دین اور سیاست کا باہمی تعلق

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ عالم اسلام میں بادشاہی سلسلہِ حکومت اور استعمار کے انحرافی افکار کی ترویج نے دین کو سیاست سے جدا کر کے پیش کیا تاکہ استعمار اسلامی ممالک پر اپنا تسلط جما سکے اور ان ممالک پر حکمرانی کر سکے۔


مقدمہ

[ترمیم]

مکتب اسلام معتقد ہے کہ دین حقیقی اور سیاست کا آپس میں نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے۔ سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے اور اس کی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کر دیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہو۔ سیاست کا دین کے بغیر تصور استعماری سازشوں میں سے ایک سازش ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے مفادات کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ الہی آئین اور اس کے اجتماعی قوانین ہیں۔ لہذا استعمار کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ سیاست کو دین سے جدا رکھے تاکہ اپنے مقاصد و عزائم حاصل کر سکے۔

دین مسیحیت کے ساتھ انہوں نے ایسا ہی کیا اور عیسائیت میں موجود الہی آئین کو ایک گوشے میں قید کر دیا۔ اہل کلیسا اور مذہب عیسائیت میں دین دار طبقہ معاشرتی اور سیاسی مسائل سے کٹ کر گوشہ نشین ہو کر زندگی بسر کرتے جس کی وجہ سے معاشرہ رہبانیت کے مرض سے دوچار ہو گیا۔ استعمار کا عیسائیت پر کامیاب تجربہ باعث بنا کہ اس نے دین اور سیاست میں جدائی کا طریقہ کار دیگر مذاہب اور مکاتب فکر میں بھی رائج کرنا شروع کر دیا۔ استعمار نے ان دونوں میں جدائی کا اس قدر پرچار کیا کہ اس کو قانون بنا دیا تاکہ معاشرے اس قانون کی زد میں آ کر اس تفکر کے حامل بن جائین۔ اس وقت غربی معاشرہ اور اس میں رہنے والے لوگ اس بات پر کامل ایمان لا چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ روشن فکر طبقہ جو غرب کی اندھی تقلید کرتا ہے نے اس انحرافی فکر کو قبول کر کے سیاست مداری کی کوششیں شروع کر دیں اور سیاست کو صرف مفادات کے حصول کا ذریعہ قرار دیا جبکہ دین کو ہر انسان کا ذاتی انفرادی عمل قرار دے دیا گیا۔

← انقلابِ اسلامی ایک نعمتِ عظمی


سرزمین ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی نے استعمار کی نیندیں اڑا دیں اور اس انحرافی سوچ و فکر کے مقابلے میں مکتب اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پیش کیا۔ اگرچے غربی فکر کا جال اس قدر پھیل چکا تھا کہ مکتب اسلام خصوصا مکتب تشیع میں عمومی سوچ اور اسلامی ممالک میں بسنے والا لبرل اور قوم پرست طبقہ دین اور سیاست میں کامل جدائی کی فکر کا حامل تھا۔ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک میں نہ دینی طبقہ سیاست کے متعلق کوئی بات کرتا اور حکومت کے ظالمانہ اور شیطانی اعمال پر آواز بلند کرتا اور نہ لبرل طبقہ مفادات کے حصول کے لیے غیر اسلامی اور غیر انسانی طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے کسی قسم کی قباحت محسوس کرتا۔ ایسے میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی نے ان شیطانی اور انحرافی افکار کے مقابلے میں مکتب اسلامی کی حقیقی ترجمانی کرنے والا نظریہِ حکومت پیش کیا جسے ولایت فقیہ سے جانا جاتا ہے۔

