ہدیہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



ہدیہ اور تحفہ دینا ایک مستحسن عمل ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مومنین کو ایک دوسرے کو ہدیہ دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ دین اسلام نے ہدیہ کے عنوان سے جہاں اخلاقی تعلیمات پیش کی ہیں وہاں اس کا فقہی تناظر میں جائزہ لیتے ہوئے مختلف فقہی ابواب میں احکامِ شرعیہ کو بھی بیان کیا ہے، جیساکہ خمس کے باب میں ہدیہ پر خمس ہونے یا نہ ہونے کے حوالے بحث کی جاتی ہے یا باب ہبہ میں ہدیہ اور ہبہ میں فرق کو واضح کرتے ہوئے فقہاء شرعی حکم بیان کرتے ہیں۔


ہدیہ کے فوائد

[ترمیم]

اسلام نے ہدیہ دینے کی جہاں تلقین کی ہے وہاں اس کے کثیر فوائد کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ہدیہ دینے سے دوستی میں استحکام اور مضبوطی آتی ہے۔ ہدیہ دلوں میں محبت و الفت کا باعث بنتا ہے۔ ہدیہ کسی کے احترام اور عزت کی نشاندہی کرتا ہے اور ہدیہ دینے سے بخل کی صفت دور ہوتی ہے اور ایثار و قربانی کا جذبہ بڑھتا ہے۔ ہدہہ دینے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان کی شرف و بزرگی نمایاں ہوتی ہے۔ ہدیہ غصہ و غضب اور نفرت و کدروتوں کے خاتمہ کا باعث بنتا ہے اور رحمت کے حصول کا باعث بنتا ہے۔ ایک معاشرے اور گھرانے میں ان اسلامی اقدار کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اسی سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے اور مجرم نفس کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا اہل مکہ کو ہدیہ کرنا

[ترمیم]

تاریخی کتب میں وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں سے دوستی کی خاطر اور انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے جنگ حنین کے تمام غنائم انہیں بخش دیئے۔
[۱] تاریخ پیامبر اسلام ﷺ، ص۵۶۴۔


مفادات کے حصول کے لیے ہدیہ دینا

[ترمیم]

بعض اوقات ہدیہ اور تحفہ کو اسلامی اقدار سے ہٹ کر خبث نفس اور نیتِ فاسد کے دوش پر پش کیا جاتا ہے جس سے معاشرے میں فساد، فتنہ اور ہرج مرج بڑھتا ہے۔ اگر چابلوسی، ذاتی مفاد اور رشوت کے طور پر ہدیہ دیا جائے تو اس کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ کیونکہ ہدیہ ایک اسلامی قدر اور انسانی بزرگی کی صفت ہے جس کو شخصی و ذاتی مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دینا غیر مہذب اور نا پسندیدہ عمل ہے۔ اگر ہدیہ دینے والا اس نیت سے ہدیہ دے تاکہ وہ اس عمل کے ذریعے کسی پر احسان کرے اور احسان جتلائے یا غیر شرعی کاموں کی انجام دہی کا تقاضا کرے یا غیر قانونی راہ سے ابنے امور حل کرانے کی کوشش کرے تو اس کو شرعی طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ صاحب منصب یا حکومتی عہدوں پر فائز شخص کو زیادہ سے زیادہ ہدیہ دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ اگر اس کے بیچھے کوئی نیت بد نہ ہو تو بھی صاحبانِ اقتدار اور اہل منصب پر ہدیہ کے عنوان سے عنایات صحیح نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ اسے اپنا حق سمجھنے لگیں اور ہدیہ کی شرط پر کاموں کو انجام دینے لگیں یا چاپلوس قسم کے لوگوں کو قریب کر کے اصل معیارات سے روگردانی کرنے لگ جائیں۔ دین اسلام نے اس مقام پر ذمہ داری سے کام کرنے کی روش کو بسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور اہل منصب اور صاحبان اقتدار کو چاپلوس اور رشوت دینے والے لوگ سے اجتناب کی ہدایت کی ہے۔ سیرت اہل بیتؑ میں چاپلوس اور رشوت دینے کی شدت سے نفی نظر آتی ہے۔ آئمہ اطہارؑ کے ادوار میں بھی لوگ اپنے کام نکلوانے کے لیے یا حکمران سے قریب ہونے کے لیے ہدیہ دینے کی روش پر عمل کرتے تھے کیونکہ پھنسے ہوۓ کام نکلوانے کی غرض سے حکومتی عہدے داروں کو ہدیہ دینے کا رواج بہت پرانا ہے۔ کتب میں وارد ہوا ہے کہ ایک شخص امیر المومنینؑ جیسے عادل حکمران کے پاس اپنا کام نکلوانے کی غرض سے ہدیہ پیش کرنے آن پہنچا جس پر امام علیؑ نے اس کی شدید مذمت کی۔

