تحدیق

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



‌تحدیق کا مطلب غصیلی اور خشمگین نگاہوں سے دیکھنا ہے۔ یہ کلمہ باب الصلاۃ میں استعمال ہوتا ہے۔


تحدیق کا لغوی معنی

[ترمیم]

تَحدِیۡق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی غصے سے اور خشمگین نگاہوں سے دیکھنا ہے۔ علم فقہ میں باب الصلاۃ میں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

نماز میں تحدیق کا حکم

[ترمیم]

نمازی کے لیے دورانِ نماز مستحب ہے کہ وہ حالتِ قیام میں سجدہ گاہ پر اپنی نگاہیں رکھے اور خضوع و خشوع کی نگاہ ڈالے نہ کہ غصے اور خشمگین نگاہوں سے دیکھے۔ دورانِ نماز غصے بھری نگاہوں کو ترک کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج ۳، ص ۴۱۔    
۲. جوہری، اسماعیل بن حماد، الصحاح، ج۴، ص۱۴۵۶۔    
۳. شہید ثانی، زین الدین، الروضۃ البہیۃ، ج۱، ص۶۳۱۔    
۴. محدث بحرانی، یوسف،الحدائق الناضرة، ج۸، ص۸۸۔    
۵. بہجت، تقی، توضیح المسائل، ص۱۵۰۔    


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ فقہ مطابق مذہبَ اہل بیت علیہم السلام، ج ۲، ص ۳۶۹۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : فقہی اصطلاحات | نماز




جعبه ابزار