باب اشتغال

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



اشتغال عربی زبان کا لفظ ہے جوکہ افتعال کے وزن پر آتا ہے۔ اس کے اصلی حروف ش-غ-ل ہیں اور مصدر شَغۡل ہے۔ علم نحو میں مفعول بہ کے ذیل میں اس سے بحث کی جاتی ہے۔ مفعول بہ کے عامل کو پانچ موارد میں وجوبًا حذف کیا جاتا ہے جن میں سے ایک باب اشتغال ہے۔ باب اشتغال کے اہم ارکان مشغول عنہ، مشغول اور مشغول بہ ہے۔


اشتغال کے لغوی معنی

[ترمیم]

عربی لغت میں شغل کے لغوی معنی فراغت کے برعکس یعنی مصروف و سرگرم ہونا ہے۔ اسی کلمہ کو باب افتعال میں لے جائیں تو یہ اشتغال بن جاتا ہے، مصباح منیر میں مثال لغوی معنی کی مثال اس طرح سے دی گئی ہے:شُغِلْتُ بِهِ: تَلهَیۡتُ بِهِ؛ شُغِلْتُ بِہِ یعنی اس کے ذریعے مشغول و مصروف کر دیا گیا۔ کلمہ اِشۡتَغَلَ کے مشتقات کو دو حرف جر کے ساتھ متعدی کیا جاتا ہے۔ جب بھی اس کو حرف جر باء سے متعدی کیا جائے تو اس کے معنی کسی شیء کے ساتھ مشغول ہونے کے ہوں گے۔ باء کے بعد اس شیء کو ذکر کیا جاتا ہے جس کے ساتھ مشغولیت اختیار کی گئی ہے۔ اسی طرح جب بھی اِشۡتَغَلَ اور اس کے مشتقات کو حرف جر عَنۡ کے ساتھ متعدی کیا جاتا ہے تو اس کا معنی منہ موڑنا اور کسی کام سے منصرف ہو گا۔ جس کام سے رخ پھیرا گیا ہے یا جس شیء سے منصرف ہوا گیا ہے اس کو عَنۡ کے بعد ذکر کیا جاتا ہے۔

← اصطلاحی معنی


علم نحو میں اس باب کو اشۡتِغَالُ العامِلِ عَنِ المَفۡعولِ کہتے ہیں۔ اس کی تعریف کرتے ہوئے علماءِ نحو ذکر کرتے ہیں کہ اشتغال اس اسم کو کہتے ہیں جس کو اس کے عامل پر مقدم کیا گیا ہو اور وه عامل اس اسم مقدم کی ضمیر پر عمل کر رہا ہو کہ اگر یہ ضمیر نہ ہوتی تو یہ عامل حتمًا اسم مقدّم پر عمل کر رہا ہوتا۔ بالفاظِ دیگر ایک اسم کو اس کے عامل سے پہلے ذکر کریں اور وہ عامل اس اسم سے رخ پھیر کر اس اسم کی ضمیر پر عمل کرے اور اسم کی بجائے اس کی ضمیر کے ساتھ مشغول ہو جائے۔ ضمیر ایسی ہونی چاہیے جوکہ اس اسم کے لیے لائی جا سکے جس کی علامت یہ ہے کہ ضمیر کی جگہ اس اسم کو رکھا جانا صحیح قرار پائے۔ نیز عامل سے مراد فعل اور شبہ فعل ہے یعنی اسم فاعل و اسم مفعول ہے۔
[۵] استرآبادی، محمد بن حسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷ ـ ۴۳۹۔
مثلا زَیۡداً أَکۡرَمۡتُهُ میں زَیۡداً اسم متقدم ہے اور أکۡرَمۡتُ عاملِ متأخر ہے جس کے بعد هُ ضمیر ذکر کی گئی ہے جو اسم متقدم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر یہ ضمیر نہ ہوتی تو أَکۡرَمۡتُ کے لیے زَیۡداً کے عامل کی صلاحیت موجود نہ رہتی۔ لہٰذا أَکَرَمۡتُ کے بعد ضمیر موجود ہونے کے باوجود یہ زَيۡدًا پر عمل نہیں کر رہا بلکہ زَیۡدًا کا عامل تقدیر میں ہے۔

