تقابضپی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریںخریدار کی جانب سے معاملہ کے وقت مبیع کو گرفت میں لینا اور بیچنے والے کی جانب سے اس چیز کے بدلے میں قیمت وصول کرنا تقابض کہلاتا ہے۔ باب تجارت میں اس عنوان سے بحث کی جاتی ہے۔ بیع میں تقابض کا حکم[ترمیم]البتہ بیع صرف میں معاملہ کرنے والے فریقین کے باہمی جدا ہونے سے پہلے تقابض صحتِ بیع کی شرط ہے۔ حتی اگر جنس آپس میں مختلف ہو تو بھی ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تقابض شرط ہے اور اس کے بغیر بیع باطل ہے۔ بیع میں بعض قدماء قائل ہیں کہ بیچنے والے بائع اور خریدار کے آپس میں مفترق اور منتشر ہونے سے پہلے تقابض شرط ہے۔ حوالہ جات[ترمیم]
مأخذ[ترمیم]فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ج۲، ص۵۶۸۔ اس صفحے کے زمرہ جات : بیع | فقہی اصطلاحات
|