مسلم بن عوسجہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



مسلم بن عوسجہ اسدی رسول اللہؑ، امام علی، امام حسن و امام حسین علیہم السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔ آپ کا شمار امام حسینؑ کے ان اصحاب و یاران میں ہوتا ہے جو کربلا میں کمالِ فدا کاری و نصرت انجام دیتے ہوئے مرتبہِ شہادت پر فائز ہوئے۔


مسلم بن عوسجہ کا قبیلہ

[ترمیم]

آپ کا نام مسلم اور آپ کی کنیت ابو حجل وارد ہوئی ہے۔ آپ کا نسب اس طرح سے وارد ہوا ہے: مسلم بن عوسجۃ بن سعد بن ثعلبة بن دودان بن أسد بن خزيمة۔ مسلم بن عوسجہ یا تو بنی سعد سے تعلق رکھتے ہیں جیساکہ بعض محققین نے رقم کیا ہے یا قبیلہِ بنی اسد میں سے ہیں جیساکہ مختلف تاریخی کتب اور زیارت ناموں میں بنی اسد کی طرف آپ کی نسبت دی گئی ہے۔
[۳] دہخدا، لغت‌نامہ دہخدا، ج۲، ص۱۸۴۴۸۔


ولایت کے حامی

[ترمیم]

بعض محققین نے مسلم بن عوسجہ کو رسول اللہؑ کا صحابی قرار دیا ہے۔
[۶] نمازی شاہرودی، علی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ج۷، ص۴۱۴۔
[۷] مامقانی، عبد للہ، تنقیح المقال، ج۳، ص۲۱۴، رقم: ۱۱۷۸۱۔
اور امیرالمؤمنینؑ کے نزدیکی ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کو صدر اسلام میں عرب کے بزرگان میں شمار کیا جاتا تھا۔ آپ نے متعدد جنگوں میں حصہ لیا اور شحاعت و دلیری کے جوہر دکھائے۔ رحلتِ رسول اللہؐ کے بعد برپا ہونے والی جنگوں میں سے ایک جنگ آذربایجان ہے جس میں آپ نے شرکت کی اور آپ کی بہادری کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ امام علیؑ کی اطاعت و نصرت کرتے ہوئے آپ نے جنگ جمل، جنگ نہروان اور جنگ صفین میں شرکت کی اور امام علیؑ کے مخالفین سے جوانمردی کے ساتھ جنگ لڑی۔

امام حسنؑ کی امامت کے دوران مسلم بن عوسجہ کی اجتماعی و سیاسی فعالیت و تحرک تاریخ کے اوراق میں دکھائی نہیں دیتا لیکن شواہد اور قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ولایت و امامت کے شدید حامی اور ثابت قدم پیرو و مطیع تھے۔ تاریخ نے آپ کی زندگانی کے تفصیلی حالات رقم نہیں کیے لیکن اس کے باوجود ایسے قرائن ہمیں میسر ملتے ہیں جس سے مسلم بن عوسجہ کا ولایت و امامت کا شدید حامی و طرفدار ہونا ثابت ہوتا ہے۔

مسلم بن عوسجہ کی صفاتِ کمال

[ترمیم]

مسلم بن عوسجہ شجاع ترین جنگجو اور جرأت و جوانمردی کا عظیم نمونہ تھے۔ آپ کا شمار اپنے زمانے کے معروف عابدوں زاہدوں میں ہوتا ہے۔ عبادت و زہد نے آپ کو خانقاہوں میں مقید نہیں کیا اور نہ امامؑ کی جانب سے وجود میں آنے والی سیاسی فعالیت سے غافل رکھا۔ شجاعت و عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ قاری قرآن اور عالم و فاضل تھے۔ کوفہ کے معاشرے میں آپ ان اہل شرف میں شمار ہوتے تھے جو اپنی فدا کاری اور ایثار میں نمایاں تھے۔
[۱۵] مامقانی، عبد الله، تنقیج المقال، ج۳، ص۲۱۴۔
سفیر حسینؑ مسلم بن عقیل کی جب کوفہ آمد ہوئی اور ان کے استقبال کے جو حالات تاریخی کتب میں وارد ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم بن عوسجہ امت اسلامیہ کی سیاسی و اجتماعی مسائل سے بھر پور واقف تھے اور امامت کی جانب سے برپا ہونے والے سیاسی و اجتماعی تحرکات کا باقاعدہ حصہ تھے۔

