عید قربان

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



عید قربان، مسلمانوں کی ایک بڑی عید ہے۔ اس کے احکام و آداب کے بارے میں باب طہارت، صلاۃ، صوم اور حج میں بحث کی گئی ہے۔


مقدمہ

[ترمیم]

ایک موحد انسان جو وقوف عرفات و مشعر کی بدولت معرفت اللہ کے بلند مقام پر پہنچ چکا ہو اور اس کی نگاہ میں تمام نفسانی خواہشات مٹی اور پتھر ہو جائیں، وہ خالق لاشریک و مہربان کی محبت میں غرق ہو؛ اس صورت میں یہ فطری امر ہے کہ وہ کسی بھی ایسے موجود کو ذبح کرنے سے دریغ نہیں کرے گا جو اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالے اور قرب الٰہی کی منزل تک پہنچنے سے مانع ہو۔ اگرچہ وہ موجود اس کا عزیز بیٹا، اس کی جان یا اس کی دلی خواہشات ہی کیوں نہ ہوں۔

تعریف

[ترمیم]

عید قربان جسے اضحیٰ یا عید الضحیٰ کا نام بھی دیا جاتا ہے؛ اسلام کی بڑی عید ہے جو دس ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔

عید قربان کے دیگر نام

[ترمیم]
عید قربان کے دوسرے نام عید اضحیٰ اور عید خون ہے۔ یہ امر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا دن ہے، یہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی آزمائش اور امتحان کا دن تھا جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
[۱] ضیاءآبادی، سید محمد، حج برنامه تکامل، بی جا،دارالکتب الاسلامیه، ص ۳۳۲۔
فَلَمّا اَسْلَما وَتَلّهُ لِلجَبینِ وَنادَیناهُ اَنْ یا اِبراهیم، قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ؛... جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

عید قربان کے احکام و آداب

[ترمیم]

احادیث اور اسلامی فقہ میں عید قربان کی رات اور دن کے حوالے سے خاص احکام اور آداب وارد ہوئے ہیں۔

← شب عید


امام حسینؑ کی زیارت شب عید میں مستحب مؤکد ہے۔ چنانچہ یہ شب دعا اور اس کی قبولیت کا بہترین وقت ہے۔ حاجی پر واجب ہے کہ شب عید مشعر الحرام میں بیتوتہ کرے۔
امام صادقؑ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے اجداد سے نقل فرمایا: امام علیؑ سال کی چار راتیں عبادت کی غرض سے خود کو دوسرے کاموں سے فارغ رکھتے تھے؛ رجب کی پہلی رات، نیمہ شعبان کی رات، عید فطر کی رات اور عید قربان کی رات۔
[۶] ملکی تبریزی، میرزا جواد، المراقبات، بی جا، ص ۴۵۴۔

عید کے شب و روز میں امام حسینؑ کی زیارت مستحب ہے۔

← روز عید


روز عید کے آداب یہ ہیں: نیک کاموں کی بکثرت انجام دہی، غیر منیٰ میں بھی قربانی کرنا اور اس کا گوشت فقیروں میں تقسیم کرنا،
[۹] قمی، عباس، مفاتیح الجنان، ترجمه هادی شرفی تبریزی، بی جا، ص ۴۸۱۔
عصر غیبت میں نماز عید پڑھنا، نماز عید کے بعد قربانی کا گوشت کھانا؛ یہ امور مستحب ہیں۔
اسی طرح عید کے دن غسل مستحب مؤکد ہے اور اس کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے؛ لیکن اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ وقت نماز عید کیلئے نکلنے سے پہلے تک ہے یا زوال آفتاب سے پہلے تک ہے یا غروب آفتاب سے پہلے تک ہے۔
.
نماز عید، عصر حضور اور حاکمیت امامؑ کے وقت واجب ہے۔
عید قربان کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔
اہل خانہ کیلئے بہترین غذا وغیرہ کا اہتمام کرنا اور عید کے دن دعائے ندبہ پڑھنا مستحب ہے۔
نماز عید کے وجوب کی صورت میں عید کے دن طلوع آفتاب کے بعد اور نماز پڑھنے سے قبل سفر کرنا حرام ہے اور اگر نماز واجب نہ ہو تو مکروہ ہے۔
قول مشہور کی بنا پر وارد شدہ طریقہ کار کے مطابق تکبیریں کہنا مستحب ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ منیٰ میں غیر حاضر افراد دس واجب نمازوں کے بعد جن میں سے پہلی عید کے دن کی نماز ظہر ہے اور ان میں سے آخری بارہ ذی الحج کی نماز صبح ہے؛ تکبیریں کہیں گے جبکہ منیٰ میں حاضر افراد پندرہ نمازوں کے بعد کہ جن میں سے پہلی عید کے دن کی نماز ظہر ہے اور ان میں سے آخری تیرہ ذی الحج کی نماز صبح ہے؛ تکبیریں کہیں گے۔
حاجی پر عید کے دن طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک مشعر الحرام میں وقوف واجب ہے۔ اسی طرح حاجی پر واجب ہے کہ عید قربان کے دن جمرہ عقبیٰ کو رمی کرے اور اس کے بعد قربانی کرے اور پھر حلق یا تقصیر انجام دے۔

