احمد بن حارث انماطی کوفی واقفی

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



احمد بن حارث انماطی کوفی واقفی کا شمار امام جعفر صادقؑ اور امام موسی کاظمؑ کے اصحاب میں ہوتا ہے۔ احمد بن حارث کا تعلق واقفیہ فرقے سے تھا۔ چونکہ آپ کی زندگی امام موسی کاظمؑ کے زمانے میں گزری ہے اس لیے اس کا دوسری صدی ہجری کے محدثین میں کیا جا سکتا ہے۔


اجمالی تعارف

[ترمیم]

احمد بن حارث انماطی کوفی واقفی امام صادقؑ اور امام کاظمؑ کے اصحاب میں سے ہیں۔ امام موسی کاظمؑ کی شہادت کے بعد وہ امام رضاؑ کی امامت پر ایمان نہیں لائے اور واقفیہ مذہب اختیار کر لیا۔

علماء رجال کی نگاہ میں

[ترمیم]

نجاشی نے احمد بن حارث کو مفضل بن عمر کے ساتھیوں میں شمار کیا ہے۔ بعض علماء رجال نے احمد بن حارث کی روایات پر تأمل اور سکوت اختیار کیا ہے۔ آپ کے بارے میں چونکہ خصوصی مدح وارد نہیں ہوئی اس لیے علامہ حلی اور ابن‌ داود نے آپ کا نام اپنی کتاب کی دوسری قسم میں تحریر کیا ہے۔ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ کی طرف واقفی ہونے کی نسبت علامہ حلی سے پہلے کسی نے نہیں دی۔ لیکن یہ بات اس لیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اوپر واضح بیان ہو چکا ہے کہ کشی نے آپ کو واقفی لکھا ہے۔

جزائری
[۱۰] اسدی جزائری، عبد النبی بن سعد الدین، حاوی الاقوال، ج۱، ص۲۷۵۔
اور مجلسی نے آپ کو ضعیف راوی شمار کیا ہے۔

بعض علماء رجال انماطی اور واقفی کو دو الگ الگ شخصیات قرار دیتے ہیں۔ لیکن کشّی کی عبارت بہترین شاہد ہے کہ انماطی اور واقفی دونوں ایک ہی شخص کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

آثار

[ترمیم]

احمد بن حارث کی حدیث کے موضوع پر ایک کتاب ہے جس کا نام کتاب الحدیث ہے۔ حسن بن محمد بن سماعہ نے آپ سے روایت نقل کی ہے ۔ احمد کی ایک اور کتاب کا نام کتاب الدعوات ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے

[ترمیم]

اگر اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل منابع کی طرف رجوع کریں:
۱۔ نقد الرجال۔
۲۔ قاموس الرجال۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، ص۳۳۲۔    
۲. برقی، احمد بن محمد، رجال البرقی، ص۲۱۔    
۳. طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، ص۴۶۸۔    
۴. نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۹۹۔    
۵. مامقانی، عبد الله، تنقیح المقال، ج۵، ص۳۸۱۔    
۶. حلی، حسن بن یوسف، خلاصۃ الاقوال، ص۳۱۹۔    
۷. ابن‌داؤد حلی، حسن بن علی، رجال ابن داود، ص۲۲۷۔    
۸. مامقانی، عبد الله، تنقیح المقال، ج۵، ص۳۸۱۔    
۹. طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، ص۴۶۸۔    
۱۰. اسدی جزائری، عبد النبی بن سعد الدین، حاوی الاقوال، ج۱، ص۲۷۵۔
۱۱. مجلسی، محمد باقر، الوجیزه، ص۱۸۔    
۱۲. ابن‌داود حلی، حسن بن علی، رجال ابن داود، ص۲۲۷۔    
۱۳. طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، ص۴۶۸۔    
۱۴. طوسی، محمد بن حسن، الفہرست، ص۳۶۔    
۱۵. اردبیلی، محمد بن علی، جامع الرواة، ج۱، ص۴۴۔    
۱۶. ابن‌شہر آشوب، محمد علی، معالم العلماء، ص۲۲۔    
۱۷. تفرشی،سیدمصطفی بن حسین، نقد الرجال، ص۱۱۱۔    
۱۸. تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، ج۱، ص۴۱۳۔    


مأخذ

[ترمیم]

پژوہشگاه فرہنگ و معارف اسلامی، دائرة المعارف مؤلفان اسلامی، ج۱، ص۱۱۸، مقالہِ احمد انماطی سے یہ تحریر لی گئی ہے۔






جعبه ابزار