کربلا میں مسلم بن عوسجہ کا کردار

[ترمیم]

تاریخ کربلا میں مسلم بن عوسجہ کے کردار کی تفصیل رقم نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کی وسیع معلومات کتب میں قلمبند ہوئیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو واقعات اور معلومات میسر آئی ہیں وہ کوفہ میں جناب مسلم بن عقیل کی بیعت سے متعلق ہیں یا کربلا میں ان کی شجاعت و شہادت کے مختصر حالات ہیں۔ انہی واقعات کے ضمن میں ہم مسلم بن عوسجہ کے شجاعانہ کردار کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

← امام حسینؑ کے سفیر کی حمایت


جناب مسلم بن عقیل جب کوفہ میں وارد ہوئے انہوں نے مختار ثقفی کے گھر میں پڑاؤ کیا اور ان کا بھر پور استقبال کرنے والوں میں جو شیعہ حضرات تھے ان میں نمایاں شخصیات عابس بن ابی شبیب شاکری، حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ تھیں۔ شیعہ جناب مسلم بن عقیل کے ہاتھوں پر بیعت کرنے كـ ليـ آنے جانے لگے اور اس طرح پوشیدہ طور پر امام حسینؑ کے لیے بیعت لینے کا سلسلہ زور پکڑتا چلا گیا۔ مسلم بن عوسجہ لوگوں کو امام حیسنؑ کی بیعت کرنے پر ابھارتے تھے۔ بیعت کی آمادگی فقط زبانی کلامی اقرار پر موقوف نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو خروج کے لیے آمادہ کيا جاتا اور اسلحہ کی جمع آور اور خرید و فروخت انجام پانے لگی۔ اس سلسلہ میں اسلحہ کی خریداری، لوگوں کی عسکری مدد اور جنگی رہنمائی کی ذمہ داری قبیلہ مَذۡحِج اور بنی اسد کے سپرد کی گئی۔

←← ابن زیاد کا جاسوس معقل


متعدد کتب تاریخ میں وارد ہوا ہے کہ عبید اللہ بن زیاد جب کوفہ میں آیا تو اس نے جناب مسلم بن عقیل کی فعالیتوں اور تحرکات پر نگاہ رکھنا شروع کر دی اور کوفہ میں سختی کے ساتھ ان کے اثرات کو دبانے کی کوشش کی۔ ابن زیاد (لعنۃ اللہ علیہ) اپنی مسلسل کوششوں کے باوجود بھی جناب مسلم بن عقیل کا سراغ نہیں لگا سکا۔ پھر اس نے ایک تدبیر سوچی اور جاسوسی کے لیے اپنے غلام مَعقَل کو بلایا اور اس کو تین ہزار درہم دے کر کہا کہ وہ لوگوں میں جائے اور خود کو جناب مسلم کا طرف و حامی ظاہر کرے اور ان کی نصرت کی خاطر یہ رقم دینے کی پیشکش کرے اور اس طرح جب وہ ان کے نزدیک ہو جائے تو ان کی تمام خبریں اس تک وہ پہنچاتا رہے۔ مَعقَل اسی غرض سے مسجد کوفہ چلا گیا کیونکہ مسجد میں شیعوں کی تعداد آتی جاتی رہتی تھی۔ وہ مسجد میں آ کر بیٹھا جاتا اور لوگوں کی حرکات سکنات کا جائزہ لیتا رہتا۔ ایک دن معقل نے دیکھا کہ وہ کچھ لوگ کسی شخص کو رہنمائی کر رہے تھے کہ اگر وہ امام حسینؑ کے لیے بیعت کرنا چاہتا ہے تو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلاں شخص یعنی مسلم بن عوسجہ سے رابطہ کرو۔ معقل نے جب دیکھا تو سیدھا ان کے پاس چلا گیا۔ مسلم بن عوسجہ نماز میں مصروف تھے چونکہ انتہائی عبادت گزار و متقی انسان تھے۔ معقل نے نماز ختم ہونے انتظار کیا اور نماز کے بعد آگے بڑھ کر گفتگو کا آغاز کر دیا اور کہنے لگا کہ میں شام کا رہنے والا ہوں اور رسول اللہؐ کے اہل بیتؑ سے انتہائی محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ مسلم بن عقیل کے ہاتھوں میں بیعت کروں۔ کچھ دیر دونوں کے درمیان گفتگو چلتی رہی۔ مسلم بن عوسجہ نے آخر میں اس سے کہا کہ وہ اس بات کو چھپائے اور مسلم بن عوسجہ سے رابطہ میں رہے۔ معقل مسلسل ان کے گھر میں آنے جانے لگا۔ کچھ دن گزرنے کے بعد مسلم بن عوسجہ نے جناب مسلم بن عقیل سے مشورہ کیا اور معقل کا تعارف کروایا۔ جناب مسلم بن عقیل نے ملاقات کی اجازت دے دی اور اس طرح معقل هانیء بن عروۃ کے گھر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ معقل نے ایک اعتماد کی فضاء اپنے لیے پیدا کر لی اور وہ سب سے پہلے مسلم بن عقیل کے پاس داخل ہوتا اور سب سے آخر میں اٹھ کر جاتا اور وقتًا فوقتا تمام خبرین ابن زیاد کو پہنچاتا رہتا۔

