مہمان داری کے آداب

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



مہمان نوازی کے آداب سے مراد وہ افعال و حرکات ہیں جو مہمان اور میزبان دعوت کے دوران انجام دیتے ہیں، اسلامی تعلیمات کے اندر مہمان نوازی کے متعلق بہت سے آداب وارد ہوئے ہیں ان میں سے بعض آداب میزبان کے فرائض کی شکل میں ہیں اور مہمان کے حقوق کے بارے میں ہیں، اسی کے بالمقابل بعض امور مہمان کے فرائض کی صورت میں ہیں اور میزبان کے حقوق کے بارے میں. میزبان کے حقوق سے مراد یہ ہے کہ مثلاً بحیثیتِ مہمان، میزبان کی دعوت قبول کرنا اس کی جانب سے جو طعام کا اہتمام کیا گیا ہے اس کو کھانا. اور مہمان کے فرائض سے مراد وہ امور ہیں کہ جیسے میزبان سے زیادہ تکلفات میں نہ پڑنے کا تقاضا کرنا یا میزبان کے لیے دعا کرنا وغیرہ۔


مہمان نوازی سے مراد

[ترمیم]

مہمان نواز ہونا ایسے امور میں سے ہے کہ جسے شرع اور عقل دونوں نے بہترین اور مستحسن امر قرار دیا ہے. روایات اسلامی میں مہمان نوازی کے متعلق اس قدر شدید تاکید وارد ہوئی ہے کہ اگر مومن کی جانب سے آپ کو طعام کی دعوت دی گئی ہے اور آپ حالت روزه میں ہیں تو اپنے مومن بھائی کا دل رکھنے کے لیے اپنا مستحبی روزه توڑ سکتے ہیں. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مسلمان بھائی زحمت کے ساتھ کھانا آمادہ کرتا ہے اور ایک روزہ دار انسان کو طعام کی دعوت دیتا ہے تو کیا حرج ہے اگر وہ بھی اس دعوت کو قبول کرلے اور افطار کر لے۔
[۱] راوندی کاشانی، فضل الله بن علی، النوادر، ص۳۵۔
ایک اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے امام علیؑ کو فرمایا: اگر کوئی مہمانی کی دعوت دے تو قبول کر لیجیے چاہے اس کے لیے آپ کو طولانی مسافت بھی طے کرنا پڑے۔

دعوتِ مومن قبول کرنا

[ترمیم]

جب انسان کو اس کا مومن بھائی مدعو کرے تو اسے چاہیے کہ خندہ پیشانی سے اس کی دعوت کو قبول کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « میں اپنی امت کے حاضرین اور غائبین سے یہ خواہش رکھتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی مسلمان دعوت کرے تو اسے قبول کریں. اگرچہ اس دعوت کے لیے انکو پانچ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑے کیونکہ یہ کام جزِ دین ہے۔ لیکن اگر مومن کی بجائے کوئی کافر مُشرک یا منافق دعوت دے تو عام حالات میں اس دعوت کی اجابت ضروری نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مشرک یا منافق مجھے اونٹ کھانے کی بھی دعوت دے تو اسکی دعوت کو قبول نہیں کروں گا اور یہ دعوت قبول نہ کرنا دین میں سے ہے اللہ تعالیٰ میرے اس کام سے راضی نہیں ہوگا کہ مشرکوں اور منافق کی عطا کی ہوئی غذا سے کھاؤں۔ لیکن اگر کسی مشرک یا منافق کی دعوت پر جا کر امر بالمعروف کرنا چاہتے ہیں یا مسلمانوں کا بہترین اخلاق اور واقعی صورت دکھانا مقصود ہے تو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

دینی مسائل کی رعایت

[ترمیم]

امام باقرؑ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک شخص کو ایک ہی وقت میں ولیمہ اور تشییع جنازہ کی دعوت دی گئی ہے کس دعوت کو قبول کرے اور کس کو ترک؟ امامؑ نے فرمایا: تشییع جنازہ کی دعوت کو قبول کرے، کیونکہ تشییع جنازہ میں اسے آخرت یاد دلائی جاۓ گی، اور ولیمہ کی دعوت پر اسے دنیا یاد دلائی جائے گی۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی دعوتیں قبول کرنا جس سے یاد خدا تازہ ہو اور جس میں آخرت یاد دلائی جائے ان دعوتوں سے بہتر ہے جس میں فقط دنیوی امور ہوں۔

گھر میں داخل ہونے کی اجازت

[ترمیم]