قربانی

[ترمیم]
عید قربان کے آدب میں سے ایک راہ خدا میں قربانی کرنا ہے۔

← قربانی کی مختصر تاریخ


جب آٹھ ذی الحج یوم الترویہ کی شب ہوئی تو عبادت کے بعد حضرت ابراہیمؑ کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں انہیں ندا آئی: اے خلیل اگر تو ہمارے وصال کی تشنگی رکھتا ہے تو ایک تیز چھری کیساتھ اپنے عزیز بیٹے کو قربان کر دے! ابراہیم اس خطاب کی ہیبت سے بیدار ہو گئے اور خود سے کہنے لگے: آیا یہ امر رحمانی ہے یا وسوسہ شیطانی؟! آپ نے شب عرفہ میں دوبارہ یہ خواب دیکھا اور شب نحر (عید قربان) کی رات کو پھر یہی خواب دیکھا۔ چنانچہ آپ کا یقین مزید پختہ ہو گیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زوجہ ہاجرہ سے رخصت چاہی اور اسماعیلؑ کو لے کر منیٰ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب منیٰ میں پہنچے تو اپنا خواب اپنے فرزند کے گوش گزار کیا۔ اسماعیلؑ نے والد کی بات سن کر کہا: اے میرے والد بزرگوار! اگر میری ہزار جانیں ہوتیں تو سب کو اللہ کے فرمان کے سامنے قربان کر دیتا اور امر الہٰی کے سامنے سراپا تسلیم ہوتا۔
ابراہیمؑ جب منیٰ میں پہلے جمرہ کے پاس پہنچے تو شیطان مداخلت کے قصد سے آن پہنچا۔ ابراہیمؑ نے اس کی طرف سات پتھر پھینکے۔ پس جمرات ثلاث کی رمی کو مناسک حج میں شامل کر دیا گیا۔ باپ اور بیٹا حکمِ خدا پر عمل کیلئے آمادہ ہو گئے۔ ابراہیمؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا اور ایک تیز چھری حلق پر رکھ کر چلا دی مگر انہیں کچھ نہیں ہوا۔ آخر کار حق تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی کہ اے ابراہیمؑ! تیرا عمل مقبول درگاہ قرار پایا ہے اور ہم تم سے راضی ہیں۔

← قربان گاہ


منیٰ وہ مقام ہے کہ جہاں حاجی عید قربان کی صبح کے اعمال بجا لانے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔
۱) رمی جمرہ
۲) قربانی
۳) حلق اور تقصیر
[۲۳] عطائی اصفهانی، علی، اسرار حج، قم،ص ۱۲۳۔

قربانی، جمرہ عقبیٰ کی رمی کے بعد انجام دی جاتی ہے۔ قربانی سے مراد ہر وہ عمل ہے کہ جس کے ذریعے انسان خود کو رحمت الٰہی سے نزدیک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں قربانی کے حوالے سے فرماتا ہے: وَالْبُدْنَ جَعَلْناها لَكُمْ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔
[۲۴] عطائی اصفهانی، علی، اسرار حج، قم، ص ۱۲۶۔
یعنی ان قربانی کے جانوروں کو دین کے شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے۔

