غزوہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



غزوہ سے مراد وہ جنگیں ہیں جن کی قیادت کا فریضہ خود پیغمبرؐ نے انجام دیا۔


غزوه کا لغوی معنی

[ترمیم]

غَزْوَه، غین کے فتحہ اور زال کے فتحہ کیساتھ (اس کی جمع غزوات ہے) لغت میں جنگ کے معنی میں ہے اور اسی سے کلمہ’’الغزو‘‘ ماخوذ ہے۔ اس کا اسم فاعل «غازی‌» اور جمع «غُزاة» و «غُزّی‌» ہے؛ جیسے قاضی سے قضاة؛ سابق سے سُبّق ( اس کا معنی ہے: دشمن سے لڑائی کرنا اور اسے نابود کرنا)
قرآن کریم کی آیت ہے:«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَّوْ كَانُوا عِندَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے اس آیت میں وارد ہونے والا کلمہ ’’غزی‘‘ اسی قبیل سے ہے۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: «دَعا مُوسی وَامَّنَ هاروُنُ وَامَنَّتِ الْمَلائِکَةُ فَقالَ اللَّهُ تَبارَکَ وَتَعالی قَدْ اجِیْبَتْ دَعْوَتُکُما فَاسْتَقیما وَ مَنْ غَزا فی‌ سَبیلِ اللَّهِ اسْتُجیبُ لَهُ کَمَا اسْتُجیبُ لَکُما الی‌ یَوْمِ‌الْقِیامَةِ»
حضرت موسیٰ نے دعا کی اور ہارون نے آمین کہا اور فرشتوں نے بھی آمین کہا۔ پس خدائے تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: یقینا تم دونوں کی دعا قبول ہو گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور قیامت تک جو بھی راہ خدا میں جہاد کرے گا اس کی دعا مستجاب ہے جیسے تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ہے۔

غزوه کا اصطلاحی معنی

[ترمیم]

اکثر مورخین کی اصطلاح میں غزوہ ان جنگوں کو کہا جاتا ہے جن کی قیادت پیغمبر اکرمؐ نے بذات خود فرمائی اور زمانہ رسولؐ کی وہ جنگیں جن میں آنحضورؐ شریک نہیں ہوئے؛ انہیں سریہ یا بعث کہا جاتا ہے۔

پیغمبرؐ کے غزوات اور سریوں کی تعداد

[ترمیم]

سیرت نویسوں کے مابین غزوات اور سریوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔
[۵] واقدی، مغازی، ص۱۲۸، چ آل البیت۔
انیس سے انتیس تک تعداد ذکر کی گئی ہے لیکن ان غزوات کی تعداد جن میں لڑائی تک نوبت پہنچی؛ ان کی تعداد سب نے نو لکھی ہے: جنگ بدر، احد، المریسیع(بنی مصطلقخندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، طائف، حنین اور سریوں کی تعداد سنتالیس تک تحریر کی گئی ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں: «... اغْزُوهُمْ قَبْلَ ‌انْ یَغْزُوکُمْ، فَوَاللَّهِ ماغُزِیَ قَوْمٌ قَطُّ فی‌عُقْرِ دارِهِمْ الاّ ذَلُّوا...» اس سے قبل کہ وہ حملہ آور ہوں تم ان پر حملہ کر دو۔ خدا کی قسم! کسی قوم و ملت پر دشمن نے ان کے شہروں اور گھروں کے اندر حملہ نہیں کیا مگر یہ کہ وہ ذلیل و خوار ہوئے۔
[۶] نهج‌البلاغه، خطبه۲۷۔

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک دوسری روایت میں آیا ہے: «غَزْوَةٌ فی‌ الْبَحْرِ مِثْلَ عَشَرَ غَزَواتٍ فِی‌الْبَرِّ» ایک بحری جنگ دس زمینی جنگوں کے برابر ہے۔
[۷] کنزالعمال، ج۴، ص۱۷۹۔

نیز فرمایا: «افْضَلُ الْغُزاةِ فی‌ سَبیلِ‌اللَّهِ خادِمُهُمْ» راہ خدا میں بہترین جنگجو وہ ہیں جو مجاہدین کی خدمت کرتے ہیں۔
[۸] کنزالعمال، ج۴، ص۱۶۹۔

اسی طرح فرمایا: «مَنِ اغْتابَ غازِیاً فَکَانَّما قَتَلَ مُؤْمِناً» جو ایک جنگجو کی غیبت کرے گویا اس نے کسی مومن کو قتل کر دیا۔
[۹] کنزالعمال، ج۴، ص۱۸۴۔
[۱۰] لسان العرب، ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم، ج۱۵، ص۱۲۳، نشر دار صادر۔


حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. لسان العرب، ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم، ج۱۵، ص۱۲۳، نشر دار صادر۔    
۲. لسان العرب، ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم، ج۱۵، ص۱۲۳، نشر دار صادر۔    
۳. آل عمران/سوره۳، آیه۱۵۶۔    
۴. مستدرک الوسائل، ج۱۱، ص۷، ح۱۲۲۷۶۔    
۵. واقدی، مغازی، ص۱۲۸، چ آل البیت۔
۶. نهج‌البلاغه، خطبه۲۷۔
۷. کنزالعمال، ج۴، ص۱۷۹۔
۸. کنزالعمال، ج۴، ص۱۶۹۔
۹. کنزالعمال، ج۴، ص۱۸۴۔
۱۰. لسان العرب، ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم، ج۱۵، ص۱۲۳، نشر دار صادر۔


ماخذ

[ترمیم]

جمعی از نویسندگان، پژوهشکده تحقیقات اسلامی، اصطلاحات نظامی در فقه اسلامی، ص۹۴-۹۵۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : اسلامی اصطلاحات




جعبه ابزار