اشتغال کا نام دینے کی وجہ

[ترمیم]

مذکورہ بالا لغوی اور اصطلاحی تعریف سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس باب کو بابِ اشتغال اس لیے کہا جاتا ہے کہ عامل اسم مقدم کی بجائے اس کی ضمیر کے ساتھ مشغول اور سرگرمِ عمل ہو گیا ہے۔

اشتغال کا مورد

[ترمیم]

باب اشتغال میں اہمیت کا حامل مورد اسم مقدم یعنی مشغول عنہ ہے۔ علماء نحو اس اسم مقدم کے اعراب کے بارے میں بحث کرتے ہیں اور اس بحث کو علم نحو میں مرفوعات اور منصوبات ہر دو مورد میں ذکر کیا ہے۔ کیونکہ اسم مقدم کو بعض مورد میں مرفوع کیا گیا ہے اور بعض موارد میں منصوب۔ اس کے مقابلے میں بعض نحویوں نے اس کو فقط منصوبات کی بحث قرار دیا ہے اور مفعول بہ کے عنوان میں اس کو ذکر کیا ہے۔ مفعول بہ کے عنوان میں ایک بحث کی جاتی ہے کہ وہ موارد جن میں مفعول بہ کا عامل وجوبًا محذوف ہوتا ہے جن میں سے ایک مورد باب اشتغال ہے جس میں اسمِ مقدم کا عامل وجوبًا محذوف ہے۔ نیز اس کو مفعول بہ کے علاوہ مَا أُضۡمِرَ عَامِلُهُ عَلَی شَرِیۡطَةِ التَّفۡسِیۡرِ کے عنوان کے ذیل میں بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ مَا أُضۡمِرَ عَامِلُهُ عَلَی شَرِیۡطَةِ التَّفۡسِیۡرِ یعنی وہ معمول جس کا عامل اس شرط کی بناء پر حذف کر دیا گیا ہے کیونکہ کلام میں مذکور عامل اس محذوف عامل کی تفسیر کر رہا ہے۔
[۹] جمعی از نویسندگان، جامع المقدمات، کتاب الہدایۃ فی النحو، ص۳۴۷۔
[۱۰] استرآبادی، محمد بن حسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔


اشتغال کے ارکان

[ترمیم]

اشتغال کی تعریف سے اشتغال کے تین ارکان سامنے آتے ہیں:
۱. مشغول (عامل)
۲. مشغول عنہ (اسم مقدم)
۳. مشغول بہ (عامل کے بعد مذکور ضمیر)
ذیل میں ان ارکان کی وضاحت پیش کی جاتی ہے:

← ۱. مشغول


مشغول سے مراد وہی عامل ہے جو کہ اسم مقدم عمل انجام دینے سے منصرف ہو گیا ہے اور اس کو چھوڑ کر اس کی ضمیر پر عمل کر رہا ہے، مثلا زیداً أکرمتُهُ، اس میں أکرمتُ عامل اور مشغول ہے۔

←← چند اہم نکات



←←← اول


ضروری نہیں ہے کہ مشغول یعنی عمل فعل ہو بلکہ مشغول اسم بھی ہو سکتا ہے جیسے اسم فاعل اور اسم مفعول؛ مثلا یہ دو مثالیں ملاحظہ کریں: الأَمِیۡنُ أَنَا مُشَارِکُه اور البَاطِلُ الحقُ مَنۡصُورٌ عَلَیۡهِ، ان دو مثالوں میں مُشَارِک اسم فاعل اور مَنۡصُوۡر اسم مفعول عامل (مشغول) ہیں۔

←←← دوم


عامل جب مشغول بہ پر عمل کر رہا ہو تو یہ ممکن ہے کہ وہ متعدی بنفسہ ہو، مثلا زیداً ضربتُه، اس مثال میں عامل بذاتِ خود متعدی ہے اور مشغول بہ یعنی ضمیر پر عمل کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لے لیں: زیداً مررتُ به، اس مثال میں عامل حرفِ جر کے توسط سے متعدی ہو رہا ہے۔

