دوام ذاتی

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



دوام ذاتی منطق کی اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ہے جس کا معنی محمول کا مستمر اور دائمی طور پر موضوع کے لیے ثابت ہونا یا سلب ہونا ہے جب تک ذات موضوع موجود ہے۔


اجمالی وضاحت

[ترمیم]

دوام ذاتی سے مراد محمول کا موضوع کے لیے اسمتراری اور دائمی طور پر ثابت ہونا یا سلب ہونا ہے اس وقت تک جب تک موضوع موجود ہے۔
[۱] خوانساری، محمد، فرہنگ اصطلاحات منطقی، ص۱۱۸۔
[۲] گرامی، محمد علی، منطق مقارن، ص۱۱۸۔


موجہات بسیطہ میں دوام کی اقسام

[ترمیم]

دوام کی چار قسمیں ہیں:دوام ازلی، دوام ذاتی، دوام وصفی و دوام وقتی.
۱. دوام ازلی یعنی محمول کا موضوع کے لیے دائمی ثابت اور حمل ہونا ہے اور یہ ثبوت کسی شرط کے ساتھ مقید نہیں ہے حتی موضوع کے متحقق ہونے کی شرط بھی موجود نہیں ہے، مثلا اس قضیہ میں جہتِ قضیہ ملاحظہ کریں: اللہ تعالی اپنے بندوں پر دائم الفضل ہے۔
۲. دواز ذاتی یعنی محمول اور موضوع کے درمیان نسبتِ ایجابی یا نسبت سلی کا دائمی اور استمراری طور پر اس وقت جدا نہ ہونا ہے جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے، مثلا اس قضیہ میں جہتِ قضیہ ملاحظہ کیجیے: ہر مادی شیء دائما تکاملی حرکت میں ہے جب تک وہ شیء موجود ہے۔
۳. دوام وصفی یعنی ایجابی اور سلبی نسبت کا ذاتِ موضوع سے اس وقت تک جدا نہ ہونا جب تک ذات موضوع کے لیے یہ خاص صفت یا حالت و کیفیت ثابت ہے، مثلا اس قضیہ میں جہتِ قضیہ ملاحظہ کیجیے: ممکن نہیں ہے کہ مومن شراب پیے جب تک وہ مومن ہے۔
۴. دوام وقتی یعنی محمول کا موضوع کے لیے معین وقت میں دائمی طور پر حمل ہونا، جیسے جہت قضیہ کو اس قضیہ میں دیکھیے: ہر مومن زندان میں ہے جب تک وہ دنیا میں ہے۔
[۳] تفتازانی، عبد الله بن شہاب‌ الدين، الحاشیۃ علی تہذیب المنطق، ص۶۰۔
[۴] قطب‌ الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۱۰۴۔


مقالہ کے منابع

[ترمیم]

اس مقالہ کو تحریر کرنے کے لیے درج ذیل مقالات سے استفادہ کیا گیا ہے:
• گرامی، محمدعلی، منطق مقارن۔
• خوانساری، محمد، فرہنگ اصطلاحات منطقی۔
• تفتازانی، عبد الله بن شہاب‌ الدين، الحاشیۃ علی تہذیب المنطق.
• قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. خوانساری، محمد، فرہنگ اصطلاحات منطقی، ص۱۱۸۔
۲. گرامی، محمد علی، منطق مقارن، ص۱۱۸۔
۳. تفتازانی، عبد الله بن شہاب‌ الدين، الحاشیۃ علی تہذیب المنطق، ص۶۰۔
۴. قطب‌ الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۱۰۴۔
۵. خوانساری، محمد، فرہنگ اصطلاحات منطقی، ص۱۷۶۔    


مأخذ

[ترمیم]

پایگاه مدیریت اطلاعات علوم اسلامی، یہ تحریر مقالہ دوام ذاتی سے مأخوذ ہے، مشاہدہِ لنک کا تاریخ:۱۳۹۶/۱/۱۴۔    






جعبه ابزار