خداوند متعال کا قرآن کریم میں ارشاد فرمانا ہے: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے، اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو واپس چلے جاؤ، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ جانتا ہے۔

تکلفات سے پرہیز

[ترمیم]

مہمان نوازی کی ایک آفت اسراف کا شکار ہوجانا ہے اس آفت کا شکار فقط آج کا ہی انسان نہیں بلکہ قدیم سے ہی ہر مہمان نواز اس آفت کا شکار رہا ہے، البتہ آج کل کے دور میں ریاکاری، خودنمائی اور نمود و نمائش کی بیماری ماضی کی نسبت بڑھ گئی ہے. اسلام نے حکم دیا ہے کہ مہمان کو نا صرف تکلفات کی توقع نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اسے بحیثیتِ مہمان حکم دیا گیا ہے کہ وہ میزبان سے تقاضا کرے کہ وہ تکلفات میں نہ پڑے. امام رضاؑ نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت علیؑ کو دعوت دی تو امام نے اسے فرمایا: میں تمہاری دعوت قبول کرتا ہوں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ میری تین باتیں قبول کرنا ہوں گی، اس شخص نے کہا کہ وہ تین باتیں کون سی ہیں یا امیرالمومنین؟ امام نے فرمایا: ہمارے لیے باہر سے کوئی چیز نہیں لاؤگے، جو بھی گھر میں موجود ہو اسے لانے میں نہیں کتراؤ گے اور تیسرا یہ کہ اپنے گھر والوں کو کسی زحمت میں نہیں ڈالو گے. یہ سن کر اس شخص نے کہا مجھے آپ کی تینوں باتیں قبول ہیں پس امام نے بھی اس کی دعوت قبول کر لی۔

کھانے میں شرم نہ کریں

[ترمیم]

بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کو جتنا بھی اصرار کیا جائے کھانا نہیں کھاتے اور اگر کھائیں بھی تو اپنی ضرورت سے کم کھاتے ہیں جبکہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ میزبان کو اصرار کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ جب وہ آپ سے تقاضا کرے حتما کھانا کھا لیں۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں: جب تمہارا مومن بھائی آپ سے کھانا کھانے کا تقاضا کرے تو کھا لو میزبان کو مجبور نہ کریں کہ وہ آپ کو قسم دے. کیونکہ کھانا کھانے کی دعوت دے کر وہ آپ کا احترام بجا لانا چاہ رہا ہے۔ ایک اور جگہ پر امام ارشاد فرماتے ہیں: «ایک شخص کی اپنے مومن بھائی سے محبت اس کے بھائی کی دعوت پر اس کے مناسب مقدار میں کھانا کھانے سے پتہ چلتی ہے، مجھے اچھا لگتا ہے کہ شخصِ مہمان میری دعوت پر کھانا کھاۓ اور اچھا مناسب مقدار میں کھاۓ، اس کام سے مجھے وہ خوشحال کرتا ہے۔

میزبان کے پاس ہاں زیادہ دیر نہ ٹھہرنا

[ترمیم]

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہمان نوازی تین دن ہے اس کے بعد صدقہ ہوگا جو مہمان کو دیا جائے گا، تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کے ہاں اتنے دن مہمانی پر مت ٹھہرے کہ اسے گناہ میں ڈال دے. اصحاب نے پوچھا کہ زیادہ دن مہمانی پر ٹھہرنے سے میزبان کو کونسے گناہ میں ڈالتے ہیں؟ یا رسول اللہ کس طرح سے اسکو گناہ میں ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح سے کہ اس کے ہاں زیادہ دن ٹھہر کر کچھ بھی باقی نہ بچے کہ وہ آپ کے لیے اب خرچ کرے۔

بغیر دعوت کے مت جائیں

[ترمیم]

بعض افراد ہوتے ہیں جن میں مروت نہیں پائی جاتی، مروت سے مراد مرء ہے یعنی مرد ہونا، یہ چیز مردانگی کے خلاف ہے کہ کسی ایسی جگہ پر پہنچ جائیں جہاں پر آپ کو مدعو ہی نہیں کیا گیا، اور خاص کر ایسے مواقع کہ جہاں میزبان کی جانب سے مقررہ افراد کے لیے ہی اہتمام کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! آٹھ افراد ایسے ہیں جن کو اگر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے تو انہیں چاہیے کہ کسی اور کو سرزنش کرنے کی بجائے خود کو سرزنش کریں: ان میں سے ایک وہ ہے جو کسی ایسی دعوت پر مہمان بن کر پہنچ جائے جہاں پر اسے مدعو نہیں کیا گیا تھا... ۔ البتہ اگر کسی میزبان کے ہاں کوئی ایسا بن بلایا مہمان پہنچ بھی جائے تو اسے دھتکار نہیں دینا چاہیے، یہ اس مہمان کو خود کو سوچنا چاہیے تھا کہ بغیر دعوت کے مجھے نہیں جانا چاہیے تھا اب جبکہ وہ یہ سوچے بغیر آ ہی گیا ہے تو میزبان اپنے ظرف و اخلاق کے مطابق اس کے ساتھ تعامل کرے.

