لفظ مرکب

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



لفظِ مرکب سے مراد وہ لفظ ہے جس کے اجزاء اس کے معنی کے اجزاء پر دلالت کریں، نیز یہ دلالت ارادہ اور قصد کے ہمراہ ہو۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

وہ لفظ جس کو کسی معنی پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا جاتا ہے وہ لفظ یا مفرد ہو گا یا مرکب۔ لفظِ مرکب سے مراد وہ لفظ ہے جس کے اجزاء ہوں اور لفظ کا جزء معنی کے جزء پر دلالت کر رہا ہو جس کے ہمراہ متکلم کا قصد و ارادہ شامل ہو، جیسے انسان چل رہا ہے۔
[۷] ابن رشد، محمد بن احمد، تلخیص کتاب العبارة، ص۶۵۔
[۸] شیرازی، قطب‌الدین، درة التاج (منطق)، ص۱۹۔
[۹] شیرازی، قطب‌الدین، درة التاج (منطق)، ص۲۴۔
[۱۰] مجتہد خراسانی (شہابی)، محمود، رہبر خرد، ص۲۳۔


لفظ مرکب کی خصوصیات

[ترمیم]

لفظ مرکب میں چار خصوصیات پائی جاتی ہیں:
۱.لفظ کے اجزاء ہوں، اگر لفظ کا ایک سے زائد جزء نہ ہو یا بغیر جزء کے ہو تو وہ مرکب نہیں ہو سکتا بلکہ لفظِ مفرد کہلائے گا، مثلا: ہمزہِ استفہام، عربی زبان میں باء، تاء، قِ۔
۲.لفظ کے معنی کے اجزاء ہوں، اس خصوصیت کی وجہ سے زید اور عیسی جیسے موارد خارج ہو جاتے ہیں، کیونکہ اگرچے یہ الفاظ ہیں جن کے اجزاء ہیں لیکن لفظ کا جزء معنی کے جزء بر دلالت نہیں کر رہا۔ پس زید اور عیسی جیسی مثالیں لفظِ مفرد کہلائیں گی۔
۳. لفظ کا جزء معنی کے جزء پر دلالت کر رہا ہو، اس خصوصیت کے ذریعے عبد اللہ جیسی مثالیں جب وہ علمیت اور ناموں کے معنی میں ہو کو خارج کیا گیا ہے۔ کیونکہ علمیت اور نام کی صورت میں لفظ کا جزء معنی کے جزء پر دلالت نہیں کر رہا ہے اس لیے لفظِ مفرد شمار ہو گا نہ کہ مرکب۔
۴. یہ دلالت ارادہ اور قصدِ متکلم سے انجام پائے۔ اس خصوصیت کے ذریعے اس مثال کو خارج کیا گیا ہے: حیوانِ ناطق، جب یہ کسی کا نام رکھ دیا جائے تو اس صورت میں مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ لفظِ مفرد کہلائے گا۔

ضروری ہے کہ لفظِ مرکب میں دلالت متکلم کے ارادہ اور قصد کے ساتھ ہو، مثلا حیوانِ ناطق کسی ایک شخص کا نام رکھ دیا جائے اور پھر حیوان ناطق کہہ کر اس شخص کو پکارا جائے تو یہاں اگرچے لفظ کا جزء معنی کے جزء پر دلالت کر رہا ہے لیکن یہ دلالت متکلم کی مراد اور اس کا مقصود نہیں ہے۔ کیونکہ بولنے والا حیوان ناطق بول کر لفظ کے جزء کی معنی کے جزء پر دلالت مراد نہیں لے رہا۔ پس جب ان چار میں سے کوئی ایک بھی خصوصیت مفقود ہو یعنی ان میں سے کوئی ایک خصوصیت نہ پائی جائے تو وہ لفظ لفظِ مفرد کہلائے گا نہ کہ لفظِ مرکب۔

لفظِ مرکب اس وقت ہوتا ہے جب یہ دلالت ارادہ کے تابع ہو۔ پس اگر دلالت ارادہ کے تابع نہ ہو تو وہ مرکب نہیں بلکہ لفظِ مفرد کہلائے گا۔ خواجہ طوسی کا شرح منطق اشارات میں جو مبنی ہے اور اس کی نسبت ارسطو کی طرف دی گئی ہے اس کے مطابق دلالت تابعِ ارادہ ہے۔ تیسری اور چوتھی خصوصیت زیادہ فرق نہیں رکھتی اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت میں لفظ کی تین خصوصیات ہیں۔
[۱۲] ابن‌سینا، حسین بن عبد الله، الشفا (منطق)، ج۱، ص۳۰۔
[۱۳] ابو الحسن سالاری، بہمنیار بن مرزبان، التحصیل، ص۴۳۔
[۱۴] قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۴۲۔