← کربلا کی طرف رخ


عبید اللہ بن زیاد (علیہ اللعنۃ) نے جب مسلم بن عقیل اور ہانئ بن عروۃ کو شہید کر دیا تو تمام شیعہ منتشر اور پوشیدہ ہو گئے۔ قبیلہ بنی اسد نے اس موقع پر زبردستی حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ کو چھپا دیا اور انہیں کچھ مدت نکلنے نہیں دیا۔ مسلم بن عوسجہ فرصت کے انتظار میں تھے کہ کسی طرح مہلت میسر آئے اور وہ کربلا پہنچ جائیں۔ چنانچہ وہ رات کے وقت اپنے خانوادہ کے ساتھ کوفہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ۷ یا ۸ محرم الحرام کو امام حسینؑ کے لشکر کے ساتھ ملحق ہو گئے۔

← شب عاشور وفا و فدا کاری کا اظہار


شب عاشور امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اپنے اصحاب سے بہترین اصحاب اور اپنے اہل بیت سے بہترین اہل بیت کسی کے نہیں دیکھے اور اس کے بعد انہیں رات کی تاریکی میں فرار کرنے کی تلقین اور یہ باور کروایا کہ دشمن فقط مجھ حسینؑ کا کو قتل کرنا چاہتا ہے اس لیے تم سب یہاں سے خاموشی کے ساتھ رات کی تاریکی میں نکل جاؤ۔ امام حسینؑ کے اس دستور پر ان کے اہل بیت اور اصحاب نے اپنی وفاداری اور فدا کاری کا یقین دلایا اور امام حسینؑ کے بغیر زندگی کے تصور کا انکار کیا۔ ایک ایک کر اصحاب کھڑے ہوتے جاتے اور امام حسینؑ سے محبت و وفا داری کا اظہار کرتے اور جانے سے انکار کرنے لگے۔ انہی میں مسلم بن عوسجہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: أَ نُخَلِّي‌ عَنْكَ‌ وَ لَمَّا نُعْذِرْ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ فِي أَدَاءِ حَقِّكَ أَمَا وَ اللَّهِ حَتَّى أَطْعَنَ فِي صُدُورِهِمْ بِرُمْحِي وَ أَضْرِبَهُمْ بِسَيْفِي مَا ثَبَتَ قَائِمُهُ فِي يَدِي وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَعِي سِلَاحٌ أُقَاتِلُهُمْ بِهِ لَقَذَفْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ وَ اللَّهِ لَا نُخَلِّيكَ حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنْ قَدْ حَفِظْنَا غَيْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ ص‌ فِيكَ وَ اللَّهِ لَوْ عَلِمْتُ أَنِّي أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُحْرَقُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُذْرَى يُفْعَلُ ذَلِكَ بِي سَبْعِينَ مَرَّةً مَا فَارَقْتُكَ حَتَّى أَلْقَى حِمَامِي دُونَكَ وَ كَيْفَ لَا أَفْعَلُ ذَلِكَ وَ إِنَّمَا هِيَ قَتْلَةٌ وَاحِدَةٌ ثُمَّ هِيَ الْكَرَامَةُ الَّتِي لَا انْقِضَاءَ لَهَا أَبَدا؛ اگر ہم آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں تو آپ کا حق اداء کرنے کے وظیفہ کے بارے میں اللہ کے سامنے یا عذر پیش کریں گے؟! قسم بخدا ! جب تک میں اپنے نیزے کو ان کے سینوں میں نہ گاڑ دوں اور اپنی تلوار سے ان وار نہ کر لوں، جب تک میرے ہاتھوں گرفت اس تلوار پر قائم ہے میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، اگر میرے پاس اسلحہ باقی نہ رہے تو بھی میں ان سے جنگ لڑتا رہوں گا اور پتھروں کے ساتھ ان پر حملہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ کی سرپرستی میں آپ کے ہمراہ موت سے ہمکنار ہو جاؤں۔ قسم بخدا! ہم آپ کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ جان لے کہ نے رسول اللہؑ کی غیبت میں آپ کی حفاظت کی ہے، قسم بخدا! اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا اور پھر زندہ کیا جاؤں گا اور پھر جلا دیا جاؤں گا اور پھر زندہ کیا جاؤں گا اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا جاؤں گا اور اس طرح میرے ساتھ ۷۰ مرتبہ کیا جائے تو بھی میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ آپ کے ہمراہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں، اور کیسے میں یہ نہ کروں جبکہ یہ ایک مرتبہ قتل ہونا ہے پھر یہ ایسی عزت و شرف و کرامت ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

