اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



اسماعیل عبد الله بن جعفر کے فرزند ہیں۔


اسماعیل بن عبد الله کے بارے میں مختلف نظریات

[ترمیم]

آپ اسماعیل بن عبدالله بن جعفر بن ابی‌ طالب المعروف زاہد،
[۱] ابن عنبه، عمدة الطالب، ص۳۸۔
ثقہ تابعین اور راوی ہیں۔
شیخ طوسیؒ آپ کو امام صادقؑ کے اصحاب میں سے قرار دیتے ہیں۔
بعض نے آپ کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا ہے اور زینب ‌کبریٰ کو آپ کی والدہ قرار دیا ہے۔
[۴] امینی، محمدهادی، ياران پايدار امام حسين عليه‌السلام، ص۳۱۔

تاہم تاریخ کے معتبر مصادر میں اس بارے میں کچھ نقل نہیں ہوا ہے۔
ابن عنبہ، نے واقعہ کربلا کا ذکر کیے بغیر انہیں بنو امیہ کے ہاتھوں قتل ہونے والا قرار دیا ہے۔
[۵] ابن عنبه، عمدة الطالب، ص۳۸۔

مامقانی نے تنقیح میں اس بات پر اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا ہے: اسماعیل بن عبد الله کو محمد بن عبد الله بن حسن مثنی، کی بیعت سے انکار پر اس کے بھتیجوں نے نوے سال کے سن میں قتل کیا اور اس زمانے سے پہلے بنو امیہ کے زوال کو دیکھتے ہوئے ان کا بنو امیہ کے ہاتھوں قتل کی بات درست نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں: میری گمان کے مطابق کلمہ «بنی‌اخیه» کی «بنی‌ امیہ» سے تصحیف کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے۔
دوسری طرف عبد الله بن جعفر ( حضرت زینبؑ کے شوہر) کے محمد و عون نامی دو فرزند کربلا میں شہید ہوئے اور ابو الفرج کے بقول صرف عون حضرت زینبؑ کے بیٹے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. ابن عنبه، عمدة الطالب، ص۳۸۔
۲. عسقلانی، ابن حجر، تقریب التهذیب، ج۱، ص۱۰۸۔    
۳. طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، ص۱۲۴۔    
۴. امینی، محمدهادی، ياران پايدار امام حسين عليه‌السلام، ص۳۱۔
۵. ابن عنبه، عمدة الطالب، ص۳۸۔
۶. مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال، ج۱۰، ص۲۰۷۔    
۷. اصفهانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص۹۱۔    


ماخذ

[ترمیم]

جمعی از نویسندگان، پژوهشی پیرامون شہدائے کربلا، ص۹۷۔    






جعبه ابزار