توحید اور نفی غلو کی توقیع

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



یہ تحرىر امام زمانہ ؑ کى توقىع مبارک کے اس حصے کے بارے مىں ہے جو آپؑ نے اپنے شیعوں کے اس سؤال کے جواب مىں صادر فرمائى تھى جسمىں آپؑ سے ائمّہؑ کے خالق اور رازق ہونے کے بارے مىں استفسار کىا گىا تھا۔یہ توقىع آپؑ کے دوسرے نائب أبو جعفر محمّد بن عثمان عمری کے ذرىعےصادر کى گئى تھى۔


توقىع محمد بن عثمان کا متن

[ترمیم]

قال مولانا الامام المهدی (ع): اِنَّ اللّهَ تَعالی هُوَ الَّذی خَلَقَ الأجْسامَ وَقَسَّمَ الأرْزاقَ، لأنَّهُ لَيسَ بِجِسْم وَلا حالٌّ فی جِسْم، لَيسَ کَمِثْلِهِ شیءٌ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ، وَاَمَّا الأَئِمَّةُ (عليهم‌السّلام) فَاِنَّهُمْ يسْاَلوُنَ اللّهَ تَعالی فَيخْلُقُ، وَيسْاَلوُنَهُ فَيرْزِقُ، اِيجاباً لِمَسْاَلَتِهِمْ وَاِعْظاماً لِحَقِّهِمْ)
فقط خداوندعالم نے ہى جسموں کو خلق فرماىا ہے اور (وہى ہے )جس نے رزق کو تقسىم کىا ہے، کىونکہ وہ جسم ىا جسم مىں حلول کرنے والا نہىں ہے، کوئى چىز اسکى مثل نہىں ہے، وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔اور جہاں تک ائمہؑ کا تعلق ہے تو وہ جب اللہ تعالى سے (کسى چىز کے خلق کرنےکى)درخواست کرتےہىں ،اللہ اسے خلق کردىتا ہے اور جب (رزق دىنے کا)سؤال کرتے ہىں تو خدا عطا فرماتا ہے، اوریہ کام اللہ تعالى ،ائمہ اہل بىت ؑکى دعا کى قبولىت اور انکے حق کى عظمت کو واضح کرنے کىلئے انجام دىتا ہے۔

اہل بىتؑ کے مقام ومنزلت مىں اختلاف

[ترمیم]

شیخ طوسی اپنى کتاب الغیبہ مىں فرماتے ہىں کہ شیعوں کے اىک گروہ کے درمىان،اہل بیتؑ کے مقام ومرتبہ کے بارے مىں اختلاف پىدا ہوا۔

← اہل بىتؑ کا خالق اور رازق ہونا


بعض اس بات کے قائل تھے کہ اللہ تعالى نے ائمہ معصومینؑ کو خلق کرنے اور رزق دینے کى قدرت عطا فرمائى ہے ۔انکے مقابلے مىں اىک گروہ کا عقیده یہ تھا کہ یہ أمر ناممکن اور محال ہے ،اور خداوند عالم کىلئے یہ جائز نہىں ہے کہ خلقت اور رزق دىنے کا کام ائمہؑ کے سپرد کرے، کىونکہ فقط خداوند متعال ہى ہے جو جسموں کو خلق کرنے پر قادر ہے۔
مذکورہ مسئلہ مىں شىعوں کے درمىان شدىد اختلاف پىدا ہوگىا، اس وقت محفل مىں موجود اىک شخص نے کہا:تم لوگ امامؑ کے نائب ابو جعفر محمد بن عثمان کے پاس کىوں نہىں جاتے اور اس مسئلے مىں ان سے سؤال کىوں نہىں کرتے تاکہ حق تمہارے لئے واضح ہوجائے۔ابو جعفر محمد بن عثمان ہى ہمارے اور امامؑ کے درمىان واسطہ ہىں۔شىعہ اس شخص کى بات پر رضامند ہوگئے اور (امامؑ)کو اىک خط لکھا جسمىں اپنے اختلافى مسئلہ کے بارے مىں امامؑ سے سؤال کىا۔

← خلقت اور روزى دىنے کى نفى


امام زمانہؑ نے اس خط کے جواب مىں تحرىر فرماىا:
خالق کا جسم نہىں ہونا چاہىےاور رازق کو روزى نہىں کھانى چاہىے ،نتىجہ یہ ہوا کہ ہم چونکہ جسم رکھتے ہىں اور روزى (بھى)کھاتے ہىں ،لہذا ہم نہ خلق کرنے والے ہىں اور نہ ہى رازق ہىں۔

← اللہ کے نزدىک اہل بىتؑ کا مقام


لىکن خدا وند نے ہمارے حق کو عظىم قرار دىا ہے اور اللہ ہمارى درخواست قبول فرماتا ہے، لہذا جب ہم کوئى دعا کرتے ہىں تو قبول ہوجاتى ہے ،نہ یہ کہ ہم مستقل (خدا کى قدرت واذن کے بغىر)طور پر ان چىزوں کى قدرت رکھتے ہىں۔

متعلقہ عنوانات

[ترمیم]

حسن عاقبت کی توقیع؛ محبت کے بارےمیں توقیع؛ حق کا باطل پر فتحیاب ہونے کی توقیع؛ نیک انجام کی توقیع؛ حاجت طلب کرنے کی کیفیت کی توقیع؛ ہدفِ بعثت کی توقیع؛ اہل بیت کی محبت کےبارےمیں توقیع؛ حکمِ وقف کی توقیع؛ تکلف سے نہی کی توقیع؛ امام زمانہ کو أذیت دینے والوں کے بارےمیں توقیع؛ منکرینِ امام زمانہ کےبارے میں توقیع؛ شک سے نہی کی توقیع؛ شکوک وشبہات سے نہی کی توقیع؛ نمونہ امام زمانہ کی توقیع؛ لوگوں کے مال کی حرمت کی توقیع۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. طوسی، محمد بن حسن، الغیبہ، ص۲۹۴، حدیث۲۴۸۔    
۲. طبرسی، احمد بن علی، احتجاج، ج۲، ص۲۸۵۔    
۳. مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج۲۵، ص۳۲۹، حدیث۴۔    


مأخذ

[ترمیم]

ویب سائٹ،اندیشہ قم، مأخوذاز «توقیع توحید و نفی غلو»، تاریخ نظرثانی ۱۳۹۵/۰۴/۰۱۔    






جعبه ابزار