تسلط (فقہ)

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



تسلط یا سُلۡطَۃ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی کسی چیز پر غلبہ اور سلطنت کے ہیں۔ مختلف فقہی ابواب میں یہ کلمہ استعمال کیا جاتا ہے۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

لغوی طور پر سلط کے مادہ کا معنی قوت اور قہر و غلبہ کے ہیں۔ یہی عرفی معنی فقہی ابواب میں استعمال ہوا ہے۔ اس طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تسلط یا سلطنت سے مراد کسی شیء پر غلبہ پانا یا اپنے ماتحت اور زیرِ تسلط لانا ہے ہے۔

تسلط کے اسباب

[ترمیم]

کسی شیء پر غلبہ یا سلطنت کا ہونا بغیر سبب کے نہیں ہو سکتا۔ اسلام کی نظر میں کسی شیء کو زیرِ تسلط لانے کے لیے ہر قسم کا سبب یا ذریعہ و وسیلہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اسلام نے ان اسباب کی نشاندہی کی ہے جن کو ذریعہ بنا کر کسی شیء کو ابنے زیر سلطنت لا سکتے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں:

← ولایت


سُلۡطَۃ یا تسلط کے اہم ترین اسباب میں سے ایک سبب انسان کی ولایت ہے، جیسے رسول اللہ ﷺ اور آئمہ اہل بیتؑ کی تمام خلقت پر ولایت، اسی طرح حاکم شرع کی امور حسبیہ پر ولایت، باپ کی اپنے نا بالغ بچے پر ولایت، یا باپ کی اپنے مجنون بچے پر ولایت کہ نا بالغ بچے اور مجنون کے اموال میں باپ جوکہ ولی ہے کو تصرف کا حق حاصل ہے، کنواری لڑکی کو نکاح کی اجازت کی ولایت، وصی کی وصیت پر ولایت۔

← حق


سُلۡطَۃ یا سلطنت کا ایک سبب حق کا ثابت ہونا ہے۔ اگر کسی کے لیے ایک حق ثابت ہو جائے تو وہ اس حق پر سلطنت اور تسلط رکھتا ہے، مثلا حق خیار جوکہ معاملہ کو باطل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ہے اس حق کے تسلط کا سبب ہے، اسی طرح حق قصاص جس میں مجرم کے اوپر صاحبِ حق کو حق حاصل ہے اور یہ حق اس کے تسلط اور سلطنت میں شمار ہو گا۔ لہٰذا صاحب حق کی مرضی کے وہ قصاص لے یا قصاص نہ لے۔

← ملکیت


سُلۡطَۃ اور تسلط کے اہم اسباب میں سے ایک سبب ملکیت ہے۔ ملکیت باعث بنتی ہے کہ مالک اپنی مِلک پر خود تسلط رکھتا ہے اور جہاں چاہے اس کو خرچ کر سکتا ہے اور کاملًا حقِ تصرف رکھتا ہے۔ قاعدہ سلطنت کا نتیجہ بھی یہی ہے۔

تسلط کے موانع

[ترمیم]

ہر شیء کا حقیقی مالک اللہ سبحانہ کی ذات ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو اسباب کی بناء پر عارضی ملکیت کا حق دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے امور کی نشاندہی بھی کی ہے جوکہ تسلط اور سلطنت میں رکاوٹ یا مانع شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

← کفر


کفر تسلط کے ختم ہونے یا تسلط نہ ہونے کے اسباب میں سے ایک ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:لَنْ یجْعَلَ اللَّهُ لِلکافِرینَ عَلى المُؤمِنینَ سَبیلًا؛ اللہ نے کافرین کو مؤمنین پر تسلط نہیں دیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ابن فارس، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۳، ص ۹۵۔    
۲. خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلۃ، ج ۲، ص ۲۷۳۔    
۳. خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلۃ، ج ۱، ص ۵۵۳۔    
۴. مشکینی، شیخ علی، اصطلاحات الاصول، ص ۲۱۵۔    
۵. نساء/سوره۴، آیه۱۴۱.    


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، ج۴، ص۵۲۷-۵۲۸۔    
بعض حوالہ جات ویکی فقہ اردو کی طرف سے اضافہ کیے گئے ہیں۔


اس صفحے کے زمرہ جات : فقہی اصطلاحات | ملکیت | ولایت




جعبه ابزار