عبد الرزاق بن ہمام بن نافع حمیری صنعانی

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



عبد الرزّاق بن ہمّام بن نافع حمیر (متوفی ۲۱۱ ھ) کا شمار اہل سنت کے اکابر محدثین و مفسرین میں ہوتا ہے۔ آپ امام علیؑ سے انتہائی محبت کرتے تھے اور ان کے قاتلوں سے واضح طور پر نفرت کا اظہار کرتے۔ صحاح ستہ کی تمام کتب میں آپ سے روایات کو لیا گیا ہے۔ علماء جرح و تعدیل نے صراحت کے ساتھ آپ کی توثیق و عدالت کو بیان کیا ہے۔ اگرچے بعض نے آپ میں شیعہ عناصر ہونے کی وجہ سے تنقید کی ہے لیکن اس کے باوجود علماءِ اہل سنت نے آپ کو حدیث میں ثقہ اور اہل سنت کے اکابر محدثین و مفسرین میں سے شمار کیا ہے۔


اجمالی تعارف

[ترمیم]

عبد الرزاق بن ہمام یمن کے علاقہ صنعاء سے تعلق رکھتے ہیں اور معمر بن راشد (متوفی ۱۵۳ھ) کے ہاتھوں پلے بڑھے ہیں۔ ان کا شمار قرآن کریم کے اہم حفّاظ میں ہوتا ہے اور حدیث و تفسیر میں نمایاں شخصیت شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کو قتادہ کی شاگردی کا افتخار بھی حاصل ہے اور اسی استاد سے آپ نے علم تفسیر کو کسب کیا۔ نیز عبد الملک بن جریج اور سفیان بن عیینہ اور دیگر بزرگ تابعین سے علوم کو کسب کیا۔ احمد بن حنبل، یحیی بن معین اور دیگر اکابر محدثینِ اہل سنت نے آپ سے احادیث و روایات کو نقل کیا ہے۔

علمی آثار

[ترمیم]

عبد الرزاق بن ہمام کی دو کتابیں اہمیت کی حامل شمار کی جاتی ہیں: ا۔ الجامع الکبیر فی الحدیث، ص۔ کتاب التفسیر کہ اس کتاب کی تحقیق و تخریج ڈاکٹر عبد المعطی امین قلعجی نے کی ہے اور یہ کتاب بیروت سے چھپ چکی ہے۔
[۱] طالقانی، تاریخ تفسیر، ص ۱۵۷۔
طبری اور دیگر مفسرین نے کثیر موارد میں عبد الرزاق بن ہمام سے تفسیر نقل کی ہے اور ان کی بیان کردہ احادیث سے تمام محدثین و مفسرین علمی دنیا میں استدلال قائم کرتے ہیں۔

اہل سنت علماء رجال کا موقف

[ترمیم]

اہل سنت کے تمام اکابر علماءِ جرح و تعدیل نے عبد الرزاق بن ہمام کو ثقہ اور معتمد قرار دیا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ بخاری اور مسلم نے آپ کی نقل کردہ احادیث پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی صحاح کی زینت بنایا ہے۔ صحاح ستہ کے تمام مؤلفین نے آپ سے روایات کو نقل کیا ہے۔ شمس الدین داوودی آب کے بارے میں کہتے ہیں: عبد الرزاق، معمر بن راشد کی احادیث کے حافظ تھے، کثیر نے ان کی توثیق بیان کی ہے، صحاح میں ان کی احادیث کو نقل کیا گیا ہے۔ ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ان پر طعن و تشنیع کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ غالی نہیں تھے بلکہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والے اور ان کے قاتلوں سے نفرت کرنے والے تھے۔

ذہبی نے اپنی تمام رجال کی کتابوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ذہبی ان کے بارے میں تحریر کرتے ہیں: آپ ۱۲۶ ھ میں متولد ہوئے اور ابھی بیس سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ علم کو طلب کرنے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ سات سال معمر بن راشد کے پاس گزارے۔ آپ علم کا خزانہ تھے۔ اعلام و بزرگان نے آپ کو ثقہ قرار دیا ہے۔

عبد الرزاق کا عمر بن خطاب کو احمق کہنا

[ترمیم]

عبد الرزاق بن ہمام پر جن بزرگان نے تنقید اور جرح کی ہے اس کی بنیادی وجہ ان کا امام علیؑ کی طرف مائل ہونا اور بعض صحابہ کے بارے میں سخت الفاظ کہہ دینا ہے۔ ذہبی اور متعدد علماء رجال نے واقعہ نقل کیا ہے کہ علی بن عبد اللہ صنعانی نے بیان کیا ہے کہ زید بن مبارک عبد الرزاق کے ساتھ ساتھ رہتے تھے اور ان سے کثیر روایات نقل کیں، لیکن بعد میں اپنی ان کتابوں کو جلا دیا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم عبد الرزّاق کے پاس تھے اور وہ ہمیں معمر کی حدیث بیان کر رہے تھے، کہ معمر نے زہری سے، زہری نے مالک بن اوس بن حدثان سے نقل کیا ہے جوکہ طویل حدیث ہے جس میں امام علیؑ اور جناب عباس بن عبد المطلب کا میراث کے مسئلہ میں باہمی اختلاف خلیفہ دوم کے پاس ذکر کیا گیا ہے، تو خلیفہ دوم نے انہیں یاد دلایا کہ آپ دونوں مجھے اور خلیفہ اول کو میراثِ رسول اللہؐ کے معاملہ میں گناہ گار، خائن، دھوکہ باز سمجھتے تھے۔ پس جب عبد الرزاق بن ہمام کے سامنے امام علیؑ اور جناب عباس کے متعلق عمر بن خطاب کا یہ قول پڑھا گیا: (اے عباس) تم اپنے بھتیجے کی میراث کا مطالبہ کر رہے ہو، جبکہ (علیؑ) اپنی زوجہ کی میراث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ کلام جب عبد الرزاق کے سامنے پڑھا گیا تو فورا عبد الرزاق بن ہمام نے خیفہ دوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ذرا دیکھو اس احمق و بے وقوف کو دیکھو جوکہ یہ کہہ رہا ہے کہ تم اپنے بھتجیے کی اور وہ اپنی زوجہ کی میراث جو انہوں نے اپنے والد سے حاصل کی ہے کو طلب کر رہا ہے، (یہ احمق) یہ نہیں کہہ رہا : رسول اللہؐ!!! زید بن مبارک نے پھر کہا: جب عبد الرزاق نے خیلفہ دوم کو احمق کہا تو نہ کبھی اس کے پاس گیا ہوں اور نہ اس سے روایت نقل کرتا ہوں۔