← ایک بُری رسم


ایک اور رسم جو ہمارے یہاں بہت زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی کو مدعو کردیا تو وہ اپنے ساتھ بچوں کو بھی ساتھ لے چلتا ہے جبکہ میزبان کی جانب سے فقط ایک نفر کو مدعو کیا گیا تھا، ہم اگرچہ بچے کو چھوٹا سمجھ کر ساتھ لے جانا چاہ رہے ہیں لیکن پھر بھی بچہ ایک پورا نفر ہے اور یہ آداب کے خلاف ہے کہ بغیر دعوت کے ہم بچے کو بھی ساتھ لے جائیں. ایک روایت میں وارد ہوا ہے جس میں امام فرماتے ہیں: «جب تم میں سے کسی کو کھانے پر مدعو کیا جائے تو اپنے بچے کو ساتھ میں مہمانی پہ نہ ملا لے، اگر کوئی ایسا کرے تو حرام کا مرتکب ہوا اور نافرمانی کرتے ہوئے دعوت میں وارد ہو گا۔ لیکن اگر کسی محفل میں بچوں کو ساتھ لانے کا تقاضا میزبان کی جانب سے کیا گیا ہو تو بچوں کو ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں، اس روایت کا مخاطب فقط وہ شخص ہے جسے اکیلے کو دعوت تھی اور وہ بچے کو بھی ساتھ لے گیا۔

← مجبوری کا مورد


بعض اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو بِن بلایا مہمان کسی دعوت پر اپنے ساتھ لے جانا پڑجاتا ہے تو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ پہنچنے سے پہلے میزبان کو اطلاع دیں کہ ہم اتنے افراد آپ کے پاس پہنچ رہے ہیں تاکہ بعد میں میزبان کو کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑے خاص کر اس موقع پر جبکہ میزبان نے کھانا افراد کے تناسب سے آمادہ کروایا ہوا ہے. ایک روایت میں وارد ہوا ہے: مدینہ کے رہنے والے ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور انکے پانچ ساتھیوں کو دعوت پر مدعو کیا، رسول اللہ ﷺ نے بھی دعوت کو قبول کیا اور مہمانی کے لیے تشریف لے جانے لگے راستے میں ایک چھٹا ساتھی بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا، جب میزبان کے گھر کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اس چھٹے شخص سے فرمایا کہ میزبان نے تمہیں دعوت نہیں دی اس لیے تم یہیں رکو تاکہ تمہاری آمد کی میزبان کو اطلاع دی جائے اور تمہارے آنے کی ان سے اجازت بھی لی جاۓ۔البتہ یہ روایات ان مواقع کے لیے ہیں کہ جب بن بلایا مہمان واقعی کسی میزبان کے لیے پریشانی کا باعث بنے لیکن اگر کسی علاقے میں وہاں کے لوگ بن بلایا مہمان آنے پر پریشان نہیں ہوتے یا دوستانہ محافل ہوں کہ جہاں پر بن بلاۓ دعوت پر جانا معیوب نہ سمجھا جاتا ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر آپ کے ہاں مرسوم نہیں اور جانتے ہوں کہ بن بلاۓ جانا میزبان کے لیے مشکل ساز ہو سکتا ہے تو ایسی مہمانی پر جانے سے گریز کرنا چاہیے.

دعوت میں فقراء کو بلانا

[ترمیم]

ہمارے یہاں ایک بری رسم یہ بھی پائی جاتی ہے کہ دعوتِ عمومی میں امیروں اور غریبوں میں فرق رکھا جاتا ہے، مثلاً اگر کوئی صاحب منصب یا پیسے والا بندہ ہے تو اس کے لیے دعوت میں مخصوص جگہ قرار دی جاتی ہے اور اگر کوئی عام مومن بھی دعوت پر مدعو ہے تو اس کی پزیرائی نہیں کی جاتی، اور اسے باہر بٹھا کر جدا طریقے سے فارغ کر دیا جاتا ہے، جبکہ دین اسلام میں مہمان نوازی کے آداب میں سے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ جہاں پر امیروں کو بلاؤ ساتھ میں فقراء کو بھی حتما دعوت پہ بلاؤ اور انہیں الگ مت کرو بلکہ سب کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ رکھو.

