حضرت عبد المطلب کی نذر کا واقعہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



رسول خداؐ کے اجداد سے متعلق تاریخی اور حدیثی منابع میں جو واقعات نقل ہوئے ہیں، ان میں سے ایک عبد المطلب کی نذر اور عبد اللہ کے ذبح کی داستان اور حدیث انا ابن الذبیحین ہے۔ پہلے ذبیح سے مقصود حضرت اسماعیلؑ ہیں اور دوسرے «ذبیح» سے مقصود رسول خداؐ کے والد «عبدالله» ہیں۔ حدیث انا ابن الذبیحین، شیعہ و اہل سنت محدثین اور مفسرین کی متعدد کتب میں رسول خداؐ سے منقول ہے۔
عبد اللہ کے ذبح کی داستان کو بھی بہت سے محدثین، تاریخ نگاروں اور سیرت نویسوں نے تھوڑے بہت اختلاف کیساتھ اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔


عبد الله کے ذبح کی داستان

[ترمیم]

تاریخی اور حدیثی منابع کے مطابق حمزہ اور عباس کی ولادت کے بعد عبد المطلب کے بیٹوں کی تعداد دس تک پہنچ گئی۔ عبد المطلب نے نذر کیلئے بیٹوں میں قرعہ ڈالا اور قرعہ عبد اللہ کے نام نکلا۔ عبد المطلب نے عبد اللہ کو قربان گاہ پر لاکھڑا کیا تاکہ انہیں راہ خدا میں قربان کر کے اپنی نذر کو پورا کریں۔ اہل مکہ، قریش اور عبد المطلب کے دوسرے بیٹے اور عبد اللہ کے ماموں سامنے آئے اور انہوں نے چاہا کہ کسی طرح عبد المطلب کو روکا جائے۔ آخرکار طولانی گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ عبد المطلب کے اونٹوں اور عبد اللہ کے مابین قرعہ ڈالا جائے اور اگر قرعہ اونٹوں کے ناموں پر نکل آئے تو عبد اللہ کی بجائے اونٹوں کو قربانی کر دیں اور اگر پھر بھی عبد اللہ کے نام پر نکلے تو اونٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور دوبارہ قرعہ اندازی کی جائے اور اسی عمل کو دہرایا جائے یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام کا نکل آئے۔ جب اونٹوں کی تعداد سو پر پہنچی تو قرعہ اونٹوں کے نام پر نکل آیا۔ اس پر مکہ کے مردوں اور عورتوں کا خوشی سے شور و غل بلند ہوا مگر عبد المطلب نے قبول نہیں کیا اور دوبارہ دو مرتبہ قرعہ ڈالا لیکن جب مسلسل دو بار قرعہ اونٹوں کے نام پر نکلا تو عبد المطلب نے یقین کر لیا کہ خدا اس فدیہ پر راضی ہے اور انہوں نے عبد اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر حکم دیا کہ اونٹوں کو قربانی کر کے ان کا گوشت اہل مکہ میں تقسیم کر دیا جائے۔
شیخ صدوقؒ نے یہ داستان کتاب عیون اور خصال میں امام صادقؑ سے تفصیل کیساتھ روایت کی ہے اور یہ بطور مختصر کتاب من لا یحضره الفقیہ میں امام باقرؑ سے ’’باب احکام قرعہ‘‘ میں مروی ہے۔

تنقیدی جائزہ

[ترمیم]