← نظریہ ولایت فقیہ کے اثرات


نظریہ ولایت فقیہ کی اساس و بنیاد عقلی دلیلوں کے علاوہ قرآن کریم، احادیث و سیرتِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) و آئمہ معصومین (علیہم السلام) ہے۔ ولایت فقیہ نے الہی حکومت کا تصور پیش کیا جس کے پیش نظر معاشروں میں عدل و انصاف قائم کرنا اور ظلم و جور کا خاتمہ ہے۔ ولایت فقیہ کا نظریہ عالم اسلام بالخصوص مکتب تشیع میں دین اور سیاست میں جدائی کے انحرافی نظریہ کے توڑ کا سبب بنا اور آہستہ آہستہ عوام الناس دین اور سیاست کے باہمی تعلق کے قائل ہوتے چلے گا جس کا اثر حکومتِ اسلامی کی تشکیل کی صورت میں برآمد ہوا۔ فرزندانِ اسلام نے اپنی انتھک محنت و کوشش کے ذریعے دین اسلام کے اس منطقی اور عقلی نظریہ کی بھر پور نشر و اشاعت کی اور اسلام کی جامعیت کو آشکار کرتے ہوئے معاشرتی و سیاسی مسائل میں دین اسلام کو راہ حل کے طور پر متعارف کروایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استعمار نے جس طرح مسیحیت کے دین اور آئین میں تبدیلی کر کے سیاست کو دین سے جدا کر دیا تھا وہ دین اسلام کے ساتھ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

دین کی سیاست سے جدائی کے اسباب

[ترمیم]

اگر تحقیقی تناظر میں بات کی جائے تو معلوم ہو گا کہ مغربی ممالک میں دین اور سیاست کی جدائی کا نظریہ اور شعار قانون بن کر کے رائج ہو چکا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ غربی معاشرے جن چند نظریات کو حتمی اور یقینی سمجھتے ہیں ان میں سے ایک دین اور سیاست میں کسی قسم کا ربط و تعلق نہ ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلامی حکومت اور اسلامی طرزِ تفکر پر تعجب کرتے ہیں اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ و پریشان حال نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اسلامی حکومت کا مطلب دین اور سیاست کا مضبوط تعلق اور نہ ٹوٹںے والا ربط ہے۔ذیل میں اس انحرافی فکر کی ایجاد کے دو اہم عوامل پر سرسری نگاہ کرتے ہیں:
۱۔ پہلا سبب: اہل کلیسا کا ظلم و ستم
۲۔ دوسرا سبب: عیسائیت میں تحریفات

← اہل کلیسا کا ظلم و ستم


دین کی سیاست سے جدائی کا اصل سبب اور بنیادی عامل قرون وسطی میں منظر عام پر آنے والی اہل کلیسا کی ظالمانہ و جاہلانہ طرزِ حکومت ہے۔ قرون وسطی میں اربابِ کلیسا تمام سیاسی و اجتماعی اداروں پر حاکم تھے اور انہوں نے لوگوں کو اپنے تسلط میں لیا ہوا تھا۔ ان کے پاپ اور پادری مذہبی تشخص رکھنے کی وجہ سے غیر معمولی قدر و منزلت کے حامل شمار ہوتے جس کی وجہ سے وہ ان یورپین ممالک پر حکومت کیا کرتے تھے۔ کلیسا کے دوش پر بننے والی یہ حکومتیں ظلم و استبداد سے آلودہ تھییں۔ حتی علمی و سائنسی تحقیقات میں بھی بے جا مداخلت کر کے علمی رشد و ارتقاء کو کچلنے کا باعث بنیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کے تحریفاتی دین کی تعلیمات کا ان علمی تحقیقات کے مخالف ہونا تھا۔ ظلم و ستم کی انتہاء اس قدر تھی کہ اپنی تعلیمات سے ٹکراؤ رکھنے والے بعض محققین کو یا تو زندہ جلا دیتے یازندان میں ڈال دیتے۔
کلیسا اور پادریوں کی اس ظلم و بربریت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام، پڑھے لکھے طبقے اور سائنسی علوم کے ماہرین و محققین نے کلیسا اور پادریوں کے خلاف تحریک چلانا شروع کردی اور دین و سیاست کی جدائی کا نعرہ لگایا۔ احتجاج کرنے والوں کا ایک مطالبہ ظلم و استبداد کی روک تھام تھی اور دوسرا مطالبہ اہل کلیسا کی جہالت کی وجہ سے علمی تحقیقات کی بے جا مخالفت کی نفی تھی۔ آہستہ آہستہ عوامی احتجاج ایک تحریک میں بدل گئے اور اس طرح عوامی حلقے کلیسا اور چرچ پر غالب آ گئے۔ اس تحریک کی وجہ سے جہاں کلیسا کے ظلم و ستم سے معاشروں کو نجات ملی وہاں نت نئے نظریات ابھرنے لگے جن میں سے ایک دین کو چرچ کی چار دیواری میں بند کر دیا گیا اور کلیسا کے حاکم طبقے کا میدان سیاست اور اجتماعی امور میں حصہ لینا ممنوع قرار دے دیا۔ صرف ایک شہر جہاں آج بھی حاکم کلیسا اور پادری ہے اٹلی کا شہر ویٹیکن ہے جس کا کل رقبہ ایک چھوٹے دیہات کے برابر ہے۔