امام علیؑ نے اپنے ایک والی کو جو بصره میں مستقر تھے ایک ایسی ہی مہمانی پہ جانے پر توبیخ کی جس میں فقط امراءِ شہر تو مدعو تھے لیکن فقراء موجود نہیں تھے. امام نے اسے لکھ بھیجا: اے حنیف کے بیٹے! مجھ تک خبر پہنچی ہے کہ اہل بصرہ میں سے ایک شخص نے آپ کو دعوت پہ بلایا اور اس دعوت میں طرح طرح کے خوشگوار کھانے تھے اور تمہاری طرف بڑے بڑے پیالے بڑھائے جا رہے تھے اور تم تیزی سے وہاں پہنچ گئے تھے. مجھے تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ تم ایسی قوم کی دعوت میں شرکت کرو گے جس کے غریبوں پر ظلم ہو رہا ہو اور جس کے دولت مند مدعو کئے جاتے ہوں ...». رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ولیمے کے کھانے کی خوراک بری ہے جس میں امیروں کو تو کھانے کی اجازت ہو لیکن غریبوں کو روکا ہوا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی ایسے دسترخوان پر مت بیٹھے جس پر امیروں کو تو دعوت دی گئی ہو اور غریبوں کو مدعو نہ کیا گیا ہو۔

میزبان کے کھانے پر قناعت

[ترمیم]

امام محمد تقیؑ اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں: ایک دن سلمان، نے ابوذر کو اپنے ہاں کھانے کے لیے مدعو کیا، سلمان نے ایک بوری سے سوکھی روٹی نکالی پانی میں بھگو کر ابوذر کے سامنے پیش کردی. ابوذر نے کہا کہ اے کاش تھوڑا سا نمک بھی دستیاب ہوتا تو روٹی کھانے کا مزہ دوبالا ہوجاتا، سلمان اٹھے اور پانی والا برتن کسی کے پاس گروی رکھ کے نمک لے آۓ اور ابوذر کو پیش کیا، ابوذر نے روٹی کے اوپر نمک چھڑکا اور روٹی کھانے لگے، شکر خدا بجالاتے ہوۓ کہنے لگے کہ اس خدا کا شکر جس نے اس کھانے پر ہمیں قناعت کرنے کی توفیق عطا کی، یہ سن کر سلمان نے کہا کہ اگر قناعت کرتے تو مجھے پانی کا برتن گروی نہ رکھنا پڑتا!۔
صَفوان بن یحیی کہتا ہے کہ ایک دن عبداللہ بن سنان میرے گھر تشریف لاۓ اور مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کے گھر میں کچھ کھانے کے لیے موجود ہے؟ تو میں نے اس کو کہا کہ ہاں! موجود ہے، پھر میں نے اپنے بیٹے کو کچھ درہم دیے اور اسے کہا کہ گوشت اور انڈے خرید کر لاؤ. عبداللہ نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اپنے بیٹے کو کدھر بھیجا ہے؟ میں نے اسے جواب دیا کہ اسے آپ کے لیے کھانے کا سامان لانے کے لیے بھیجا ہے، عبداللہ نے کہا کہ اسے روک لو! فورا اسے واپس بلوا لو. اور پھر پوچھا کہ گھر میں روغن ہے تمہارے پاس؟ میں نے کہا ہاں موجود ہے؟ تو عبداللہ نے کہا وہی کافی تھا، پھر کہنے لگے کہ میں نے امام صادق (علیہ السلام) سے سنا ہے وہ فرما رہے تھے: ہلاک ہے وہ شخص جو اپنے بھائی کے سامنے کوئی چیز پیش کرے اور اسے حقیر سمجھے، اور ہلاک ہے وہ شخص جس کے آگے اس کا مومن بھائی کچھ رکھے اور وہ اسے ناقابل و حقیر سمجھے.».