← خیموں کا دفاع کرنا


عمر بن سعد نے شمر بن ذی الجوشن کے ماتحت لشکر بھیجے تاکہ وہ امام حسینؑ کے خیموں کو آگ لگا دیں۔ شمر نے پے در پے حملے کیے جسے امام حسینؑ اور ان کے انصار نے ناکام بنا دیا۔ امام حسینؑ نے دستور جاری کیا کہ اطراف کے خیموں کو آگ لگا دی جائے۔ جب انہیں آگ لگ گئی تو لشکرِ عمر بن سعد میں ایک نے اونچی آواز میں کہا: اے حسینؑ! تم نے قیامت کا دن آنے سے پہلے آگ کی طرف بڑھنے میں جلدی سے کام لیا ہے! امام حسینؑ نے فرمایا: یہ شخص کون ہے؟ شاید شمر بن ذی الجوشن ہے؟ اصحاب نے کہا: جی بالکل، وہی ہے۔ اس پر مسلم بن عوسجہ نے کہا: يا ابن رسول الله جعلت فداك ألا أرميه بسهم فانه قد أمكننى وليس يسقط سهم فالفاسق من أعظم الجبارين، فقال له الحسين لا ترمه فإنى أكره أن أبدأهم؛ اے فرزندِ رسول اللہؐ! میں آپ پر فدا کیا جاؤں، کیا میں اس کو تیر سے نشانہ نہ بناؤ؟ یہ میرے لیے ممکن ہے، میرا تیر ضائع نہیں جائے گا، (یہ فاسق ہے اور ) فاسق سب سے بڑا جابر انسان ہے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: اس پر تیر مت چلاؤ، مجھے پسند نہیں کہ میں جنگ میں پہل کروں۔

← روز عاشور مسلم کی جنگ


جب دونوں طرف کے لشکر آپس میں ٹکرانے لگے تو عمر بن سعد کی سپاہ کا ایک حصہ عمرو بن حجاج کی سرکردگی میں نہرِ فرات کی جانب آ گیا اور اس طرف امام حسینؑ کا جو لشکر موجود تھا اس پر حملہ آور ہوا۔ ابن جریر طبری نے تحریر کیا ہے کہ امام حسینؑ نے روز عاشور صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے لشکر کو ترتیب دیا اور میمنہ پر زہیر بن قین اور میسرہ پر حبیب بن مظاہر کو قرار دیا اور قلب میں جناب عباسؑ کو علم تھما کر مقرر کیا۔ خیموں کو لشکر کی پشت پر رکھا اور خیمے کی پچھلی طرف خندق کھود کر لکڑیاں اور بانس ڈال دیا اور اس کو آگ لگا دی تاکہ دشمن پیچھے کی جانب سے حملہ نہ کر سکے۔ جب لشکر ابن سعد نے حملے کی کوشش کی تو مسلم بن عوسجہ نے سخت طریقے سے دفاع کیا اور انہیں پیچھے دکھیل دیا۔