امام علیؑ کا حکومت میں آنے کے بعد ہدیہ قبول کرنے سے انکار

[ترمیم]

اشعث بن قیس امام علیؑ کے دور خلافت میں آذربائیجان کا گورنر اور والی تھا۔ جب امام علیؑ نے منصب خلافت سنبھالا تو اشعث بن قیس جس نے گذشتہ حکومتوں میں بیت المال سے خوب مال بٹورا تھا سے تقاضا کیا کہ اپنا حساب کتاب لے کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔ اشعث بن قیس کوفہ آ گیا اور اما علیؑ نے اس کا محاسبہ کیا اور جتنا مال اس نے بیت المال سے بٹور رکھا تھا وہ مال واپس بیت المال پلٹا دیا۔ ایک دن اشعث بن قیس امیر المؤمنینؑ کے پاس ہاتھ میں ایک برتن تھامے آیا اور اس برتن کو امامؑ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ آپؑ کی خدمت میں بطور ہدیہ لے کر آیا ہوں۔ امام علیؑ نے اس واقعہ کو خود بیان کیا ہے جسے نہج البلاغہ میں سید رضی نے امامؑ ہی کی زبانی نقل کیا ہے کہ امام علیؑ فرماتے ہیں:وَأَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ طَارِقٌ طَرَقَنَا بِمَلْفُوفَةٍ فِي وِعَائِهَا وَ مَعْجُونَةٍ شَنِئْتُهَا كَأَنَّمَا عُجِنَتْ بِرِيقِ حَيَّةٍ أَوْ قَيْئِهَا فَقُلْتُ أَ صِلَةٌ أَمْ زَكَاةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَذَلِكَ مُحَرَّمٌ‌ عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا ذَا وَ لَا ذَاكَ وَ لَكِنَّهَا هَدِيَّةٌ فَقُلْتُ هَبِلَتْكَ الْهَبُولُ‌ أَ عَنْ دِينِ اللَّهِ أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي أَ مُخْتَبِطٌ أَنْتَ أَمْ ذُو جِنَّةٍ أَمْ تَهْجُرُ وَ اللَّهِ لَوْ أُعْطِيتُ الْأَقَالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلَاكِهَا عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللَّهَ فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُهَا جُلْبَ‌ شَعِيرَةٍ مَا فَعَلْتُهُ وَ إِنَّ دُنْيَاكُمْ عِنْدِي لَأَهْوَنُ مِنْ وَرَقَةٍ فِي فَمِ جَرَادَةٍ تَقْضَمُهَا مَا لِعَلِيٍّ وَ لِنَعِيمٍ يَفْنَى وَ لَذَّةٍ لَا تَبْقَى نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُبَاتِ‌ الْعَقْلِ وَ قُبْحِ الزَّلَلِ وَ بِهِ نَسْتَعِين‌۔؛ اس سے عجیب تر واقع يہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت (شہد میں) گندھا ہوا حلوہ ایک سربلند برتن میں لیے ہوۓ ہمارے گھر پر آیا جس سے مجھے ایسی نفرت تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ سانپ کی تھوک یا اس کی قے میں گوندھا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ: کیا يہ کسی بات کا انعام ہے؟ زکات ہے یا صدقہ ہے کہ جو ہم اہل بیتؑ پر حرام ہے؟ تو اس نے کہا کہ: نہ يہ ہے اور نہ وہ ہے، بلکہ يہ تحفہ ہے۔ تو میں نے کہا کہ: مردہ عورتیں تجھ پر روئیں، کیا تو دین کی راہ سے مجھے فریب دینے کے لیے آیا ہے؟ کیا تو بہک گیا ہے، یا پاگل ہو گیا ہے یا يونہی ہذیان بک رہا ہے؟ خدا کی قسم! اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ہیں مجھے دے دیئے جائیں، صرف اللہ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جَو کا ایک چھلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا نہ کروں گا۔ يہ دینا تو میرے نزدیک اس پتی سے بھی زیادہ بے قدر ہے جو ٹڈی کے منہ میں ہو کہ جسے وہ چبا رہی ہو۔ علیؑ کو فنا ہونے والی نعمتوں اور مٹ جانے والی لذتوں سے کیا واسطہ؟ ہم عقل کے خوابِ غفلت میں پڑ جانے اور لغزشوں کی برائیوں سے اللہ کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسی سے مدد کے خواستگار ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. تاریخ پیامبر اسلام ﷺ، ص۵۶۴۔
۲. سید رضی، نہج البلاغۃ، ص ۷، مکتوب:۵۔    
۳. سید رضی، نہج البلاغہ، ص ۲۴۵، خطبہ:۲۲۴۔    


مأخذ

[ترمیم]

بیت المال و حقوق آن، عبدالحسین، بینش، ص۵۵-۵۶۔    






جعبه ابزار