دین کی تعریف

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



لفظِ دین ایک قرآنی لفظ ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں متعدد آیات میں ہوا ہے۔ عالم اسلام میں عوام الناس اس کلمہ سے آشنا اور مانوس ہیں۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اہل اسلام اور مختلف ممالک میں مختلف زبانیں بولنے والے مسلمان اس لفظ سے آشنا ہیں۔ حتی غیر مسلم بھی اس لفظ سے مانوس ہیں۔ دین کا لفظ جتنا رائج اور لوگوں میں معروف ہے اتنا ہی اس کی جامع تعریف مشکل اور سخت ہے۔ غیر مسلم مغربی مفکرین اور مسلمان اہل فکر و نظر نے دین کی تعریف پیش کی ہے جس کا جائزہ اس تحریر میں لیا جائے گا۔


دین کا لغوی معنی

[ترمیم]

کلمہِ دین کثرت سے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے۔ یہ لفظ عربی زبان سے پہلے کی زبانوں میں بھی موجود تھا جس کی وجہ سے بعض نے یہ کہا ہے کہ لفظِ دین لغات سامی اور لغات ایرانی کے درمیان مشترک لفظ ہے۔
[۱] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۰، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
اہل لغت نے اس لفظ کے متعدد معانی ذکر کیے ہیں۔ راغب اصفہانی ذکر کرتے ہیں: والدين يقال للطاعة والجزاء واستعير للشريعة ، والدين كالملة لكنه يقال اعتبارا بالطاعة والانقياد للشريعة؛ دین اطاعت کرنے اور جزاء دینے کے معنی میں بولا جاتا ہے اور شریعت سے مستعار بھی ہے اور دین ملت کی مانند ہے لیکن لفظِ دین شریعت کی اطاعت اور شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے اعتبار سے بولا جاتا ہے۔ اس کی جمع ادیان آتی ہے۔ زبیدی نے تاج العروس میں دین کے متعدد معنی ذکر کیے ہیں، مثلا دین یعنی اسلام، عبادت، عادت اور اطاعت کو دین کا اصلی معنی قرار دیا ہے۔ ابن فارس نے دین کا معنی سر تسلیم خم کرنا، جھکا دینا اور اطاعت کرنا کے ذکر کیے ہیں اور کہا ہے کہ اس کلمہ کے تمام مشتقات اسی معنی کی طرف لوٹتے ہیں۔ صاحب التحقیق نے اس کا ایک اصلی معنی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک معین برنامہ یا معین و مشخص قوانین و مقررات کے سامنے خاضع ہو جانا اور جھک جانا دین کہلاتا ہے۔ اس کے قریب معانی اطاعت، بندگی، عاجزی کا اظہار کرنا وغیرہ ہیں۔

اہل لغت کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا لغوی معنی عاجزی کا اظہار اور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اطاعت کرنا ہے۔ اس سے مراد شریعت اور شریعت کی اتباع و اطاعت بھی لیا جاتا ہے۔

مختلف زبانوں میں لفظِ دین

[ترمیم]

عربی، فارسی اور اردو زبان میں لفظِ دین عام استعمال آتا ہے اور اس کی جمع ادیان بھی ان زبانوں میں رائج ہے۔ یہ کلمہ عربی زبان میں مختلف متضاد معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ استعمالِ لفظ کا مرحلہ لفظ کے وضع ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ مذہب، ملت، شریعت، منہاج، قانون اور اس طرح کے دیگر معانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات یہ لفظ حساب، قضاء، جزاء، قصاص وغیرہ کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ نیز لفظِ دین بول کر ذلت، خضوع، سر تسلیم خم ہونا، محکوم ہونا، مقہور ہونا، عبادت، اطاعت وغیرہ کے معانی مراد لیے جاتے ہیں جیساکہ اکثر اہل لغت نے تصریح کی ہے۔ انگلش زبان میں لفظِ دین کا متبادل کلمہ Religion ہے جوکہ لاطینی زبان میں Religio سے مشتق ہے جس کا لاطینی زبان میں معنی تقریب اور ربط کے ہیں۔ اس طرف توجہ رہنی چاہیے ان لغوی معانی اور متعدد معانی میں استعمال سے دین کی اصطلاحی تعریف روشن نہیں ہوتی اور یہ ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ اصطلاح میں دین سے کیا مراد ہے۔
[۸] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۱، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔


دین کی اصطلاحی تعریف

[ترمیم]

