صفت شدت

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



حرف کا تلفظ ادا کرتے ہوئے منہ سے نکلنے والی آواز یا ہوا کا حبس و قید ہونا صفتِ شدت کہلاتا ہے۔ اس کا شمار اصلی حروف کی صفات میں ہوتا ہے۔


تعریف

[ترمیم]

عربی لغت لفظِ شدت کے اصلی حروف ش-د-د ہیں جس کے لغوی معنی شیء میں قوت کے ہیں۔ علم تجوید کی اصطلاح میں حرف کا تلفظ ادا کرتے ہوئے آواز کو یا ہوا کو حبس کرنا شدت کہلاتا ہے۔ یہ حالت اس وقت زیادہ آشکار اور واضح ہوتی ہے جب حرف کو ساکن پڑھنا پڑے، مثلا لفظِ الحقّ میں قاف (ق) کا تلفظ۔

صفتِ شد کی صفتِ رخاوت سے نسبت

[ترمیم]

صفتِ شدت کے مقابلے میں صفت رخاوت آتی ہے جوکہ اصلی یا متضاد صفات میں سے ہے۔ جو حروف صفتِ شدت رکھتے ہیں ان کو حروفِ شدیدۃ کہا جاتا ہے۔
[۳] محیسن، محمد سالم، الرائد فی تجوید القرآن، ص۴۷۔
[۴] صبره، علی، العقد الفرید فی فن التجوید، ص۴۱۔
[۵] قرطبی، عبد الوہاب بن محمد، الموضع فی التجوید، ص۸۹۔
[۶] پور فرزیب مولائی، ابراہیم، تجوید جامع، ص۵۱۔
[۷] موسوی بلده، محسن، حلیۃ القرآن قواعد تجوید مطابق با روایت حفص از عاصم، ج۲، ص۵۱۔
[۸] فاضل گروسی، عبد الحسین، تجوید استدلالی، ص ۱۴۲-۱۴۳۔


مربوط عناوین

[ترمیم]

حروف شدیده

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ابن فارسد، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۳، ص ۱۷۹۔    
۲. ابن جزری، محمد بن محمد، التمہید فی علم التجوید، ص ۹۱۔    
۳. محیسن، محمد سالم، الرائد فی تجوید القرآن، ص۴۷۔
۴. صبره، علی، العقد الفرید فی فن التجوید، ص۴۱۔
۵. قرطبی، عبد الوہاب بن محمد، الموضع فی التجوید، ص۸۹۔
۶. پور فرزیب مولائی، ابراہیم، تجوید جامع، ص۵۱۔
۷. موسوی بلده، محسن، حلیۃ القرآن قواعد تجوید مطابق با روایت حفص از عاصم، ج۲، ص۵۱۔
۸. فاضل گروسی، عبد الحسین، تجوید استدلالی، ص ۱۴۲-۱۴۳۔


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ‌ نامہ علوم قرآنی، بہ تحریر مقالہ صفت شدت سے مأخوذ ہے۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : تجوید | قرآن شناسی




جعبه ابزار