھر، آپ کا ہے اور میں، آپؑ کی زوجہ ہوں؛ جو آپ کی رائے ہو، اس کے مطابق فیصلہ کیجئے۔

روایتِ دوم

[ترمیم]

ایک اور روایت میں منقول ہے: مذکورہ دونوں افراد نے بارہا فاطمہؑ سے ملاقات کی اجازت چاہی مگر حضرتؑ نے انہیں اجازت نہیں دی۔ آخرکار انہوں نے امیر المومنینؑ سے جا کر ملاقات کی اور آپؑ کو واسطہ قرار دیا۔ زہراؑ نے ان کی درخواست قبول کرنے سے ایک مرتبہ پھر انکار کر دیا؛ مگر امامؑ نے فرمایا: میں انہیں قول دے چکا ہوں! بنت پیغمبرؐ نے اس کے بعد اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا اور عرض کیا: چونکہ آپؑ نے انہیں قول دے دیا ہے، لہٰذا میں آپؑ کی مخالفت نہیں کروں گی۔

ابن عباس کی روایت

[ترمیم]

ابن عباسؓ کہتے ہیں:
امامؑ نے اپنی زوجہ سے فرمایا: چہرے پر نقاب ڈال لیجئے۔ فاطمہؑ نے ایسا ہی کیا اور اپنا رخ صحن کی جانب موڑ لیا۔ ابوبکر و عمر داخل ہوئے، سلام کیا اور حضرتؑ سے گفتگو کیلئے بیٹھ گئے:
اے بنت پیغمبرؐ ! ہم سے راضی ہو جائیں؛ خدا آپ سے راضی ہو!
اس کام کی غرض کیا ہے؟!
ہم نے آپؑ سے بدی کی اور اب عفو و درگزر کے امیدوار ہیں۔
اگر سچ کہتے ہو تو میرے سوالوں کا جواب دو۔ میں تم سے وہی چیز پوچھوں گی، جس کے بارے مجھے یقین ہے کہ تم اسے جانتے ہو۔ اس لیے اگر درست جواب دو گے تو سمجھ جاؤں گی کہ سچ بول رہے ہو اور نیک نیتی سے آئے ہو۔
جو کچھ آپ چاہتی ہیں، وہ پوچھیں۔
تمہیں خدائے یکتا کی قسم دیتی ہوں، کیا رسول خدا ؐ سے تم نے سنا ہے کہ فرماتے تھے: فاطمہ، میری لخت جگر ہے؛ جو اس کو تکلیف دے اس نے مجھے تکلیف دی ہے؟!
ہاں، سنا ہے۔
حضرت زہراؑ نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا:
خدایا! ان دونوں نے مجھے تکلیف دی اور میں ان دونوں کی شکایت تیری بارگاہ میں اور تیرے پیغمبرؐ کی خدمت میں کروں گی۔
پھر ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
خدائے یگانہ کی قسم، تم دونوں سے ہرگز راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ اپنے پدر سے ملاقات کروں، ان کی خدمت میں تمہاری اپنی نسبت بد سلوکی کا حال بیان کروں گی اور آپؐ سے تمہارے معاملے میں انصاف کی درخواست کروں گی۔
اس لمحے ابوبکر نے فریاد کی اور سخت گریہ کیا اور خود کو زیانکار کہنے لگا؛ مگر اس کے دوست اور ساتھی نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ: اے رسول خدا کے جانشین! کیا اس عورت کی بات پر تو ڈر گیا ہے اور فریاد کر رہا ہے؟!

صحیح بخاری کی شہادت

[ترمیم]

صحیح بخاری میں منقول ہے کہ فاطمہؑ رحلت فرما گئیں مگر زندگی کے آخری لمحات تک ابوبکر پر غضبناک رہیں۔

کشف الغمہ کی روایت

[ترمیم]

کتاب کشف الغمہ کے مؤلف لکھتے ہیں: منقول ہے کہ فاطمہؑ نے نماز کے قصد سے وضو کیا۔ پھر اسماء بنت عمیس سے اپنا عطر و لباس طلب کیا اور جب اپنے بستر پر آرام فرما ہوئیں تو اس خوش بخت خاتون سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو، تو مجھے آواز دو؛ اگر میں اٹھ گئی تو نماز ادا کروں گی اور اگر میری آواز نہ سنی تو کسی کو علی کے پاس بھیجو اور انہیں خبر دو۔
نماز کا وقت ہو گیا؛ اسماء نے حضرت زہراؑ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے آپؑ کو آواز دی، مگر جواب نہیں سنا تو جان گئیں کہ فاطمہؑ دنیا سے جا چکی ہیں۔ کچھ دیر میں امام علیؑ گھر آئے اور اسماء نے اسلام کے عظیم الشان پیغمبرؐ کی عزیز بیٹی کی رحلت کی خبر آپؑ کو دی۔ امامؑ نے جواب دیا: یہ واقعہ کب ہوا؟! اسماء نے عرض کیا کہ اسی وقت جب آپ کو پیغام بھیجا تھا۔
ابن عباس کہتے ہیں: زہرا کی وفات پر پورے مدینے میں سوگ کی کیفیت تھی اور زن و مرد اپنی محبوب بانو کے سوگ میں اس طرح سر پیٹ رہے تھے اور سینہ کوبی کر رہے تھے کہ گویا رسول خداؐ کی رحلت کا دن ہو۔ رات ہو گئی اور امام علیؑ نے وصیت کے مطابق حضرت زہراؑ کا پاکیزہ اور دکھی پیکر سپرد خاک کر دیا۔
آخر کیوں زہراؑ کا جسدِ اطہر رات کی تاریکی میں سپرد خاک کیا گیا؟! اور کیوں انہیں بطور مخفی دفن کیا گیا؟!
ہاں، اس حال میں سپرد خاک کیا گیا کہ کوئی آپؑ کے جنازے میں حاضر نہیں ہوا اور آپؑ کا مزار مخفی رہا۔

حوالہ جات

[ترمیم]



ماخذ

[ترمیم]

ماخوذ از کتاب ’’وفاة الصدیقة الزهراء علیها السلام‘‘، عبد الرزاق المقرم۔    






جعبه ابزار