← ذبح کی شرائط


حج تمتمع بجا لانے والے پر واجب ہے کہ ایک ھدی یعنی ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بھیڑ کو ذبح کرے۔ البتہ اونٹ کی قربانی افضل ہے، پھر گائے بہتر ہے۔ تین مذکورہ حیوانات کے علاوہ کسی اور حیوان کی قربانی کافی نہیں ہے۔

← ذبح کے احکام


عید قربان کے دن حجاج کیلئے مستحب مؤکد ہے کہ پہلی چیز جو کھائیں وہ قربانی کے گوشت سے ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ ہدیہ کریں، ایک حصہ صدقہ دیں اور ایک حصہ اپنے لیے رکھیں۔ صدقہ مومنین کو دیں اور قربانی کا کچھ مقدار میں گوشت کھانا بہتر ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ضیاءآبادی، سید محمد، حج برنامه تکامل، بی جا،دارالکتب الاسلامیه، ص ۳۳۲۔
۲. صافات/سوره۳۷، آیه۱۰۳ تا ۱۰۵۔    
۳. وسائل الشیعة، شیخ حر عاملی، ج۱۴، ص۴۷۵۔    
۴. جواهر الکلام، نجفی، محمد حسن،ج۷، ص۲۰۲۔    
۵. العروة الوثقی، یزدی، سید کاظم،ج۴، ص۶۰۹۔    
۶. ملکی تبریزی، میرزا جواد، المراقبات، بی جا، ص ۴۵۴۔
۷. الکافی فی الفقه، حلبی، ابو الصلاح، ص۱۵۵۔    
۸. جواهرالکلام، نجفی، محمد حسن، ج۱۹، ص۲۱۹۔    
۹. قمی، عباس، مفاتیح الجنان، ترجمه هادی شرفی تبریزی، بی جا، ص ۴۸۱۔
۱۰. العروة الوثقی، یزدی، سید کاظم، ج۳، ص۳۹۶۔    
۱۱. جواهر الکلام، نجفی، محمد حسن، ج۱۱، ص۳۷۷۔    
۱۲. العروة الوثقی، یزدی، سید کاظم، ج۲، ص۱۵۰۔    
۱۳. مصباح الهدی، آملی، محمدتقی، ج۷، ص۸۶۔    
۱۴. المقنعة، شیخ مفید، ص ۱۹۴۔    
۱۵. جواهر الکلام، نجفی، محمد حسن،ج۱۱، ص۳۳۲-۳۳۳۔    
۱۶. جواهر الکلام، نجفی، محمدحسن، ج۱۶، ص۳۲۴۔    
۱۷. الکافی فی الفقه، حلبی، ابوالصلاح، ص۱۵۵۔    
۱۸. الکافی فی الفقه، حلبی، ابو الصلاح، ص۱۵۵۔    
۱۹. تحریر الوسیلة، خمینی، سید روح الله، ج۱، ص۴۴۱۔    
۲۰. تحریر الوسیلة، خمینی، سید روح الله، ج۱، ص۴۴۴۔    
۲۱. العروة الوثقی، یزدی، سید کاظم، ج۴، ص۶۰۹۔    
۲۲. صافات/سوره۳۷، آیه۱۰۴-۱۰۵۔    
۲۳. عطائی اصفهانی، علی، اسرار حج، قم،ص ۱۲۳۔
۲۴. عطائی اصفهانی، علی، اسرار حج، قم، ص ۱۲۶۔
۲۵. امام خمینی، مناسک حج، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی (ره)، ص ۲۰۷۔    
۲۶. امام خمینی، مناسک حج، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی (ره) ص ۲۰۹۔    


مآخذ

[ترمیم]
فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل بیت علیهم‌السلام، ج۵، ص۵۲۴، ماخوذ از مقالہ «عید قربان»۔    
سایت پژوهه، ماخوذ از مقالہ «عید قربان»، تاریخِ لنک ۱۶/۰۸/۲۰۱۹۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : اسلامی اخلاق | ایام کی فضیلت | حج | فقہ | قربانی




جعبه ابزار