←←← سوم


عامل اپنے ماقبل موجود اسم پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ بالفاظ دیگر مشغول (عامل) یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ مشغول عنہ (اسم مقدم) پر عمل کر سکے؛ مثلاً فعل متصرف،
[۱۶] صفائی بوشهری، غلام‌علی، بداءة النحو، ص ۸۰۔
اسم فاعل، اسم مفعول۔ لہٰذا جن موارد میں فعل غیر متصرف ہو یا اسم تفضیل، اسم فعل، مصدر، صفت مشبہ وغیرہ ... ایسے حروف پر مشتمل ہوں جوکہ عمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ باب اشتغال سے خارج ہیں۔ فعل متصرف سے مراد وہ فعل ہے جو ایک جہت میں مقید نہیں رہتا بلکہ اس سے کئی صیغے مشتق ہوتے ہیں، جیسے عَلِمَ سے یَعۡلَمُ ،اِعۡلَمۡ۔ اس کے مقابلے میں فعل غیر متصرف ہوتا ہے جو ایک جہت کے علازہ تصریف نہیں ہوتا، جیسے عَسَی، تَعاَل۔

←←← چہارم


مشغول جب فعل ہو تو ضروری ہے کہ اسم مقدم اس مشغول (عامل) کے ساتھ متصل ہو اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔ البتہ اس سے وہ موارد مستثنی ہیں جن میں فاصلہ کا آنا جائز ہے۔

← ۲. مشغول‌عنہ


اس سے مراد اسم مقدم ہے کہ عامل نے اس سے روگردان ہو گیا ہے اور اس کے غیر یعنی مشغول بہ کے ساتھ مشغول ہو گیا ہے۔

←← مشغول عنہ کی شرایط


مشغول عنہ کی درج ذیل شرائط نحویوں نے ذکر کی ہیں:
۱. ضروری ہے کہ مشغول عنہ (اسم مقدم) عامل پر مقدم ہو۔ پس ضَرَبۡتُهُ زَیۡداً جیسے موارد باب اشتغال سے خارج ہیں۔
۲. مشغول عنہ سے ضمیر لانا ممکن ہو، اگر مشغول عنہ ایسا ہے جس سے ضمیر کو مشغول کے بعد ذکر نہیں کیا جا سکتا تو یہ مورد باب اشتغال سے خارج ہو جائے گا، جیسے حال اور تمییز مشغول عنہ نہیں بن سکتے کیونکہ ان سے ضمیر نہیں لائی جا سکتی۔
۳. مشغول عنہ ایسا ہو کہ جملہ میں اس سے بے نیازی اختیار نہں کی جا سکتی اور اس کا تذکرہ جملہ کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہو۔ پس جاء زیدٌ فأکرمهُ جیسے مثالیں باب اشتغال سے خارج ہیں کیونکہ اس مثال میں میں زَیۡدٌ اپنے سے ماقبل فعل کے ساتھ مل کر جملہ مکمل کر رہا ہے اور جملہ مکمل کرنے کے لیے أَکۡرِمُہُ کا محتاج نہیں ہے۔
۴. مشغول عنہ مبتدأ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر مشغول عنہ ایسا نکرہ ہو جو مبتدأ نہیں بن سکتا تو یہ مورد باب اشتغال سے خارج ہے۔ کیونکہ مبتدأ میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہو یا مسوِّغات نکرہ میں سے ہو، یعنی مبتدأ ایسا نکرہ ہو جس سے ابتداء ہو سکتی ہے، مثلا نکرہ مضاف مضاف الیہ کی صورت میں لایا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کو تخصیص حاصل ہو جاتی ہے اور اس طرح سے نکرہ مبتدأ قرار پا سکتا ہے۔

