مجاز مفرد

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



مجازِ مفرد سے مراد مفرد کلمہ میں مجاز کا واقع ہونا ہے۔ اگر مفرد کلمہ میں مجاز وارد ہو تو اس کو مجاز مفرد کہتے ہیں۔ یہ اصطلاح اصولِ فقہ اور علم بیان میں استعمال کی جاتی ہے۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

مجاز مفرد مجاز مرکب کے مقابلے میں ہے جس سے مراد ایک ایسا کلمہ ہے جو اپنے معنی کی بجائے کسی دوسرے کلمہ کے معنی میں استعمال کیا جائے۔ بعض اصولیوں نے مجاز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:
۱۔ مفردات میں مجاز۔
۲۔ مرکبات میں مجاز۔
۳۔ مفردات و مرکبات ہر دو میں مجاز۔

لہذا مجازِ مفرد میں کلمہِ مفرد مرکب کے مقابلے میں ہے، جیسے لفظِ اسد کا مردِ شجاع پر اطلاق کرنا، لفظِ سمندر کا کثیر علم رکھنے والے عالم پر اطلاق کرنا۔ یا اس سے مراد ایسا مصدر ہے جو اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں استعمال کیا جائے، جیسے کلمہِ خلق مخلوق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اسی طرح لفظ بمعنی ملفوظ اور عدل بمعنی عادل استعمال کیا جاتا ہے۔

مربوط عناوین

[ترمیم]

مجاز؛
مجاز مرکب۔
[۴] التمہید فی تخریج الفروع علی الاصول، اسنوی، عبد الرحیم بن حسن، ص۱۹۸۔
[۵] شرح اصول فقہ، محمدی، علی، ج۱، ص۲۸۸۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. مدرس افغانی، محمد علی، المدرس الافضل فیما یرمز ویشار الیہ فی المطول، ج ۶، ص ۲۴۳۔    
۲. ہاشمی، احمد، جواہر البلاغۃ، ص ۲۵۲۔    
۳. المحصول فی علم اصول الفقہ، فخر رازی، محمد بن عمر، ج۱، ص۳۲۲۔    
۴. التمہید فی تخریج الفروع علی الاصول، اسنوی، عبد الرحیم بن حسن، ص۱۹۸۔
۵. شرح اصول فقہ، محمدی، علی، ج۱، ص۲۸۸۔


مأخذ

[ترمیم]
فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۶۹۵، برگرفتہ از مقالہ مجاز مفرد۔    
بعض مطالب اور حوالہ جات ویکی فقہ اردو سے مربوط گروہِ محققین نے اضافہ کیے ہیں۔


اس صفحے کے زمرہ جات : اصول فقہ | علم بلاغت | علم بیان | لفظ مفرد | مجاز




جعبه ابزار