سید عبد اللہ فاطمی نیا

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



سید عبد الله فاطمی نیا (۱۳۲۵-۱۴۰۱شمسی) چودہویں صدی کے خطیب، استاد اخلاق، اسلامی تاریخ میں اہل نظر، کتاب شناس اور نظری عرفان کے برجستہ استاد تھے۔
آپ نے علامہ طباطبائی، آیت‌ الله بهجت، آیت‌ الله بهاءالدینی، آیت‌ الله مصطفوی تبریزی اور آیت‌ الله محمد تقی آملی سے کسب فیض کیا۔ آپ علم رجال ، نظری عرفان اور عملی عرفان میں متخصص تھے۔ تاہم زیادہ تر عمومی مجالس سے خطاب کرتے تھے اور اسلامی علوم کے ماہر تھے۔ آپ کی منجملہ فعالیت حوزات علمیہ میں تدریس، ٹیلی وژن کے پروگراموں میں عالم دین کے عنوان سے شرکت اور مدارس وجامعات میں خطابات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی کئی تالیفات ہیں اور آپ کے مختلف مجلات میں مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ یہ استاد اخلاق کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد ۲۶ اردیبهشت سنہ۱۴۰۱شمسی میں انتقال کر گئے۔


مختصر تعارف

[ترمیم]

آیت الله سید عبدالله فاطمی نیا کی ولادت سنہ ۱۳۲۵ شمسی کو تبریز میں ہوئی۔ آپ مجتهد، خطیب، عارف و استاد اخلاق، اسلامی مورخ اور کتاب ‌شناس تھے۔ آپ کی اخلاق، عرفان ، حدیث اور عربی اشعار کے حوالے سے تحقیقات ہیں۔

تعلیم

[ترمیم]

آقائے فاطمی نیا کے والد آیت‌ الله سید اسماعیل اصفیایی شندآبادی، اپنے زمانے کے عظیم اور مشہور عالم اور عارف شمار ہوتے تھے۔ آیت اللہ فاطمی نیا بچپن سے اس ولی اللہ کے زیر تربیت رہے اور دینی و علمی دروس کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ کچھ عرصہ بعد انہیں تعلیم و تربیت کیلئے حضرت آیت‌ الله مصطفوی تبریزی (عظیم عارف اور آیت‌ الله میرزائے قاضی کے شاگرد) کی خدمت میں بھیج دیتے ہیں۔ آپ لگ بھگ ۳۰ برس تک اس عظیم شخصیت کی ظاہری و باطنی تربیت کے زیر سایہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی حوزوی تعلیم کا بھی سلسلہ جاری رکھا۔
آیت‌ الله مصطفوی، کے بعد آپ نے حضرت علامہ محمدحسین طباطبائی، حضرت آیت‌ الله الهی تبریزی (علامہ طباطبائی کے بھائی)، آیت‌ الله محمدتقی آملی، آیت‌ الله بهاءالدینی، آیت‌ الله بهجت اور دیگر بزرگوں سے کسب فیض کیا یہاں تک کہ ان کے اسرار کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایک واسطے سے
آیت‌ الله قاضی طباطبائی کے شاگرد ہیں؛ کیونکہ آپ کے تمام اساتذہ حضرت آیت اللہ قاضی کے حامل اسرار شاگرد تھے۔
آپ کا علم رجال اور نظری عرفان میں تخصص کم نظیر ہے۔ اس کے باوجود آپ نے اپنی علمی شخصیت کو مجالس عزا کے خطابات میں چھپائے رکھا۔ یہاں تک کہ زیادہ تر افراد آپ کو ایک استاد اور ایک ماہر خطیب کے عنوان سے پہچانتے ہیں۔

خصوصیات

[ترمیم]

شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ استاد فاطمی نیا کی سب سے بڑی خصوصیت آپ کا خود کو مخفی رکھنا ہے! آپ کو تواضع کا ایک پہاڑ کہا جا سکتا ہے۔ یہ بزرگوں کا قول ہے کہ: آقائے فاطمی نیا قطعا اولیاء اللہ میں سے ہیں۔
اس عظیم مرد کی ایک اور خصوصیت آپ کا اہل بیت عصمت و طہارتؑ کے ساتھ خاص عشق ہے۔
بعض اہل سلوک کی زبان سے آپ کے حوالے سے کرامات بھی زبان زد عام ہیں۔ مگر آپ نے بذات خود کبھی انہیں بیان نہیں کیا یا ان کی تائید نہیں کی۔ بعض اوقات خطابات کے دوران مختصر و لطیف اشارہ کر کے گزر جاتے تھے۔ بہرحال آیت‌ الله بهاءالدینی، آیت‌ الله بهجت، علامہ طباطبائی، آیت‌ الله مصطفوی اور میرزا علی، آقائے قاضی کے فرزند جو والد کے سلوک و عرفان کے آئینہ دار تھے؛ کے ساتھ چالیس سالہ رفاقت سے آپ کے وجود میں عرفان کا گلاب ناب کھل اٹھا تھا۔

تالیفات

[ترمیم]

۱- کتاب «شرح و تفسیر زیارت جامعه کبیره»؛
۲- تین جلدی کتاب «نکته‌ها از گفته‌ها» (استاد کے خطابات کی تلخیص)؛
۳- فرهنگ انتظار؛
اسی طرح آپ کے مختلف مجلات میں مقالات شائع ہوئے ہیں۔

علمی مدارج اور سرگرمیاں

[ترمیم]

آیت الله فاطمی نیا کی بہت سی علمی سرگرمیاں ہیں۔ آپ نظری عرفان اور عملی عرفان میں کم نظیر تھے۔ آپ زیادہ تر مجالس عزا سے خطاب کرتے تھے۔
آپ کی منجملہ فعالیت حوزات علمیہ میں تدریس، ٹیلی وژن کے پروگراموں میں عالم دین کے عنوان سے شرکت اور مدارس وجامعات میں خطابات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی کئی تالیفات ہیں اور آپ کے مختلف مجلات میں مقالات شائع ہو چکے ہیں۔

وفات

[ترمیم]

آیت الله سید عبدالله فاطمی آخر کار ۲۶ اردیبهشت سال ۱۴۰۱شمسی کو کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد تہران کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

ماخذ

[ترمیم]
حوزه ویب سائٹ، ماخوذ از مقاله «فاطمی نیا، سید عبدالله» تاریخ بازیابی ۱۴۰۰/۱۲/۲۹۔    






جعبه ابزار