← ۳. مشغول بہ


مشغول بہ سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ عامل مشغول ہو گیا ہے۔ عامل جب مشغول عنہ سے روگردان اور منصرف ہو کر مشغول عنہ کے غیر کے ساتھ مشغول ہو تو ایسی صورت میں عامل جس سے مشغول ہوا ہے اسے مشغول بہ کہا جاتا ہے۔

←← چند اہم نکات


مشغول بہ اسم مقدم کی ضمیر ہو سکتا ہے، جیسے زیداً أکرمتُهُ۔ مشغول بہ میں ہر وہ جو اسمِ مقدم کی ضمیر پر مشتمل ہو یا اسم مقدم سے کسی نوعیت کا تعلق یا ربط رکھتا ہو اس کو سببی اسم مقدم کہتے ہیں۔ مندرجہ ذیل دو مثالوں پر غور کریں ہر دو مثالیں سببی اسم مقدم ہیں:
۱. زیداً أَکۡرَمۡتُ أَبَاهُ؛ اس مثال میں أَبَاہُ مشغول‌بہ، عامل کا معمول اور اسم مقدم کی ضمیر پر مشتمل ہے۔ نیز أَبَاہُ کا زید جوکہ اسم مقدم ہے کہ ساتھ تعلق باپ اور بیٹا کا ہے۔
۲. زیداً ذَمَمۡتُ رجلاً یُبۡغِضُهُ؛ اس مثال میں رَجُلاً مشغول‌بہ ہے اور متبوع ہے جس کا تابع یُبۡغِضُهُ ہے اور یہ تابع اسم مقدم کی ضمیر پر مشتمل ہے۔

عامل کا مقدَّر (مفسّر) ہونا

[ترمیم]

انباری نے ذکر کیا ہے کہ عامل کے مقدر ہونے سے مراد یہ ہے کہ ظاہرِ کلام میں اسم مقدم کا عامل اس سے پہلے محذوف ہو اور نیت میں ہو۔ اگر اسم مقدم منصوب ہو تو اس کا عامل تقدیر میں ہو گا۔
اس طرف توجہ رہنی چاہیے کہ اسم مقدم کے عامل کا تقدیر میں ہونا بصریوں کے مذہب کے مطابق ہے۔ جبکہ کوفی منصوب ہونے والے اسم مقدم کا عامل جملہ میں مذکور فعل کو قرار دیتے ہیں، مثلا زَیۡداً ضَرَبۡتُهُ میں زیداً مفعول بہ کی بناء پر منصوب ہے اور مسلکِ بصری کے مطابق اس کا فعل ضَرَبۡتُ مقدّر ہے۔ پس تقدیری طور پر کلام یہ ہو گا: ضَرَبۡتُ زَیۡداً، ضَرَبۡتُهُ، پہلے فعل ضَرَبۡتُ کو اس لیے حذف کر دیا گیا کہ بعد آنے والا فعل اس محذوف فعل کی تفسیر کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں کلام میں مذکور فعل کو مُفسِّر" یعنی تفسیر کرنے والا اور محذوف فعل کو فعل مقدَّر یعنی فعل مفسَّر کہا جائے گا۔
[۲۶] استرآبادی، محمد بن الحسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔


← چند اہم نکات



←← اول


تقدیر میں موجود عامل کا حذف کرنا واجب ہے کیونکہ جملہ میں مذکور عامل اس مقدَّر عامل کی تفسیر کر رہا ہے اور اس سے عوض کے طور پر آ رہا ہے۔ لہٰذا اگر کلام میں عاملِ مقدّر ظاہر ہو جائے تو بعد والا عامل مفسِّر اور عوض نہیں کہلائے گا۔
[۲۷] استرآبادی، محمد بن الحسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔


←← دوم


جملہ میں مذکور عامل (مفسِّر) اور اس کا فاعل مل کر جملہِ مفسِّرہ کو تشکیل دیتے ہیں اور اس جملہ تفسیری کے اعراب نہیں ہوں گے۔بعض علماءِ نحو نے سات موارد ایسے ذکر کیے ہیں میں جملہ کے محلی اعراب نہیں ہوتے جن میں سے ایک جملہِ تفسیریہ ہے جس کے محلًا اعراب نہیں ہوتے۔
[۳۰] جمعی از علماء، جامع المقدمات، كتاب الصمدیۃ، ج ۲، ص ۵۸۴۔


