تکلیف معدومین

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



تکلیفِ معدومین کا اطلاق اس تکلیف پر ہوتا ہے جو شارع کے خطاب کے وقت غیر موجود افرادِ مکلفین کو بھی شامل ہو۔


اصطلاح کی تعریف

[ترمیم]

تکلیفِ معدومین کا مطلب تکلیف کا ان مکلفین پر عائد ہونا ہے جو شارع کے خطاب کے وقت موجود نہیں تھے اور دنیا میں انہوں نے قدم نہیں رکھا تھا۔

مختلف نظریات

[ترمیم]

علماءِ اصول کے درمیان اختلاف وارد ہوا کہ کیا شفاہی خطاب مثلا یا ایها الذین آمنوا یا یا ایها الناس؛ صرف ان مکلفین کے ساتھ مختص ہے جو شارع کے خطاب کے وقت مجلسِ خطاب میں موجود تھے یا ایسا نہیں بے بلکہ شارع کے خطابات عمومیت رکھتے ہیں اور غائب و معدوم جو ابھی وجود نہیں ان سب مکلفین کو شامل ہیں؟ بعض اصولی علماء میرزا قمی قائل ہیں کہ قرآن کے تمام خطاب شفاہی اور موجود مکلفین کے ساتھ مختص ہیں اور ان خطابات کے ذریعے فقط انہی کو سمجھنا مقصود ہے۔ بعض دیگر علماء مثلا شیخ انصاری، محقق خراسانی، میرزا نایینی اور شیخ رضا مظفر قائل ہیں کہ آیات، روایات اور علماء کے اجماع سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں وارد ہونے والی تکالیف عمومیت رکھتی ہیں اور مشافہین و موجودین کے ساتھ مختص نہیں ہیں۔
[۲] عراقی، ضیاء الدین، منہاج الاصول، ج۲، ص ۳۰۸-۳۰۶۔
[۸] نائینی، محمد حسین، فوائد الاصول، ج۱، ۲، ص۱۳۷۔
[۱۲] خضری، محمد، اصول الفقہ، ص۱۰۱۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. میرزای قمی، ابوالقاسم بن محمد حسن، قوانین الاصول، ج۱، ص۲۲۹۔    
۲. عراقی، ضیاء الدین، منہاج الاصول، ج۲، ص ۳۰۸-۳۰۶۔
۳. عراقی، ضیاء الدین، نہایۃ الافکار، ج۲، ۱، ص۵۳۶۔    
۴. سجادی، جعفر، فرہنگ معارف اسلامی، ج۲، ص۸۰۳۔    
۵. آخوند خراسانی، محمد کاظم بن حسین، کفایۃ الاصول، ص۲۲۷ - ۲۲۸۔    
۶. مظفر، محمد رضا، اصول الفقہ، ج۲، ص۱۴۱۔    
۷. نائینی، محمد حسین، فوائد الاصول، ج۱، ۲، ص۵۴۹۔    
۸. نائینی، محمد حسین، فوائد الاصول، ج۱، ۲، ص۱۳۷۔
۹. میرزا قمی، ابو القاسم بن محمد حسن، قوانین الاصول، ج۱، ص۲۲۹-۲۳۰۔    
۱۰. میرزا قمی، ابو القاسم بن محمد حسن، قوانین الاصول، ج۱، ص ۴۰۳-۳۹۸۔    
۱۱. میرزا قمی، ابو القاسم بن محمد حسن، قوانین الاصول، ج۱، ص۲۳۳۔    
۱۲. خضری، محمد، اصول الفقہ، ص۱۰۱۔
۱۳. جزائری، محمد جعفر، منتہی الدرایۃ فی توضیح الکفایۃ، ج۳، ص ۵۸۳۔    


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۳۶۰، مقالہِ تکلیف معدومین سے یہ تحریر لی گئی ہے۔    






جعبه ابزار