← دین مسیحی میں تحریفات کا ہونا


مغربی معاشرے میں رائج نظریات اور آئین حقیقت میں دین مسیحی سے متاثر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دین مسیحی میں کثیر مقدار میں تحریفات کی گئیں۔ گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں بڑی مقدار میں ردّ و بدل کر دیا گیا۔ انہی تحریفات میں سے ایک تحریف دین اور سیاست میں جدائی کرنا اور اس کے نتیجے میں دین کو ہر شخص کا ذاتی اور انفرادی مسئلہ قرار دینا ہے اور اس کو معاشرے میں لاگو کر دینا ہے۔ ان تحریفات کی وجہ سے یہ فکر ایجاد ہوئی کہ اجتماعی اور سیاسی مسائل کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دین کی زیادہ سے زیادہ حدود انسان اور اس کے خالق کے درمیان ایک نوعِ ربط ہے۔ اس کے علاوہ دینی امور کا کسی معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسیحی معاشروں میں دیندار اور غیر دیندار شخص کے درمیان بس یہی فرق ہے کہ دیندار شخص محدود اخلاقی اقدار کا پابند ہوتا ہے اور ہفتے میں ایک آدھ دن کلیسا میں عبادت و مناجات کے لیے چلا جاتا ہے۔ جبکہ غیر دیندار کسی حدود و قیود کا اپنے آب کو پابند نہیں سمجھتا اور اخلاقی مسائل اور اقدار اس کی نظر میں فرسودہ چیزیں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں۔ بعض ایسے افراد بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو دین کی بجائے انسانی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں اور انسانیت کی بناء پر کچھ اخلاقیات کی پابندی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں دینی عبادات کا رجحان نظر نہیں آتا اور وہ مذہب و دین سے جدا زندگی بسر کرتے ہیں۔

دین و سیاست میں جدائی اور اسلامی معاشروں

[ترمیم]

