سورہ نوح

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



قرآن کریم کی اکہتّر (۷۱) نمبر سورہ سورہِ نوح ہے۔ اس سورہ میں حضرت نوحؑ کی دعوت و تبلیغ اور قوم کی ضد و استکبار اور ان کے عبرتناک انجام کو بیان کیا گیا ہے۔


سورہ نوحؑ میں داستانِ نوحؑ

[ترمیم]

سورہ نوح میں جناب نوحؑ کی اپنی قوم کے ساتھ حق و باطل کے مبارزہ پر مشتمل داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورہ میں دعوتِ الہی کی راہ میں انبیاءؑ کی روش کو بیان کیا گیا ہے کہ کس زحمت و مشقت اور جانفشانی کے ساتھ اللہ تعالی کے فرستادہ نبی نے پیغام حق سنایا اور دعوت و تبلیغ کے فرائض پورے کیے۔ نیز اس سورہ مبارکہ میں حضرت نوحؑ کی داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم انہیں طرح طرح تکالیف و مصائب اور شدائد سے دوچار کیا تاکہ حضرت نوحؑ بت پرستی کی مذمت کو ترک کر دیں اور گمراہی کے خلاف قیام سے گریز کریں لیکن آپؑ نے قوم اور ملأ کی تمام دشمنی، طعنہ تشنیع اور اذیت و تکلیف کو برداشت کیا اور حق کی صدا بلند کرتے ہوئے اپنے موقف پر استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اس سورہ میں چونکہ جناب نوحؑ کا تذکرہ ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام سورہِ نوح قرار دیا گیا۔

سورہ نوحؑ کا موضوع

[ترمیم]

اس سورہ کا موضوع یہ ہے کہ حضرت نوحؑ اپنی قوم کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے مبعوث کیے گئے تاکہ قوم کی ہدایت کریں اور اللہ تعالی کی بندگی کو معاشرے میں زندہ کریں۔ سورہ میں جناب نوحؑ کی اجمالی دعوت کا بیان وارد ہوا ہے اور آپؑ نے اپنی قوم کی مذمت میں جو شکوہ اور نفرین کی اس کا تذکرہ وارد ہوا ہے۔ نیز سورہ میں آپؑ کا ہر اس مرد و زن جو اہل ایمان تھا کے لیے استغفار کا تذکرہ وارد ہوا ہے۔ داستانِ نوحؑ کا اختتام ان کی قوم پر عذاب اور اہل ایمان کی نجات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ پس جنہوں نے حضرت نوحؑ اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا اللہ تعالی نے انہیں غرق کر دیا اور کشتیِ نوحؑ میں سوار ہونے والے عذاب سے محفوظ رہے۔ اس سورہ میں موجود آیاتِ کریمہ کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ مکی ہے جوکہ قبل از ہجرت نازل ہوئی۔

سورہ نوحؑ کی خصوصیات

[ترمیم]

محققین نے اس سورہ کی کچھ خصوصیات بیان کی ہیں جن کی طرف مختصر طور پر اشارہ کیا جاتا ہے:
۱. اس سورہ کی آیت نمبر ۲۸ عدد کوفی، آیت نمبر ۲۹ عدد بصری اور شامی، آیت نمبر ۳۰ عدد حجازی، ۲۲۴ یا ۲۲۷ کلمات اور ۹۲۹، ۹۵۹ یا ۹۶۵ حرف ہیں۔
۲. قرآن کریم کی ترتیبِ نزول کے اعتبار سے یہ سورہ اکہتّر (۷۱) نمبر سورہ بنتی ہے۔
۳. یہ سورہ سوره نحل کے بعد اور سوره ابراہیم سے پہلے مکہ میں ہجرت سے پہلے نازل ہوئی اور اس سورہ میں کوئی مدنی آیت موجود نہیں ہے۔
۴. کہا جاتا ہے کہ اس سورہ میں کسی قسم کا نسخ موجود نہیں ہے۔

سوره نوح میں اہم مطالب

[ترمیم]

۱. حضرت نوحؑ کی سرگذشت۔
۲. حضرت نوحؑ کی وعظ و نصیحتیں اور دعوت و تبلیغ۔
۳. حضرت نوحؑ کی زبانِ مبارک سے توحید کے نظریے اور اسرارِ خلقت کا بیان۔
۴. حضرتِ نوحؑ کی زبان سے اللہ تعالی کی انواع و اقسام کی اَن گنت نعمات کی طرف اشارہ۔
۵. حضرتِ نوحؑ کا اللہ تعالی کی اطاعت اور تقوی کے اختیار کرنے کی تاکید کرنا۔
۶. حضرت نوحؑ کا دعا کرنا اور ان کی سیرت میں سبق آمور دعائیں۔
[۷] ہاشم زاده ہریسی، ہاشم، ۱۳۱۷، شناخت سوره‌ ہای قرآن، ص۴۷۴۔
[۸] رامیار، محمود، تاریخ قرآن، ص۵۸۸۔
[۹] جمعی از محققان، علوم القرآن عند المفسرین، ج۱، ص۳۱۶۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۲۰، ص۲۶۔    
۲. فیروز آبادی، محمد بن یعقوب،بصائر ذوی التمییز فی لطائف الکتاب العزیز، ج۱، ص۴۸۲۔    
۳. سیوطی، عبد الرحمن بن ابی بکر، الاتقان فی علوم القرآن، ج ۱، ص۴۱۔    
۴. سیوطی، عبد الرحمن بن ابی بکر، الاتقان فی علوم القرآن، ج ۱، ص۴۳۔    
۵. مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، ج۲۵، ص۵۱۔    
۶. زرکشی، محمد بن بہادر، البرہان فی علوم القرآن، ج۱، ص۱۹۳۔    
۷. ہاشم زاده ہریسی، ہاشم، ۱۳۱۷، شناخت سوره‌ ہای قرآن، ص۴۷۴۔
۸. رامیار، محمود، تاریخ قرآن، ص۵۸۸۔
۹. جمعی از محققان، علوم القرآن عند المفسرین، ج۱، ص۳۱۶۔


مأخذ

[ترمیم]

فرہنگ نامہ فارسی علوم قرآنی، یہ تحریر مقالہ سوره نوح سے ماخوذ ہے۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : قرآن شناسی | قرآن کریم کی سورتیں




جعبه ابزار