حضرت عبد المطلب کی نذر اور عبد اللہ یعنی پیغمبر اکرمؐ کے والد بزرگوار کی قربانی کے واقعے کی بابت اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض اہل نظر اس داستان کو ایک مسلمہ واقعے کے طور پر حضرت عبد المطلب کی عظمت اور پختہ عزم کی علامت قرار دیتے ہیں کہ یہ مرد کس حد تک اپنے عہد و پیمان کا پابند تھا۔
[۱۴] سبحانی تبریزی، جعفر، فروغ ابدیت، ج۱، ص۹۴۔
بزرگ شیعہ محدث مرحوم ابن شہر آشوب نے عبد المطلب کی نذر اور عبد اللہ کے ذبح کا ماجرا اسی پہلو سے مورد بحث قرار دیا ہے اور اسے سند ذکر کیے بغیر ایک مسلمہ داستان کے عنوان سے اسے اپنی کتاب مناقب آل ابی طالب میں نقل کیا ہے اور اسے عبد المطلب کے بارگاہ الہٰی میں تقرب اور ان کے ایمان کے کمال کی دلیل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بعض کا خیال ہے کہ اہل تشیع کے اس عقیدے کے باوجود کہ رسول اللہ کے تمام اجداد مومن تھے؛ یہ ماجرا عبد المطلب کو ان مشرکین کے گروہ سے قلمداد کرتا ہے جو اپنے خداؤں کیلئے اپنی اولاد کی قربانی پیش کرتے تھے یا اس کی نذر کرتے تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کے عمل کو قرآن کریم میں ایک قبیح اور شیطانی عمل قرار دیا ہے اور فرماتا ہے: وَ کَذلِکَ زَیَّنَ لِکَثیرٍ مِنَ الْمُشْرِکینَ قَتْلَ اَوْلادِهِمْ شُرَکاؤُهُمْ لِیُرْدُوهُمْ وَ لِیَلْبِسُوا عَلَیْهِمْ دینَهُمْ وَ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَ ما یَفْتَرُون اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کو مار ڈالنا (ان کی نگاہ میں) خوش نما کر دکھایا ہے تاکہ وہ انہیں برباد کر ڈالیں اور ان کے (بچے کھچے) دین کو (بھی) ان پر مشتبہ کر دیں، اور اگر اﷲ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے پس آپ انہیں اور جو افترا پردازی وہ کر رہے ہیں (اسے نظرانداز کرتے ہوئے) چھوڑ دیجئے۔ علی دوانی، عبد المطلب کے موحد ہونے پر اعتماد کرتے ہوئے اور یہ کہ اولاد کو قتل کرنے کی نذر بت پرستوں کی رسم تھی اور اسی طرح اس داستان کو نقل کرنے والے راویوں کے سلسلہ سند میں نامعلوم، مجہول اور ضعیف راوی موجود ہیں، اس داستان کو بنو امیہ کی وضع کردہ داستان قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں بنو امیہ اس طرح امیر المومنینؑ کے اجداد کی شان کو کم کر کے خود حضرتؑ کی منزلت کو گھٹانا چاہتے تھے۔
[۱۷] دوانی، علی، تاریخ اسلام از آغاز تاهجرت، ص۵۴۔
بہرحال زمخشری، فخر رازی اور نیشاپوری جیسے قدیم علمائے عامہ اور بہت سے دیگر اہل سنت مفسرین نے آیت وَ کَذَلِکَ زَینَ لِکَثِیرٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَکَاؤُهُمْ کی تفسیر میں اس داستان کو نقل کیا ہے اور اس کا مصداق عبد المطلب کو قرار دیا ہے تاکہ اس طرح پیغمبرؐ کے آباو اجداد کے شرک پر مبنی اپنے عقیدے کو ثابت کر سکیں اور شیعہ امامیہ کے صحیح عقیدے کو غلط قرار دے سکیں۔
اس بنا پر حضرت عبد المطلب کی نذر کی صحت، سقم اور کیفیت کے بارے میں حتمی رائے کا اظہار مشکل ہے؛ تاہم آیات، روایات اور علمائے شیعہ کے اجماع کی بنیاد پر یہ مسلم ہے کہ پیغمبرؐ کے تمام اجداد موحد اور مومن تھے اور ہرگز شرک اور بت پرستی کی آلودگی سے دوچار نہیں ہوئے تھے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. حاکم نیسابوری، محمد بن عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، ج۲، ص۶۰۹۔    
۲. حاکم نیسابوری، محمد بن عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، ج۲، ص۶۰۴۔    
۳. فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، ج۲۶، ص۳۴۷۔    
۴. زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج۴، ص۵۶۔    
۵. شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، ج۱، ص۵۶۔    
۶. قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر قمی، ج۲، ص۲۲۶۔    
۷. شیخ صدوق، محمد بن علی‌، عیون اخبار الرضاؑ، ج۲، ص۱۸۹۔    
۸. حویزی، عبدعلی بن جمعه، تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص۴۳۰۔    
۹. ابن هشام، عبدالملک بن هشام، السیره النبویه، ج۱ ص۱۵۱-۱۵۵۔    
۱۰. شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، ص۴۵۷۔    
۱۱. شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضاؑ، ج۲، ص۱۸۹۔    
۱۲. شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، ج۱، ص۵۶۔    
۱۳. شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیه، ج۳، ص۸۹۔    
۱۴. سبحانی تبریزی، جعفر، فروغ ابدیت، ج۱، ص۹۴۔
۱۵. ابن شهرآشوب، محمد بن علی‌، مناقب آل ابی‌طالبؑ، ج۱، ص۲۱۔    
۱۶. انعام/سوره۶، آیه۱۳۷۔    
۱۷. دوانی، علی، تاریخ اسلام از آغاز تاهجرت، ص۵۴۔
۱۸. انعام/سوره۶، آیه۱۳۷۔    


ماخذ

[ترمیم]







جعبه ابزار