دین کی سیاست سے جدائی کا انحرافی نظریہ اسلامی معاشروں میں بالخصوص دو طبقات کے ساتھ سرایت کرنے لگا:
۱۔ ایک وہ طبقہ ہے جو اعلی تعلیم کے نام پر غربی معاشروں میں منتقل ہوئے اور اس معاشرے کے اثرات کا گہرا اثر لے کر اپنے معاشروں میں واپس لوٹے اور روشن فکری و تعلیم کے نام پر ان انحرافی نظریات کی آبیاری کی۔
۲۔ دوسرا طبقہ تاجر طبقہ ہے جو غربی ممالک سے تجارتی امور روا رکھنے کی وجہ سے ان انحرافی نظریات کا شکار ہوا۔
کسی معاشرے میں بالعموم یہی دو طبقے روشن فکری کے نام پر انحرافی نظریات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلامی ممالک میں اس سوچ کے حامل افراد نے دین اور سیاست میں جدائی کی آواز اٹھانا شروع کر دی اور غربی معاشرے کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے مسیحیت کی مثال دے کر دین اسلام کو بھی ذاتی امور میں محدود کرنے کا تقاضا کیا۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ دین مسیحیت کلیسا کے ظلم و ستم و جہالت اور اس کا تحریفات و انحرافات کا شکار ہونے کی وجہ سے اس منحرف نظریہ کا شکار ہوا۔ جبکہ دین اسلام ایک کامل جامع اور انفرادی اجتماعی زندگی کی وسیع تعلیمات رکھنے والا الہی مکتب ہے۔ دین اسلام اور مسیحیت کے مابین اس اعتبار سے کسی قسم کا مقایسہ نہیں کیا جا سکتا۔
قابل افسوس بات ہے کہ بعض اسلامی ممالک جیسے ترکی نے اس استعماری پروپیگنڈے اور غربی معاشرے کی منفی تاثیر کا شکار ہو کر دین کی سیاست سے جدائی کو دل و جان سے قبول کر لیا۔ اگر یہ غربی آفت زدہ لوگ شعور سے کام لیتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ سب مغربی ممالک نے اپنے غیر قانونی مفادات کے حصول اور اپنی قدرت و سلطنت کو مسلط کرنے کے لیے کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک میں سیکولر حکومتیں تشکیل پانے لگیں۔ یہ سب اس وقت ہوا جب ایک طرف عالم اسلام میں ان نظریات کے خلاف مبارزہ اور شدید کشمکش جاری تھی اور دوسری طرف بعض اسلامی غرب زدہ ممالک ان انحرافی افکار کو اپنے معاشروں میں عملی جامہ پہنانے کی سعی و کوشش میں مشغول تھے۔
جب سر زمین ایران میں انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور کرہِ ارض پر کئی صدیوں کے پعد حقیقی معنی میں پہلی حکومت اسلامی تشکیل پائی تو تمام مغربی ممالک انگشت بدندان رہ گئے اور حیرت و سرگرداں سوچتے تھے کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مذہب کسی معاشرے کی قیادت اور رہبری کر سکے؟!! آخر ایک مذہب ایک ملک کی حکومت کو کیسے چلا سکتا ہے؟!! جب انہوں نے دیکھا کہ یہ مذہبی و اسلامی حکومت بہت مستحکم اور ثابت قدم ہے تو انہوں نے اس دینی اسلامی حکومت کو محدود کرنے اور اس کے نظریہ کو نشر ہونے سے روکنے کے لیے بھر مخالفت شروع کر دی۔ استعماری قوتیں اس مخالفت میں جو حربہ اور سازش اختیار کر سکتے تھے وہ انہوں نے کیے۔
لیکن نصرتِ الہی اہل حق کو شامل حال ہوئی اور امام خمینی (قدس‌ سره) کی ہوشمندانہ قیادت اور ان کے حقیقی پیرو کی انتھک قربانیوں سے تمام استعماری ہتھکنڈے ناکام و نامراد ہوئے۔ الحمد للہ آج اسلامی حکومت کا نظریہ متعدد ایشیائی اور افریقی ممالک میں ایک تفکر بن کر زندہ ہے اور مستضعفین و مظلومین کی نجات کے طور پر امیدوں کا مرکز ہے۔ اگرچہ مغربی ممالک اور غرب زدہ طبقات اسلامی نظریہ حکومت کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور طرح طرح کے پروپیگنڈہ و جھوٹ تہمت کی قضاء قائم کر کے دنیا بھر میں اس کی تاثیر کو کم کرنا چاہتے ہیں لیکن استعمار اپنی ان کاوشوں میں ابھی تک کاملا کامیاب نہیں ہو سکا۔