مسلم اور غیر مسلم مفکرین نے دین کی مختلف تعریفیں ذکر کی ہیں۔ ان سب تعریفوں کا یہاں پر احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے چنانچہ ان میں سے اہم تعریفیں اختصار کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں جس سے ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ غیر مسلم مفکرین کے نزدیک دین سے کیا مراد ہے اور اسلامی مفکرین کس تناظر میں دین کے معنی لیتے ہیں۔

← غیر مسلم مفکرین کے نزدیک


غربی مفکرین جن میں غربی فلاسفہ و متکلمین اور ماہرین نفسیات و عمرانیات شامل ہیں نے مختلف زاویوں سے دین کی تعریف کی ہے۔ یہاں پر مغربی مفکرین کی چار مختلف اقسام کی تعاریف کو مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے:
۱. معیاری تعریفیں، جسے Normative definition کہتے ہیں۔
۲. ماہوی وصفی تعریفیں، جسے Descriptive defination کہتے ہیں
۳. وظائفی تعریفیں، جیسے Functional definition کہتے ہیں۔
۴. ترکیبی تعریفیں

←← معیاری تعریفیں (Normative definition)


اس نوعِ تعاریف میں مختلف غربی مفکرین کی تعریفیں آ جاتی ہیں، جیسے جدید ہرمونوٹیک نظریہ کے بانی شلایر ماخر نے دین کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: إن الدين موضوع للتجربة، وهو إحساسنا بالتعلق والتبعيّة المطلقة، والشعور المتناهي أمام اللامتناهي هو العنصر المعياري المشترك بين جميع الأديان؛ دین ایک نوعِ تجربہ کي ایجاد ہے جوکہ تعلق اور مطلقہ تابعداری کا ہمارا ایک احساس ہے اور لا متناہی شعور کے سامنے متناہی احساس و شعور ہے اور یہی تمام ادیان میں مشترک معیاری عنصر ہے۔ شلایر ماخر کے نزدیک دینی نجربہ سے مراد موجودِ مطلق اور حقیقتِ مطلق کے ہونے کا شعوری احساس ہے جس کو ہر انسان اپنے نفس میں محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ شلایر نے دینی تجریہ کو احساس اور شعور کی قبیل سے قرار دیا اور اس کا علم یا معرفت کی جنس سے ہونے کا انکار کیا۔ اس کے نزدیک دین علوم و معرفت کی قبیل سے نہیں ہے اور نہ ہی دین کی زبان علم و معرفت کی زبان ہے بلکہ دین کا اصلًا فکر و نظر یا علم و معرفت سے تعلق نہیں ہے۔ اس کی نظر میں دین ایک روحانی احساس اور شعور کا نام ہے۔ شلایر کے دین اور تجربہ میں تعلق و ربط کے نظریہ کے مطابق ہر انسان دیندار اور متدین ہے اور کوئی ایسا بشر نہیں ہے جو اپنے نفس کی گہرائی میں موجودِ مطلق جوکہ اس جہاں سے ماوراء ہے پر اعتماد کا احساس نہ رکھتا ہو۔ پس تجریہِ دینی انسانی احساسات کا نام ہے۔ البتہ یہ احساس و شعور مراتب اور درجات رکھتا ہے جس کا بلندی رتبہ اور درجہ وحی کہلاتا ہے۔
[۱۰] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۶۶، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
اسی طرح ولیم جیمس نے دین کی یہ تعریف کی ہے کہ دین سے مراد وہ احساسات، افعال و اعمال اور تجربات ہیں لوگ تنہاہیوں میں اللہ کے ساتھ جس کو حس کرتے ہیں۔
[۱۱] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۲، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔


←← ماہوی وصفی تعریفیں (Descriptive defination)


اس نوع کی تعریفوں میں دین کی ماہیت کو آشکار کیا جاتا ہے اور اس کے ایسے اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں جن سے دین کی اصطلاح روشن ہو جائے۔ اس طور پر ہاربٹ سپنسر کہتا ہے کہ دین سے مراد اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہے کہ تمام موجودات ہمارے علوم اور ہمارے معارف سے بالاتر ایک قوت کی تجلیات ہیں۔ ٹالکوٹ پرسونز نے یہ تعریف کی ہے کہ دین اعتقادات، افعال، عادات اور ان دینی نظریات کا مجموعہ ہے جسے مختلف معاشروں میں لوگوں نے تشکیل دیا ہے۔ معیاری تعریفیں اور وصفی تعریفیں انسانی معاشروں میں دین کے عنوان سے وجود رکھنے والے تمام نظریات و افعال و عادات اور ان کے تمام مصادیق کو شامل نہیں ہیں۔
[۱۲] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۲، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔


←← وظائفی تعاریفیں Functional definition


اس رنگ کی تعریفیں وظائف اور ذمہ داریوں کے مرکزی پہلو کے گرد گھومتی ہیں۔ اس قسم سے تعلق رکھنے والی تعریفیں ایک انداز سے مرتب نہیں۔ البتہ ان میں نکتہِ مشترک ان وظائف اور ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو ہے جن سے دین نے ہمیں باخبر کیا ہے۔ ان میں بعض تعریفیں دین کے فردی اور اجتماعی وظائف کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور بعض دیگر دین کی طرف منسوب مثبت اور منفی اعمال و وظائف کو بیان کرتی ہیں۔ معروف غربی مفکر دورخیم کی نظر میں دین اپنے پیروکاروں کو ایک اخلاق کے حامل معاشرہ میں متحد اور جمع کرنے والا ہے۔ غربی مفکر سنغر دین کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دین اعتقادات اور افعال کے ایک ایسے مجموعے کا نام ہے جسے بعض لوگ وظیفہ قرار دیتے ہوئے اس لیے انجام دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زندگی میں اپنے مقاصد اور مسائلِ غائی تک رسائی حاصل کر سکے۔ لیکن مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب انسانی زندگی کے مقاصد اور اس کے غائی مسائل کے تعین کی بات آتی ہے اور مقاصد اور غایت کے معنی میں ابہام کا احساس ہوتا ہے۔ کیونکہ کون ہے جو انسان کے مقاصد اور اس کے غائی مسائل کا تعین کرے گا؟ کیا زندگی میں لذت کا حصول اور درد و تکلیف سے اجتناب انسان کے غائی مسائل اور بنیادی اہداف میں سے ہے؟! نیز اس نوع کی تعریفوں میں یہ نقص ہے کہ یہ تعریفیں بعض ایسے امور کو شامل ہو جاتیں ہیں جو غیر دینی امور ہیں۔ پس یہ تعریف مانع الاغیار نہیں ہے۔ ان نوع کی تعریفوں کی وسعت میں بعض ایے نظریات اور آئیڈیالوجی بھی آ جاتی ہے جو برملا دین کی دشمن شمار ہوتی ہے جیسے کمیونزم وغیرہ۔
[۱۳] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۳، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔


←← ترکیبی تعریفیں


اس مجموعہ کی تعریفیں میں تنوع اور وسعت پائی جاتی ہے جس میں عقائد، اخلاقیات، آداب وغیرہ آ جاتے ہیں، جیساکہ غربی مفکر ماستراو کہتا ہے کہ دین تین امور سے مرکب ہے: ۱۔ ایسی قدرت کا اعتراف جو ہمارے ما تحت یا ہمارے زیرِ تصرف نہیں ہے، ۲۔ اس قدرت کے سامنے ہمیں اپنے مقہور اور عاجز و خاضع ہونے کا علم ہونا، ۳۔ اس قوت کے ساتھ تعلق و ارتباط کا قائم ہونا۔ ان تین عناصر کا ماحصل یہ ہے کہ دین ایک قوت پر نظری طور پر ایمان کے ہونے یا ہم سے جدا ایسی قوت کے ہونے پر ایمان کا نام ہے جو ہمارے اوپر غالب اور مسلط ہے۔ اس ایمان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معین قوانین اور مشخص افعال ہیں جو ہم سے مربوط ہیں اور ہمیں اس قوت کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اس نوع کی تعریفوں میں مانع الاغیار ہونے کا نقص پایا جاتا ہے کیونکہ یہ تعریفیں بعض ایسے نظریات کو شامل ہو جاتی ہیں جو غیر دینی مکاتب ہیں جیسے لبرل ازم اور مارکس ازم وغیرہ۔

اہل غرب کی دین کے بارے میں بیان کردہ تمام تعریفوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تمام کی تمام تعریفیں چاہے وہ معیاری تعریفیں ہوں یا ماہوی و صفی یا وظائفی اور ترکیبی، اہل غرب کی بیان کردہ تمام تعریفیں دین کی فقط علمی اور اجتماعی پہلو کی ترجمانی کرتی ہے اور جامع و مانع تعریف نہیں ہے۔ خصوصًا آج کے دور میں انسانی معاشروں میں موجود ادیان پر یہ تعریفیں منطبق نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس یہ تعریفیں مانع الاغیار نہ ہونے کی وجہ سے دین کے مخالف افکار اور دشمن مکاتب پر منطبق ہو جاتی ہیں جیسے لبرل ازم، مارکس ازم، سوشل ازم وغیرہ۔
[۱۴] خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۶، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔


اسلامی مفکرین کی تعاریفیں

[ترمیم]

مختلف اسلامی مفکرین نے دین کی تعریف کی ہے اور دین کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور مرتب تعریف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں چند اسلامی مفکرین کی تعریفیں بیش خدمت ہیں:

← علامہ طباطبائی کی بیان کردہ تعریف


علامہ طباطبائی اپنی کتاب الشیعۃ فی الاسلام کے آغاز میں دین کی تعریف اس طرح سے ذکر کرتے ہیں کہ دین اعتقادات اور قوانین کا ایسا مجموعہ ہے جو زندگی میں عملی جانب سے تعلق اور ربط رکھتا ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ قوانین انسان زندگی پر حاکم ہوتے ہیں اور ان بنیادی اعتقادات پر مشتمل ہوتے ہیں انسان جن پر اپنی زندگی اور مختلف تعلقات میں اعتماد کرتا ہے۔ ان اعتقادات اور ان کی بناء پر جاری ہونے والے احکام جوکہ انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتے کو دین اور مذہب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

← آیت اللہ جوادی آملی کی تعریف


مشہور اسلامی فیلسوف، فقیہ اور مفسر شیخ عبد اللہ جوادی آملی دین کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ دین سے مراد عقائد، اخلاق اور وہ قوانین ہیں جو انسان کی اجتماعی زندگی کو منظم و مرتب ور انسان کی تربیت کرتے ہیں۔ اگر یہ عقائد و اخلاق و قوانین حق پر مشتمل ہوں تو اس کو دینِ حق کہا جاتا ہے۔ دینِ حق وہ دین ہے جس کے عقائد، اخلاق اور قوانین اللہ عز و جل کی جانب سے آئے ہیں۔ جبکہ دینِ باطل وہ دین کہلائے گا جسے غیر خدا کی جانب سے تشکیل و ترتیب دیا گیا ہے۔

← شیخ جعفر سبحانی کی تعریف


شیخ جعفر سبحانی دین کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دین سے مراد وہ فکری انقلاب ہے جو انسان کو تمام پہلوؤں اور تمام جوانب سے کمال اور ترقی کی طرف لے جائے۔ یہ تمام جوانب چار چیزوں میں سماں جاتے ہیں: ۱۔ افکار و عقائد کو تشکیل دینا اور ان کی وہم و خرافات سے تہذیب کرنا، ۲۔ اخلاقی اصول و ضوابط کو جنم دینا، ۳۔ اچھے اجتماعی تعلقات استوار کرنا، ۴۔ قومیت کے عناصر کو ختم کرنا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۰، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۲. راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص ۱۷۵۔    
۳. حسینی زبیدی، مرتضی، تاج العروس من جواہر القاموس، ج ۳۵، ص ۵۴۔    
۴. ابن فارس، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۲، ص ۳۱۹۔    
۵. مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ج ۳، ص ۲۸۹۔    
۶. خسرو پناہ، عبد الحسین، گستردہ شریعت، ج ۱، ص ۲۵۔    
۷. مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ج ۳، ص ۲۸۹۔    
۸. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۱، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۹. حسینی زبیدی، مرتضی، تاج العروس من جواہر القاموس، ج ۳۵، ص ۵۴۔    
۱۰. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۶۶، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۱۱. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۲، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۱۲. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۲، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۱۳. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۳، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۱۴. خسرو پناہ، عبد الحسین، الکلام الاسلامی المعاصر، ج ۱، ص ۲۴۶، ناشر: العتبۃ العباسیۃ۔
۱۵. طباطبائی، سید محمد حسین، الشیعۃ فی الاسلام، ص ۱۵۔    
۱۶. جوادی آملی، عبد اللہ، شریعت در آئینہ معرفت، ص ۹۳۔    
۱۷. مکی عاملی، محمد، الالہیات علی ھدی الکتاب والسنۃ والعقل، ج ۱، ص ۶۔    


مأخذ

[ترمیم]

ویکی فقہِ مربوط محققین نے اس مقالہ کو تحریر کیا ہے۔






جعبه ابزار