رافع میں شک کا استصحاب

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



شک در رافع کے استصحاب سے مراد رافع کے وجود یا شیء کے رفع ہونے میں شک کے بعد مستصحب جوکہ دوام کا تقاضا کرتا ہے کی بقاء کا حکم لگانا ہے۔ اصول عملیہ میں استصحاب کے ذیل میں اس سے بحث کی جاتی ہے۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

شک در رافع کے استصحاب کے مقابلے میں مقتضی میں شک کا استصحاب آتا ہے۔ شک در رافع کے استصحاب سے مراد ایک چیز جس کے وجود میں دوام کی استعداد اور تقاضا پایا جاتا ہے کی بقاء کا اس وقت استصحاب کرنا ہے جب اس مستصحب کے باقی رہنے کی نسبت سے یا رافع کے موجود ہونے میں شک پایا جائے یا اس شیء کی رافعیت میں شک موجود ہو۔

← مثال


مثلا عقد نکاح ہمیشہ اور دائمی ہونے کی قابلیت رکھتا ہے۔ اب اس نکاح کے باقی رہنے کے بارے میں شک پیدا ہو جائے کہ آیا طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اس صورت میں عقدِ نکاح کے استمرار اور دوام کا استصحاب کیا جائے گا۔
[۴] فرائد الاصول، انصاری، مرتضی بن محمد امین،ج۲، ص۵۵۹۔
[۷] سیری کامل در اصول فقہ، فاضل لنکرانی، محمد، ج۱۴، ص ۱۴۰-۱۲۰۔


شک در رافع اور شک در مقتضی میں فرق

[ترمیم]

شک در رافع اور شک در مقتضی میں بنیادی فرف مستصحب کی استعداد کے حوالے سے ہے۔ شک در مقتضی میں چیز کی بقاء کے بارے میں شک ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس شیء میں بقاء کی استعداد اور قابلیت کے بارے میں شک پایا جاتا ہے۔ پس اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شک در مقتضی اس مورد میں ہوتا ہے جب ایک شیء میں باقی رہنے کی قلیل استعداد اور قابلیت پائی جائے۔ جبکہ شک در رافع میں چیز میں دوام اور بقاء کے استمرار کا یقین اور علم ہے لیکن شک اس میں ہے کہ آیا ایسا کوئی رافع ہے جو اس وجود کو ختم کر دے یا نہیں۔

شک در رافع کی اقسام

[ترمیم]

شک در رافع میں رافع (یعنی شیء کو زائل کرنے والے کے وجود) کے اعتبار سے درج ذیل صورتیں سامنے آتی ہیں:
۱. رافع کے وجود میں شک کرنا، مثلا حدث سے طہارت حاصل کرنے کے بعد شک کرنا کہ آیا نیند طاری ہوئی تھی نہیں۔ اس مثال میں نیند طہارت کو رفع کرنے والی ہے جس کے وجود کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے۔
۲. موجود کے رافع ہونے میں شک، اس اعتبار سے کہ ایک موجود کے رافع ہونے کا علم ہے لیکن شک کیا جاتا ہے کہ اس موجود نے رفع کیا ہے یا نہیں، یہ اس وقت ہوتا ہے جب سابقہ حالت کا یقین کرنے والا دو چیزوں کے درمیان متردد ہو جائے، مثلا مکلف کو علم ہے کہ روزِ جمعہ اس پر نماز واجب ہے لیکن وہ متردد ہے کہ نماز جمعہ واجب ہے یا نماز ظہر۔ اب اگر اس نے نماز جمعہ ادا کر لی تو اس کو شک لاحق ہو گیا ہے کہ اب بھی اس کا ذمہ مشغول ہے یا نہیں؟ یعنی کیا اس پر نماز پڑھنا واجب ہے یا نماز جمعہ ادا کرنے کی وجہ سے وظیفہ ادا ہو گیا ہے؟ اس مثال میں وجوب نماز وہ موجود ہے جس کے رفع ہونے کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے۔
۳. موجود کے رافع ہونے میں شک، اس جہت سے کہ جو موجود رافع ہے اس میں رفع کرنے کی صفت ہے یا نہیں؟ مثلا طہارت حاصل کرنے والے سے مذی خارج ہوئی، اب وہ شک کرتا ہے کہ آیا مذی طہارت کو رفع کر دیتی ہے جیساکہ پیشاب کرتا ہے یا نہیں؟ اس مثال میں مذی وہ وجود ہے جس کے رافع ہونے کے بارے میں شک کیا گیا ہے کہ آیا اس میں رفع کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔
۴. موجود کے رافع ہونے میں شک، اس اعتبار سے کہ رافع کا مفہوم واضح ہے اور مکلف کے علم میں ہے لیکن جو موجود رافع بن رہا ہے آیا وہ وجود رافع کا مصداق ہے یا نہیں، مثلا ایک شخص سے ایک تری یا گیلاہٹ خارج ہوئی ہے لیکن شک کرتا ہے کہ یہ قطرات پیشاب ہیں یا نہیں؟ اس مثال میں پیشاب وہ موجود ہے جس کے رافعِ طہارت ہونے کا علم ہے لیکن آیا یہ گیلاہٹ یا قطرات بیشاب کا مصداق ہیں کہ رافع کہلائے یا نہیں ۔
۵. موجود کے رافع ہونے میں شک، اس اعتبار سے کہ رافع کا مفہوم مکلف کے لیے واضح نہیں ہے اور اس کے لیے مجہول ہے جس کی وجہ سے وہ موجود جو رافع بن رہا ہے کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ آیا یہ وجود رافع کا مصداق ہے یا نہیں؟ مثلا یہ معلوم ہے کہ مذی خارج ہوئی ہے لیکن پیشاب کے مفہوم کے بارے میں شک کرتا ہے کہ آیا پیشاب کا معنی وہی معروف معنی ہے جو عرف عام میں پایا جاتا ہے یا نہیں بلکہ پیشاب کا معنی اعم ہے اور مذی کو بھی شامل ہے؟

مربوط عناوین

[ترمیم]

شک در رافع۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. الفصول الغرویۃ فی الاصول الفقہییۃ، اصفہانی، محمد حسین، ص۳۷۸۔    
۲. اصول الاستنباط، حیدری، علی نقی، ص۲۶۸۔    
۳. اصطلاحات الاصول، مشکینی، علی، ص۳۷۔    
۴. فرائد الاصول، انصاری، مرتضی بن محمد امین،ج۲، ص۵۵۹۔
۵. فوائد الاصول، نائینی، محمد حسین، ج۴، ص (۵۷۸-۵۷۷)۔    
۶. الرسائل، خمینی، روح الله، ج۱، ص۸۰۔    
۷. سیری کامل در اصول فقہ، فاضل لنکرانی، محمد، ج۱۴، ص ۱۴۰-۱۲۰۔
۸. اصطلاحات الاصول، مشکینی، علی، ص۳۷    
۹. اصطلاحات الاصول، مشکینی، علی، ص۳۸    


مأخذ

[ترمیم]
فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، تدوین توسط مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، ص۱۶۲، یہ تحریر مقالہ استصحاب با شک در رافع سے مأخوذ ہے۔    

بعض مطالب محققین ویکی فقہ اردو کی جانب سے اضافہ کیے گئے ہیں۔


اس صفحے کے زمرہ جات : استصحاب | استصحاب کی اقسام | اصول عملیہ




جعبه ابزار