←← سوم


عاملِ مقدّر (مفسَّر) اور کلام مین مذکور عامل (مفسِّر) کے درمیان نکتہِ اشتراک کو ملاحظہ کریں تو یہ تین حالتوں سے خالی نیہں ہیں:
أ. دونوں میں لفظ اور معنی کے اعتبار سے مشارکت ہے، مثلا زیداً ضربتُهُ؛ اس مثال میں ضَرَبۡتُ عاملِ مقدّر ہے اور کلام میں مذکور ضَرَبۡتُ لفظ اور معنی کے اعتبار سے اس عامل مقدر کے عین مطابق ہے۔
ب. دونوں میں صرف معنی کے اعتبار سے یکسانیت و مشارکت ہو، جیسے زیداً مررتُ به؛ اس مثال میں جاوزتُ عاملِ مقدَّر ہے جوکہ فقط معنی میں مَرَرۡتُ بَهِ کے ساتھ مشارکت رکھتا ہے۔
ج. دونوں میں نہ لفظ کے اعتبار سے یکسانیت و مشارکت پائی جاتی ہے اور نہ معنی کے اعتبار سے بلکہ دونوں میں تلازم پایا جاتا ہے۔ دونوں میں تلازم کی صورت اس طرح بنے گی کہ عاملِ مقدر لازم اور کلام میں مذکور عامل اس کا ملزوم واقع ہو، مثلا زَیۡداً ضَرَبۡتُ أخَاهُ؛ اس مثال میں أَهَنۡتُ عامل تقدیر میں ہے اور عرف کی نظر میں ایک شخص کا اپنے بھائی کو مارنا اس کی اہانت اور توہین کرنا ہے۔ لہٰذا أَهَنۡتُ عرفی طور پر عامل ہے اور زَیۡداً کو اپنا مفعول بہ ہونے کی بناء پر نصب دے رہا ہے۔

قرآن کریم میں اشتغال کے نمونے

[ترمیم]

قرآن کریم کی متعدد آیات میں باب اشتغال کے نمونے ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

← سورہ نحل: آیت ۵


وَالۡأَنۡعَامَ خَلَقَها؛ اور مویشی جنہیں اس نے خلق کیا۔ اس آیت کریمہ میں الۡأَنۡعَامَ اسم مقدم اور مفعول بہ کی بناء پر منصوب ہے جس کا عامل خَلَقَ محذوف ہے اور آیت میں مذکور خَلَقَ اس محذوف کے عوض آیا ہے۔

← سورہ قمر: آیت ۴۹


اِنّا کلَّ شیءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ؛ بے شک ہم نے ہر شیء کو مقدار کے مطابق خلق کیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں کلَّ اسم مقدم اور مفعول بہ ہونے کی بناء پر منصوب ہے جس کا عامل خَلَقْنا تقدیر ہے اور اس کے عوض آیت کریمہ میں مذکور خَلَقْنَاہُ آیا ہے۔

حدیث مبارک میں اشتغال کے نمونے

[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ اور آئمہ اطہار علیہم السلام کا کلام فصاحت و بلاغت کی اوج پر پہنجا ہوا کلام ہے جس سے عربی قواعد و ضوابط کا بدرجہ اولی استخراج کیا جا سکتا ہے۔ احادیث مبارکہ اور ادعیہ عالیہ نحوی شواہد سے بھری ہوئی ہیں۔ انہی شواہد میں سے باب اشتغال کے شواہد بآسانی ملاحظہ کیے جا سکتے، جیساکہ آئمہ اطہارؑ سے منسوب دعاؤں میں وارد ہوا ہے:اللَّهُمَّ نَفْسِي‌ نَقِّهَا وَ زَكِّهَا؛ بارِ الہٰا! میری نفس کو پاک و طاہر کر دے اور اس کا تزکیہ فرما دے۔ اس مثال میں نفسی اسم مقدم اور مفعول بہ ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور اس کا عامل نقِّ اور زَکِّ محذوف ہے جس کی تفسیر کلام میں مذکور عامل کر رہا ہے۔

