روز قیامتپی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریںقیامت وہ دن ہے جب تمام مخلوقات کو اللہ تعالی کے حضور حساب کتاب کے لیے لایا جاۓ گا۔ نیک متقی مومن افراد کو صلہ کے طور پر جنت اور فاسق و فاجر اور کفار و مشرکین کو سزا کے طور پر جہنم میں ڈالا جاۓ گا۔ لفظ قیامت قرآن کریم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے۔ قیامت کے معنی[ترمیم]قیامت کا لفظ قرآن کریم میں ۷۰ (ستّر) مرتبہ وارد ہوا ہے۔ روزِ قیامت کو قیامت کا نام دینے کی وجہ لوگوں قیام کرا کر اور اٹھا کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کرنا ہے۔ اس اہم خصوصیت کی وجہ سے اس دن کو قیامت کہا جاتا ہے۔ [۱]
نثر طوبی، ج۲، ص۳۲۰۔
روز قیامت کیا ہوگا؟[ترمیم]قیامت وہ دن ہے جس دن تمام مُردوں کو اللہ تعالی کے حکم سے زندہ کیا جاۓ گا اور ان کو قبروں سے نکال کر محشر کے میدان میں جمع کیا جائے گا تاکہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو سزا یا جزا دی جاۓ۔ [۳]
نثر طوبی، ج۲، ص۳۲۰۔
روز قیامت کی وجہ تسمیہ[ترمیم]روز قیامت کو اس لیے قیامت کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن لوگوں کو اٹھایا جاۓ گا اور اللہ تعالی کے حضور پیش کیا جاۓ گا۔ لوگوں کے روز قیامت کے مختلف نام اور ان کی وجہ تسمیہ[ترمیم]قرآن کریم میں روز قیامت کو متعدد ناموں سے یاد کیا گیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں: ۱۔ یوم البعث: بعث کے متعدد معنی ہیں جن میں سے ایک معنی بھڑکانا یا برانگیختہ کرنا ہے۔ روز قیامت کو یوم البعث اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن مردوں کو قبروں سے اٹھایا جاۓ گا فرشتے ان کو برانگیختہ کیے ہوۓ میدان محشر میں لے جا رہے ہوں گے اور اس جہت سے کہ وہ جنت میں جائیں گے یا جہنم میں ان مراحل کو بعث کہا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: ۲۔ یوم التغابن: تغابن عربی زبان کا لفظ ہے جو ۳۔ یوم التلاق: روز قیامت کے قرآنی ناموں میں سے ایک نام یوم التلاق یعنی ملاقات کا دن ہے۔ مفسرین نے اس نام کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوۓ بیان کیا ہے کہ چونکہ اس دن تمام انسان فرشتوں کا سامنا کریں گے، اول سے آخر تک کے تمام انسان ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔ مومنین اپنے حقیقی پیشوا اور کفار اپنے جعلی اور گمراہ کرنے والے پیشواؤں سے ملیں گے اور اہل زمین اہل آسمان سے ملاقات کریں گے۔ اس لیے اس دن کو یوم التلاق کہا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد فرمانا ہے: ۴۔ یوم التناد: تناد سے مراد ندا دینا ہے۔ روز قیامت کو یوم التناد اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن جہنمی صدائیں اور فریادیں بلند کریں گے اور بہشتیوں کو پکاریں گے اور ان سے کھانے پینے کے لیے مانگیں گے۔ بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ روز قیامت کو یوم التناد اس لیے کہا گیا ہے کہ روز محشر لوگ ایک دوسرے سے مدد طلب کرنے کے لیے ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں گے۔ مومنین اپنا نامہ اعمال دیکھ کر خوشی سے چلا اٹھیں گے اور ایک دوسرے کو کہیں گے کہ دیکھو! میرا نامہ اعمال کیسا ہے۔ اسی طرح سے کافر اپنا نامہ عمل دیکھ کر خوف اور ڈر کے مارے چیخ اٹھیں گے اور فریاد کریں گے کہ کاش يہ نامہ عمل ان کو نہ دیا گیا ہوتا۔ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے: فلاسفہ کی نظر میں قیامت کی اقسام[ترمیم]اہل حکمت کے نظریہ کے مطابق قیامت کی دو اقسام ہیں: قیامت صغری اور قیامت کبری اس کی وضاحت میں حکماء نے بیان کیا ہے کہ مرنے کے بعد ہر انسان کے لیے دو عالم ہیں: ۱. ان میں سے پہلا عالم برزخ ہے جسے قیامت صغری کہا جا سکتا ہے جوکہ انسان کے مرتے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ۲. اس کے بعد دوسرا عالم قیامت کبری ہے جس کے واقع ہونے کا علم فقط اللہ تعالی کو ہے۔ قیامت کب آۓ گی؟[ترمیم]قرآن کریم کے مطابق قیامت کا وقت صرف اللہ تعالی کے علم میں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ذات نہیں جانتی کہ قیامت کب واقع ہو گی۔ ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: حوالہ جات[ترمیم]
مأخذ[ترمیم]کتاب فرہنگ شیعہ، جمعی از نویسندگان، ص۴۸۳۔ |