← مسلم بن عوسجہ کے رجز


جب مسلم بن عوسجہ یزیدی دستوں سے جنگ لڑنے نکلے تو آپ یہ رَجَز پڑھ رہے تھے:
إنْ تَسْألوا عَنّی فّإنّی ذُو لُبَدْ • وانّ بیتی فی ذری بنی اسد
فَمَنْ بَغانی حائِدٌ عَنِ الرَّشَدْ • و کافِرٌ بِدینِ جَبّارٍ صَمَدْ
اگر تم لوگ مجھ سے پوچھتے ہو تو جان لو میں دلیر شیر ہو ، میرا گھر بنی اسد کی ذریت میں سے ہے، جو مجھ سے سرکشی کرے گا وہ ہدایت سے گمراہ ہے اور (اللہ) جبار صمد کے دین کا منکر ہے۔

← مسلم بن عوسجہ کی شہادت


ابن سعد نے اپنے لشکر کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کو سالار بنایا۔ عمرو بن حجاج نے فرات کی جانب موجود انصارِ امام حسینؑ پر حملہ کیا اور دونوں میں شدت کی جنگ ہوئی، ابن سعد کے لشکر کے تقریبا ۵۰ جنگجو واصلِ جہنم ہوئے۔ امام حسینؑ کے انصار میں سے مسلم بن عوسجہ اس شدید حملہ میں شہید ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ لشکرِ حسینی کے پہلے شہید جناب مسلم بن عوسجہ ہیں۔ طبری اور بلاذری نے نقل کیا ہے: فصرع مسلم بن عوسجة الأسدي أول أَصْحَاب الْحُسَيْن؛ پھر مسلم بن عوسجہ اسدی زمین پر آ گرے، اصحاب حسینؑ میں پہلے شہید یہی ہیں۔ ابن کثیر نے بھی اس کو واضح طور پر تحریر کیا ہے: وَقَدْ قُتِلَ فِي هذه الحملة مسلم بن عوسجة وكان أَوَّلَ مَنْ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُسَيْن؛ اس حملہ میں مسلم بن عوسجہ شہید ہو گئے اور وہ اصحابِ حسینؑ میں پہلے صحابی ہیں جو قتل کیے گئے۔ اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں تو اس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ روزِ عاشور میدانِ کربلا میں اصحابِ حسینؑ میں پہلے شہید جناب مسلم بن عوسجہ ہیں۔ اس طرف توجہ رہنی چاہیے انہی کتب میں مسلم بن عوسجہ کی شہادت سے پہلے بریر بن حضیر اور عمرو بن قرظہ کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا ہے لیکن ان کے بارے میں یہ نہیں وارد ہوا کہ ان میں سے کون پہلے اور کون بعد میں شہید ہوا۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے اس سے پہلے کوئی شہید ہوا ہو لیکن اس کا نام واضح طور پر اس طرح سے نہیں آیا یا اگر شہید ہوئے ہوں تو وہ جماعت اور گروہ کی صورت میں شہید ہوئے۔

جب عمرو بن حجاج کا لشکر حملہ کرنے کے بعد واپس پلٹا اور غبار چھٹا تو مسلم بن عوسجہ زمین پر گرے دکھائی دیئے، امام حسینؑ ان کی طرف بڑھے، مسلم بن عوسجہ میں آخری رمقیں باقی تھیں اور اکھڑی سانسیں لے رہے تھے، امام حسینؑ نے فرمایا:رَحِمَكَ اللَّهُ يَا مُسْلِمُ بْنَ عَوْسَجَةَ، {فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ؛ اے مسلم بن عوسجہ اللہ تجھ پر رحمت نازل کرے، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی): ان میں سے بعض ہیں جنہوں نے (راہِ الہی) میں اپنی جان قربان کر دی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں۔