اہم نکتہ

[ترمیم]

اس طرف توجہ رہنی چاہیے کہ باب اشتغال کے اہم مسائل میں اسم مقدم کے اعراب ہیں جس کے لیے باقاعدہ جداگانہ تحریر کی ضرورت ہے جس میں اس کے مسائل اور شرائط کو مثالوں کے ساتھ بیان کیا جائے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ج ۱، ص ۱۶۵۔    
۲. ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، ج ۱۱، ص ۳۵۶۔    
۳. ابن فارس، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۳، ص ۱۹۵۔    
۴. استرآبادی، محمد بن حسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص۴۷۱۔    
۵. استرآبادی، محمد بن حسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷ ـ ۴۳۹۔
۶. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص ۱۲۷۔    
۷. الصبان، محمد بن علی، حاشیۃ الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیۃ ابن مالک، ج ۲، ص ۱۱۰۔    
۸. جمعی از نویسندگان، جامع المقدمات، کتاب الہدایۃ فی النحو، ص۵۸۲۔    
۹. جمعی از نویسندگان، جامع المقدمات، کتاب الہدایۃ فی النحو، ص۳۴۷۔
۱۰. استرآبادی، محمد بن حسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔
۱۱. فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ج ۱، ص ۱۶۱ - ۱۶۲۔    
۱۲. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص۱۲۶ - ۱۲۷۔    
۱۳. ابن ہشام انصاری، جمال الدین بن یوسف، اوضح المسالک، ‌ج ۲، ص۱۳۹۔    
۱۴. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص ۱۲۵ - ۱۲۶۔    
۱۵. الصبان،محمد بن علی، حاشیة الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیة ابن مالک، ج ۲، ص ۱۱۰.    
۱۶. صفائی بوشهری، غلام‌علی، بداءة النحو، ص ۸۰۔
۱۷. شرتونی، رشید، مبادئ العربیة قسم النحو، ج ۴، ص۲۶۸۔    
۱۸. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص۱۲۸۔    
۱۹. الصبان، محمد بن علی، حاشیۃ الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیۃ ابن مالک، ج ۲، ص ۱۱۰۔    
۲۰. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص۱۲۴۔    
۲۱. الصبان، محمد بن علی، حاشیۃ الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیۃ ابن مالک، ج ۲، ص ۱۱۰۔    
۲۲. حسن، عباس، النحو الوافی، ج ۲، ص۱۲۴۔    
۲۳. شرتونی، رشید، مبادئ العربیۃ قسم النحو، ج ۴، ص۲۶۸۔    
۲۴. انباری، عبدالرحمن، الانصاف فی مسائل الخلاف، ج ۱، ص ۶۹۔    
۲۵. ابن هشام انصاری، جمال الدین بن یوسف، اوضح المسالک، ‌ج ۲، ص۱۳۹.    
۲۶. استرآبادی، محمد بن الحسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔
۲۷. استرآبادی، محمد بن الحسن، شرح الرضی علی کافیۃ ابن الحاجب، ج ۱، ص ۴۳۷۔
۲۸. ابن هشام انصاری، جمال الدین بن یوسف، اوضح المسالک، ‌ج ۲، ص۱۳۹.    
۲۹. جمعی از علما، جامع المقدمات، ص۶۰۱.    
۳۰. جمعی از علماء، جامع المقدمات، كتاب الصمدیۃ، ج ۲، ص ۵۸۴۔
۳۱. الصبان، محمد، حاشیۃ الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیۃ ابن مالک، ج ۲، ص ۱۱۱۔    
۳۲. نحل/۱۶، آیت ۵۔    
۳۳. قمر/۵۴، آیت ۴۹۔    
۳۴. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۹۷، ص۲۵۳۔    


مأخذ

[ترمیم]

پژوہشکده باقر العلوم ع۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : عربی ادبیات | مفعول بہ | منصوبات




جعبه ابزار