میزبان کے لیے دعا

[ترمیم]

ابوہیثم بن تیہان نے ایک دفعہ پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لیے کھانا بنوایا اور ان کے چند اصحاب کو بھی دعوت پہ مدعو کیا جب سب نے کھانا کھا لیا تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا کہ اب سب افراد اپنے میزبان بھائی کو اس دعوت کی پاداش دیں، اصحاب نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پاداش کیسے ادا کریں تو آپ نے جواب دیا: جب کسی کے گھر جائیں اور میزبان کے ہاں کھانا کھائیں، مشروب پئیں تو سب کو چاہیے کہ اس کے لیے دعا کریں، میزبان کے حق میں دعا کرنا بھی ایک قسم کی پاداش ہے».

جہاں میزبان بٹھا دے، بیٹھ جائیں

[ترمیم]

امام باقرؑ کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی اپنے برادرِ دینی کے گھر داخل ہو تو اسے چاہیے کہ جہاں پر اسے میزبان بٹھا دے وہیں پر بیٹھ جاۓ، کیونکہ صاحب خانہ اپنے گھر کی موقعیت کو مہمان سے بہتر جانتا ہے. ابوخلیفہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور ابو‌عُبیده حَذّاء، امام باقر (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش ہوۓ، امام نے اپنی کنیز کو حکم دیا کہ وہ تکیہ لے آۓ، میں نے کہا کہ یا امام! تکیہ کی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی بیٹھ جاؤنگا، میری بات کے جواب میں امام نے فرمایا: «اے ابوخلیفہ! عزت اور احترام کو رد نہیں کرنا چاہیے...۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. راوندی کاشانی، فضل الله بن علی، النوادر، ص۳۵۔
۲. صدوق، محمد بن علی، من‌ لا‌ یحضره‌ الفقیہ، ج۴، ص۳۶۱۔    
۳. کلینی، محمد بن یعقوب، الاصول من الکافی، ج۶، ص۲۷۴۔    
۴. کلینی، محمد بن یعقوب، الاصول من الکافی، ج۲، ص۱۵۱۔    
۵. کلینی، محمد بن یعقوب، الاصول من الکافی، ج۶، ص۲۷۴۔    
۶. ابن‌حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام،‌ ج۱، ص۲۲۱۔    
۷. سوره نور/۲۴، آیات۲۷ – ۲۸۔    
۸. ابن‌شہر‌ آشوب، محمد بن علی، مناقب آل‌ أبی‌ طالبؑ، ج۱، ص۴۰۷۔    
۹. محدث نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج۱۶، ص۲۴۳۔    
۱۰. ابن‌حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام،‌ ج۲، ص۱۰۷۔    
۱۱. کلینی، محمد بن یعقوب، الاصول من الکافی، ج۶، ص۲۸۳۔    
۱۲. حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، ج۲۴، ص۳۱۴۔    
۱۳. صدوق، محمد بن علی، الخصال، ج۱، ص۴۱۰۔    
۱۴. برقی، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن،‌ ج ۲، ص ۴۱۱۔    
۱۵. طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الأحکام، ج۹، ص۹۲۔    
۱۶. طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، ص‌۲۲۔    
۱۷. امام علیؑ، نہج البلاغۃ، ص۶۷۵۔    
۱۸. امام علیؑ، نہج البلاغۃ، ص۶۷۵    
۱۹. شیبانی، أحمد بن محمد بن حنبل، مسند أحمد، محقق شعیب الأرنؤوط، و دیگران، ج۱۶، ص۲۵۹، بیروت، مؤسسة الرسالة، چاپ اول، ۱۴۲۱ق.    
۲۰. ابن‌أبی‌جمہور، محمد بن زین‌ الدین، عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الأحادیث الدینیۃ، ج۴، ص۳۷۔    
۲۱. صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضاؑ، ج۱، ص ۵۷۔    
۲۲. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۲۲، ص۳۲۱۔    
۲۳. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۷۲، ص۴۵۳۔    
۲۴. مجلسی، محمد باقر، مرآة العقول فی شرح أخبار آل الرسول، ج۲۲، ص۸۱۔    
۲۵. ابن‌ حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج۵، ص ۴۹۴۔    
۲۶. حمیری، عبد الله بن جعفر، قرب الإسناد، ص۶۹۔    
۲۷. فرات کوفی، ابو القاسم، تفسیر فرات، ص ۲۷۴۔    


مأخذ

[ترمیم]

پایگاه اسلام کوئست، یہ تحریر مقالہ آداب میہمانی رفتن سے مأخوذ ہے۔، مشاہدہِ سایت کا لنک:۱۳۹۸/۷/۱۶۔    






جعبه ابزار