مقومات استعمال

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



استعمال کے متحقق ہونے کی شرائط کو مقوّمات استعمال کہا جاتا ہے۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

مقوّماتِ استعمال ان بنیادی شرائط کو کہتے ہیں استعمال کا وجود ان شرائط پر قائم ہوتا ہے اور ان کے بغیر استعمال متحقق نہیں ہوتا۔

← مقومات استعمال یا شرائطِ استعمال


مقوماتِ استعمال کے عنوان سے جو شرائط بیان کی جاتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱. لفظ کو ایک معنی کے لیے اس طرح سے وضع کیا جائے کہ وہ لفظ یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ معنی پر دلالت کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لفظ کی اپنے معنی پر دلالت کرنے کی صلاحیت کہاں سے وجود میں آتی ہے ؟ اس کے بارے میں درج ذیل صورتیں ہو سکتیں ہیں:
- لفظ میں دلالت کرنے کی صلاحیت واضع کی جانب سے وضع کرنے سے وجود میں آئی ہے، جیسے استعمال حقیقی۔
- یا لفظ میں یہ صلاحیت طبعِ سلیم کے قبول کرنے سے وجود آتی ہے، جیسے الفاظ کا مجازی استعمال، جیساکہ بعض اصولیوں کا یہ نظریہ ہے۔
- یا لفظ میں یہ صلاحیت ذاتی ہے کہ لفظ اور معنی کے درمیان ذاتی نوعیت کا ربط قائم ہے جس کی وجہ سے لفظ کی دلالت معنی پر ہوتی ہے، جیسے شخصِ لفظ کی اپنی نوع پر دلالت۔

۲. مستعمل اور مستعمل فیہ میں تغایر اور جدائی پائی جائے، کیونکہ لفظ دال اور معنی مدلول ہوتا ہے اور دال و مدلول کا متحد ہونا اور ایک ہونا محال ہے کیونکہ یہ دونوں آپس میں متضایفان ہیں اور متضایفان کا ایک وقت میں ایک جہت سے ایک شیء پر جمع ہونا ممکن نہیں ہے۔

۳. لفظ اور معنی کو لحاظ کیا جائے، اس طرح سے کہ لفظ کو بطور آلہ لحاظ کیا جائے جسے لحاظِ آلی کہتے ہیں اور معنی کو مستقل طور پر لحاظ کیا جائے جسے لحاظِ استقلالی کہتے ہیں۔ اس مقام پر لحاظ یا آلی ہو گا یا استقلالی۔ معنی کی جانب سے لحاظِ استقلالی سے مراد لفظ کی نسبت سے معنی کو استقلالی طور پر ملاحظہ کرنا ہے کیونکہ لفظ کی مثال آئینہ کی سی ہے اور اس کے ذریعے سے معنی کو ملاحظہ کیا جاتا ہے، پس جس طرح ہم آئینہ استعمال کر کے اس کے ذریعے اپنے آپ کو دیکھتے ہیں اسی طرح سے لفظ استعمال کر کے ہم اس میں معنی کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ لفظ کی حیثیت آلہ کی سی ہے جسے استعمال میں لا کر معنی کو ملاحظہ کرتے ہیں جس کو لحاظِ استقلالی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ معنی میں فناء ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معنی کو استقلالی حیثیت حاصل ہے جبکہ لفظ کو آلی حیثیت حاصل ہے۔

۴. مستعمِل کے ذہن میں لزومی طور پر مصححِ استعمال کا حاضر ہونا تاکہ لفظ کا معنی مستعمل فیہ پر دلالت کرنا صحیح قرار پائے۔ استعمال حقیقی میں یہ مصححِ استعمال وضع ہوتا ہے اور استعمال مجازی میں وضع اور علاقہ یعنی تعلق۔

۵. صحتِ استعمال کے لیے وضع کا ہونا ضروری ہے یا لغت کی طرف سے اس نوعیت کا استعمال کرنے کی اجازت موجود ہو۔ لفظ کا معنی کے لیے وضع ہونا یا تو وضعِ شخصی ہو گا جیساکہ استعمالِ حقیقی میں ہم ملاحظہ کرتے ہیں یا وضعِ نوعی ہو گا جیساکہ استعمالِ مجازی میں ملاحظہ کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. دروس فی علم الاصول، صدر، محمد باقر، ج۱، ص۸۱۔    
۲. بحرانی، محمد علی صنقور، المعجم الاصولی، ج ۱، ص ۲۳۷۔    
۳. بحوث فی علم الاصول، صدر، سید محمد باقر، ج۱، ص ۱۴۳-۱۳۳۔    
۴. هاشمی شاهرودی، سید محمود، اضواء و آراء، ج ۱، ص ۲۵۔    
۵. غروی اصفہانی، محمد حسین، نہایۃ الدرایۃ فی شرح الکفایۃ، ج ۱، ص ۲۴۔    


مأخذ

[ترمیم]
فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۷۸۶، برگرفتہ از مقالہ مقوّمات استعمال۔    
بعض حوالہ جات اور مطالب ویکی فقہ اردو سے مربوط گروہِ محققین نے اضافہ کیے ہیں۔


اس صفحے کے زمرہ جات : اصول فقہ | اصولی اصطلاحات | مباحث الفاظ | وضع




جعبه ابزار