عبد الرزاق بن ہمام کا حضرت عمر بن خطاب کو اَنۡوَک یعنی احمق کہنے کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑا کہ عبد الرزاق پر بھی خوب سب و شتم اور لعن طعن کی گئی۔ ذہبی نے ان کلمات کو ذکر کرنے کے بعد عبد الرزاق کی مذمت ان الفاظ میں کی: فَإِنَّكَ يَا هَذَا لَوْ سَكَتَّ لَكَانَ أَوْلَى بِكَ ... بَلِ الصَّوَابُ أَنْ نَقُوْلَ عَنْكَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الأَنْوَكِ الفَاعِلِ عَفَا اللهُ عَنْهُ كَيْفَ يَقُوْلُ عَنْ عُمَرَ هَذَا؛ او عبد الرزاق اگر تو خاموش رہتا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوتا ... بل صحیح یہ ہے کہ اے عبد الرزاق ہم تیرے بارے میں یہ کہتے ہیں: اس احمق بے وقوف کی طرف دیکھوں جو توہین کرنے والا ہے -اللہ اس کو معاف کرے- بھلا یہ کیسے عمر کے بارے میں جسارت کر رہا ہے!! ان بیانات میں اگرچے عبد الرزاق بن ہمام نے خلیفہ دوم کو اَنۡوَک اور احمق کہہ کر بہت بڑی جسارت کی ہے اور قواعد جرح و تعدیل کے مطابق یہ عدالت و وثاقت کے بطلان کا سبب بنتا ہے لیکن اس کے باوجود اگلی سطور میں ذہبی نے ان کلمات میں عبد الرزاق کی توثیق ذکر کی ہے: وَبِكُلِّ حَالٍ فَنَسْتَغْفِرُ اللهَ لَنَا ولعبد الرَّزَّاقِ فَإِنَّهُ مَأْمُوْنٌ عَلَى حَدِيْثِ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَادِقٌ؛ بہرحال، ہم اللہ ہی سے اپنے لیے اور عبد الرزاق کے لیے استغفار کرتے ہیں، عبد الرزاق حدیثِ رسول اللہؐ میں امین و مامون اور صادق و سچا ہے۔ اسی طرح ابن معین نے واضح کہا کہ اگر عبد الرزاق بن ہمام مرتد بھی ہو جائے تو بھی میں اس کی حدیثوں کو ترک نہیں کروں گا۔

عبد الرزاق کا معاویہ سے اظہار نفرت کرنا

[ترمیم]

علماء رجال نے تحریر کیا ہے کہ عبد الرزاق بن ہمام کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان کا تذکرہ کیا گیا عبد الرزاق فورا بول اٹھے: لاَ تُقَذِّرْ مَجْلِسَنَا بِذِكْرِ وَلَدِ أبي سفيان!؛ ابو سفیان کے بیٹے کا تذکرہ کر کے ہماری محفل کو گندگی سے آلودہ نہ کرو۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. طالقانی، تاریخ تفسیر، ص ۱۵۷۔
۲. داوودی، محمد بن علی مالکی، طبقات المفسرین، ج ۱، ص ۳۰۲۔    
۳. ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال، ج ۲، ص ۶۰۹۔    
۴. ذہبی، محمد بن احمد، تذکرة الحفاظ، ج ۱، ص ۳۶۴۔    
۵. ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تہذیب التہذیب، ج ۶، ص ۳۱۰۔    
۶. مسلم نیشاپوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج ۳، ص ۱۳۷۷۔    
۷. ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج ۸، ص ۲۲۶۔    
۸. ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ دمشق، ج ۳۶، ص ۱۸۸۔    
۹. ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال، ج ۲، ص ۶۱۱۔    
۱۰. ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ دمشق، ج ۳۶، ص ۱۸۸۔    
۱۱. ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال، ج ۲، ص ۶۱۱۔    
۱۲. ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج ۸، ص ۲۲۷۔    
۱۳. ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال، ج ۲، ص ۶۱۰۔    
۱۴. ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج ۸، ص ۲۲۵۔    


مأخذ

[ترمیم]

معرفت،محمد ہادی،تفسیر و مفسران،ج۱،ص۴۲۹۔    
بعض مطالب اور حوالہ جات ویکی فقہ اردو سے مربوط محققین کی جانب سے اضافہ کیے گئے ہیں۔






جعبه ابزار