← استعمار کا اثر و رسوخ


مغربی استعمار نے برطانوی استعمار کے ساتھ مل کر تین ممالک ایران ، ترکی اور افغانستان میں غربی ثفافت اور دین و سیاست کی جدائی کے نظریے کو پھیلانے کے لئے بڑے پیمانے پر تمام وسائل کے ساتھ ایک جال بچھایا اور ان ممالک میں اپنے مامور مقرر کئے:
۱۔ ایران میں رضا خان
۲۔ ترکی میں کمال اتاترک
۳۔ افغانستان میں امان‌ الله خان
ان تین افراد نے استعماری پشت پناہی سے اسلام اور اسلامی افکار و نظریات کو شدید نقصان پہنچایا۔ کمال اتاترک ترکی میں لادین حکومت کا بانی قرار پایا اور اس کی نافذ کردہ لا دینیت کی تاریکی میں آح بھی ترکی ڈوبا ہوا ہے۔ امان اللہ خان کو افغانستان میں لا دینی حکومت کا بانی قرار دیا گیا اور اس نے حکومت کی تشکیل کے ذریعے افغانستان کی سرزمین پر اسلام کا نام و نشان مٹانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن اس کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی اور مسلمانوں نے مسلسل مقاومت کر کے اس کی حکومت کو گرا دیا۔ ایران میں یہی کام رضا خان کے ذریعے انجام دیا گیا جس نے اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کر کے ایران میں غیر اسلامی قوانین اور طور طریقے رائج کیے۔ رضا خان نے اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد مرکز تشیع ایران میں ۱۷ دی سال ۱۳۱۴ ق کو حجاب پر قانونی طور پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
[۲] آل‌ احمد، جلال، جامعہ شناسی غربزدگی، ص ۶۹-۸۴۔

رضا خان کے بعد اس کا بیٹا محمد رضا پہلوی آیا۔ اسلام دشمنی اور غربی استعماری آقاؤں کی خوشنودی کے لیے اس نے کئی نئے اقدامات کیے اور اسلامی تعلیمات کا مقابلہ کرنے کے لئے مختلف منصوبے اور حربے جنم دیئے۔ اس دوران علماء کرام کی خاص تعداد نے مبارزہ آرائی شروع کر دی اور اسلام مخالف قوتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ رضا خان نے مد مقابل مخالفین کو برے طریقے سے کچلا اور ظلم و تشدد کی داستان رقم کرتے ہوئے اس سرزمین کو خاک و خون میں ڈبو دیا۔ اسی اثناء میں امام خمینی کی قیادت سامنے آئی جن کا بھر پور ساتھ عوام الناس نے دیا یہاں تک کہ رضا خان نے اسلامی بنیادوں پر ہونے والے عوامی قیام اور انقلاب کے سامنے گھٹنے ٹیکے دیئے اور ملک سے فرار اختیار کیا۔ رضا خان کے فرار کے بعد یہاں حکومت اسلامی تشکیل پا گئی اور اس طرح ایران کی سرزمین ترکی اور افغانستان کی نسبت ایک محکم حکومتی نظام اور بھر پور قیادت سے ہمکنار ہوئی جس کی وجہ سے استعماری قوتوں کے ساتھ ابھی بھی جنگ جاری ہے۔ آج بھی اس مبارزہ آرائی میں مغرب زدہ افراد دین اور سیاست کی جدائی کا نعرہ لگا کر حکومتِ اسلامی اور ولایت فقیہ کو سبکدوش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے ان شیطانی عزائم کے سامنے با بصیرت مخلص طبقہ بھر پور قوت کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور دن بدن قوی سے قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔
ان مقدماتی نکات کے بعد اب دینی نصوص اور دیگر جہات سے جائزہ لیتے ہیں کہ دین کا سیاست سے کس قدر گہرا تعلق ہے:

سیاست کے لغوی معنی

[ترمیم]

