تساقط

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



دو متعارض دلیلوں کے مدلول جو ہر جہت سے متعادل و متساوی ہوں پر عمل کے ترک کرنے کو تساقط کہا جاتا ہے۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

تساقط کا مطلب دو متعارض دلیلوں پر عمل نہ کرنا اور ان کے مدلول و معنی کو نہ لینا ہے۔ مشہور علماء اصول کے نزیک تساقط کا مورد وہاں ہے جہاں دو دلیلیں آپس میں ٹکرائیں اور ان میں سے کسی ایک کو دوسری پر مقدم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی دلیل رجحان رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں دونوں دلیلیں اعتبار سے گر جائیں گے اور ان پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

مثال

[ترمیم]

مثلا: نماز جمعہ کے بارے میں دو دلیلیں وارد ہوتی ہیں جن میں سے ایک وجوب اور دوسری حرمت ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی دلیل دوسری پر فوققیت یا رجحان نہیں رکھتی۔ پس ہر دو دلیلیں سقوط اختیار کر جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں اصولِ عملیہ کی طرف رجوع کرنا ہوں گا، بالکل اسی طرح جیسے اس وقت اصولِ عملیہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جب اصلًا دلیلِ محرز یا دلیلِ شرعی موجود نہیں ہوتی۔
[۴] البحث فی رسالات عشر، قدیری، محمد حسن، ص ۳۷۹۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. بحوث فی علم الاصول، صدر، محمد باقر، ج ۷، ص ۱۵۸۔    
۲. انوارالاصول، مکارم شیرازی، ناصر، ج ۳، ص ۵۲۳۔    
۳. المحکم فی اصول الفقہ، حکیم، محمد سعید، ج ۶، ص ۱۳۳۔    
۴. البحث فی رسالات عشر، قدیری، محمد حسن، ص ۳۷۹۔
۵. اصول الفقہ، مظفر، محمد رضا، ج ۲، ص ۱۹۶۔    


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۳۰۷، مقالہِ تساقط سے یہ تحریر لی گئی ہے۔    






جعبه ابزار