اقسام لفظ مرکب

[ترمیم]

لفظ مرکب کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ لفظ مرکب تام
۲۔ لفظ مرکب ناقص۔
[۱۶] ابو حامد غزالی، محمد بن محمد، معیار العلم في فن المنطق، ص۵۰۔
[۱۷] شہاب‌الدین سہروردی، یحیی بن حبش، منطق التلویحات، ص۳۰۔
[۱۸] خوانساری، محمد، منطق صوری، ص۶۳۔


مترادف عناوین

[ترمیم]

لفظِ مرکب کے درج ذیل مترادفات ہیں: اقاویل، لفظِ مؤلف، قولِ ملفوظ، قولِ ظاہر، مرکب ملفوظ اور قول (لفظ)۔
[۲۱] فرصت شیرازی، میرزا محمد، اشکال ‌المیزان، ص۱۲۔
[۲۲] ابو الحسن سالاری، بہمنیار بن مرزبان، التحصیل، ص۳۹۔
[۲۴] تفتازانی، عبدالله بن شہاب‌ الدين، الحاشیۃ علی تہذیب المنطق، ص۲۴۔
[۲۵] ابن‌سینا، حسین بن عبدالله، الشفا (منطق)، ج۱، ص۲۴-۲۶۔
[۲۶] قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۸۲۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ابن سہلان ساوی، عمر بن سلان، البصائر النصیریۃ، ص۱۴۲۔    
۲. مظفر، محمدرضا، منطق، ص۵۹۔    
۳. ابن‌ سینا، حسین بن عبداللہ، النجاة، ص۱۹۔    
۴. سبزواری، ملا ہادی، شرح المنظومۃ، ص۱۰۸۔    
۵. الدینی، عبدا لمحسن، منطق نوین مشتمل بر اللمعات المشرقیۃ فی الفنون المنطقیۃ، ص۱۳۴-۱۳۷۔    
۶. خواجہ نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، اساس الاقتباس، ص۱۴۔    
۷. ابن رشد، محمد بن احمد، تلخیص کتاب العبارة، ص۶۵۔
۸. شیرازی، قطب‌الدین، درة التاج (منطق)، ص۱۹۔
۹. شیرازی، قطب‌الدین، درة التاج (منطق)، ص۲۴۔
۱۰. مجتہد خراسانی (شہابی)، محمود، رہبر خرد، ص۲۳۔
۱۱. ابن سہلان ساوی، عمر بن سہلان، البصائر النصیریه، ص۱۶۷۔    
۱۲. ابن‌سینا، حسین بن عبد الله، الشفا (منطق)، ج۱، ص۳۰۔
۱۳. ابو الحسن سالاری، بہمنیار بن مرزبان، التحصیل، ص۴۳۔
۱۴. قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۴۲۔
۱۵. ابن‌سینا، حسین بن عبدالله، منطق المشرقیین، ص۵۸۔    
۱۶. ابو حامد غزالی، محمد بن محمد، معیار العلم في فن المنطق، ص۵۰۔
۱۷. شہاب‌الدین سہروردی، یحیی بن حبش، منطق التلویحات، ص۳۰۔
۱۸. خوانساری، محمد، منطق صوری، ص۶۳۔
۱۹. ابن‌سینا، حسین بن عبدالله، النجاة، ص۱۰۔    
۲۰. خواجہ نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، اساس الاقتباس، ص۶۴۔    
۲۱. فرصت شیرازی، میرزا محمد، اشکال ‌المیزان، ص۱۲۔
۲۲. ابو الحسن سالاری، بہمنیار بن مرزبان، التحصیل، ص۳۹۔
۲۳. علامہ حلی، حسن بن یوسف، الجوہر النضید، ص۱۱۔    
۲۴. تفتازانی، عبدالله بن شہاب‌ الدين، الحاشیۃ علی تہذیب المنطق، ص۲۴۔
۲۵. ابن‌سینا، حسین بن عبدالله، الشفا (منطق)، ج۱، ص۲۴-۲۶۔
۲۶. قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیۃ فی شرح رسالۃ الشمسیۃ، ص۸۲۔
۲۷. ابن‌سینا، حسین بن عبدالله، الاشارات و التنبیہات، ص۳۔    


مأخذ

[ترمیم]

پایگاہ مدیریت اطلاعات علوم اسلامی، برگرفتہ از مقالہ لفظ مرکب، سائٹ کو مشاہدہ کرنے کی تاریخ:۱۳۹۶/۴/۱۰۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : مباحث الفاظ | منطقی اصطلاحات




جعبه ابزار