لغت کے مطابق لفظِ سیاست سَاس یا سُوس سے لیا گیا ہے۔ اس کے اصلی حروف سین، واؤ، سین (س، و، س) ہیں۔ اس کا لغوی معنی ممکت کی تدبیر کرنا، اس کی مدیریت کرنا، اور ایک ریاست میں عوام کے امور عامہ کی اصلاح کرنا ہے۔ کسی ملک کے قوانین و ضوابط کے ذریعے منظم باگ ڈور سنبھالنے کو سیاست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ معروف لغوی طریحی اپنی کتاب مجمع البحرین میں لکھتے ہیں:
السیاسة القیام علی الشیء بما یصلحه؛ کسی شیء کی اصلاح کرتے ہوئے جو اقدام کیا جائے اس کو سیاست کہا جاتا ہے۔
اس کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ آئمہ معصومین (علیہم‌ السّلام) کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے: «انتم ساسة العباد»؛ آپ بندگانِ الہی کے سیاستدان ہیں۔
نیز آئمہ (علیہم السلام) کی شان میں وارد ہوا ہے:
الامام عارف بالسیاسة؛ امام سیاست سے کامل طور پر آشنا ہوتا ہے۔
ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالی کی جانب سے دین اور ملت کے تمام (اجتماعی و سیاسی) امور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو سپرد کیے گیے۔
لیسوس عبادہ، تاکہ آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ) اس کے بندوں کی سیاست کریں (اور اس کے ذریعے ان کی تربیت و اصلاح فرمائیں)۔
ایک اور روایت میں آیا ہے: بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) بنی‌ اسرائیل کی سیاست انجام دیتے تھے۔ یعنی ایک قوم کے تمام امور جس طرح اس قوم کے سیاستمداروں اور رؤساء کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالی کی جانب سے بنی اسرائیل کے تمام سیاسی و اجتماعی امور انبیاء علیہم السلام کے سپرد کیے گئے جنہیں وہ اپنا وظیفہ سمجھتے ہوئے انجام دیتے اور زندگی کے تمام شعبوں اور اداروں کی اصلاح و تدبیر کیا کرتے تھے۔
فرہنگ عمید میں اس طرح سے وارد ہوا ہے:
سیاست سے مراد مخلوقات کے امور کی اصلاح کرنا ہے، ان کی مملکت کے امور کی دیکھ بھال، رعیت کا خیال رکھنا، عوام الناس کی مشکلات کو حل کرنا سیاست کہلاتا ہے۔ سیاستدان وہ شخص ہوتا ہے کہ جو سیاسی اور مملکت کے امور کی دیکھ بھال کرے اور با بصیرت، سمجھ دار اور تجربہ کار ہو۔
[۵] عمید، حسن، فرہنگ عمید، کلمہ سیاست۔

تمام دانشوروں کے کلام اور اقوال کو مدنظر رکھا جائے اور نچوڑ نکالا جائے تو ایک بابصیرت، آگاہ اور عادل سیاست دان کی درج ذیل خصوصیات ہمارے سامنے آتی ہیں:
۱۔ مدیریت کی صلاحیت، یعنی عوام اور ملک کی مدیریت کرنا جانتا ہو؛
۲۔ آگاہ و بابصیرت ہو، داخلی و خارجی طور پر ملک کے تمام مسائل سے آشنائی رکھتا ہو؛
۳۔ دشمن شناس ہو، تاکہ اپنی حدود اور اندرونی اٹھنے والی سازشوں سے مملکت کی حفاظت کا اہتمام کر سکے؛
۴۔ ترقی اور جدید تقاضوں سے کاملًا آگاہ ہو، تاکہ ملک میں ترقی کو فروغ دے کر عوام الناس کی راحت کا سامان پیدا کر سکے؛
۵۔ دور اندیش ہو، تاکہ دشمن کی جانب سے پہنچنے والے ضرر یا سدباب کر سکے اور ملک کو پیش آنے والے بحرانوں میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کرے؛

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، ج۱۰، ص۴۵۔    
۲. آل‌ احمد، جلال، جامعہ شناسی غربزدگی، ص ۶۹-۸۴۔
۳. فیومی، احمد بن محمد بن علی،المصباح المنیر، ج۱، ص ۱۵۴۔    
۴. طریحی، فخر الدین، مجمع البحرین، ج۴، ص۷۸، مادہ:سوس۔    
۵. عمید، حسن، فرہنگ عمید، کلمہ سیاست۔


ماخذ

[ترمیم]
سائٹ اندیشہ قم، ماخوذ از مقالہ ارتباط دین و سیاست، تاریخ لنک ۱۳۹۵/۰۷/۳۔    






جعبه ابزار