← وقت شہادت حبیب بن مظاہر کو وصیت


امام حسینؑ کے پیچھے پیچھے حبیب بن مظاہر جناب مسلم بن عوسجہ کے پاس پہنچے جبکہ ان سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ حبیب نے کہا: تمہارا اس طرح سے گرنا اور سختی کو جھیلنا میرے لیے بہت سخت ہے، لیکن میں تم کو جنّت کی بشارت دیتا ہوں، اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ میں تیرے پیچھے پیچھے تجھ سے ملحق ہو جاؤں گا تو میں چاہتا کہ تم جو چاہتے ہو اس کی مجھے وصیت کرو اور قرابت داری و دین کے اعتبار سے جس کی تم اہلیت رکھتے ہو اس کی وجہ سے میں تمہاری وصیت کے مطابق عمل انجام دوں، مسلم بن عوسجہ نے نحیف آواز میں کہا: أُوصِيكَ بِهَذَا، رَحِمَكَ اللَّهُ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحُسَيْنِ، أَنْ تَمُوتَ دُونَهُ، فَقَالَ: أَفْعَلُ؛ اللہ تجھ پر رحمت نازل کرے، میں تجھے اس کی وصیت کرتا ہوں اور پھر اپنے ہاتھ سے امام حسینؑ کی طرف اشارہ کیا، کہ تم مرتے دَم تک ان کی اطاعت و نصرت کرنا، حبیب نے کہا: قسم بخدا میں ایسا ہی کروں گا۔

← مسلم بن عوسجہ کی شہادت کی خوشی منانا


حبیب بن مظاہر کو وصیت کر کے مسلم بن عوسجہ امام حسینؑ اور حبیب کے ہاتھوں میں شہید ہو گئے، جیسے ہی ان کی شہادت کا علم ان کی کنیز کو ہوا تو اس نے ایک چیخ بلند کی اور یا بن عوسجتاہ ! یا سیداہ کہہ کر رونے لگی۔ کنیز کے نالہ و فغاں سن کر لشکرِ ابن سعد عمرو بن حجاج کو پکار کر کہنے لگے: ہم نے مسلم بن عوسجہ اسدی کو قتل کر دیا۔ شَبَث بن رِبعی نے ابن سعد کے سپاہیوں سے جب یہ سنا تو انہیں نفرین کرنے لگا اور کہا: تمہاری مائیں تم پر روئیں، تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو قتل کیا ہے اور اپنے غیر کے لیے نم نے اپنے نفوس کو ذلیل و خوار کیا ہے، کیا تم مسلم بن عوسجہ جیسے کے قتل کیے جانے پر خوش ہو رہے ہو! اس ذات کی قسم جس کے لیے میں اسلام لایا ہوں کنتے مواقع پر میں مسلمانوں کے درمیان مسلم بن عوسجہ کو مہربان و کریم پایا ہے ! آذربائیجان کی جنگ میں سلق (جوکہ شمال عراق میں آذربائیجان اور موصل کے درمیان پہاڑی علاقہ ہے)
[۵۶] فرہاد میرزا معتمد الدولۃ، قمقام زخار و صمصام بتار، ص۴۹۴۔
کے مقام پر روزِ جنگ میں خود دیکھا تھا کہ مسلم بن عوسجہ نے مسلمانوں کے گھوڑوں کے پہنچنے سے پہلے چھ مشرکین کو قتل کیا، کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے اس طرح قتل کیا ہو!! اور اس پر تم خوشی منا رہے ہو !!

← مسلم بن عوسجہ کے قاتلین


مسلم بن عوسجہ جوانمردی اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے شہید کر دئیے گئے۔ آپ کو شہید کرنے والے عبد الرحمن بن ابی خشکاره بجلی، مسلم بن عبد الله ضبابی اور عبد الله ضبابی (لعنۃ اللہ علیہم) تھے۔
[۶۳] حیاة الامام الحسین، ج۳، ص۲۱۳.


← مسلم بن عوسجہ کا زیارت نامہ


امام مہدیؑ سے منسوب زیارت ناحیہ میں جناب مسلم بن عوسجہ کا تذکرہ ان الفاظ میں آیا ہے: السلامُ علی مُسْلِم بْنِ عَوْسَجةِ الاسَدی .... وَ کنْتَ اوّلُ مَنْ شَرَی نَفْسَه و اوَّلُ شهیدٍ مِنْ شُهَدَاءِ اللَّهِ‌ قَضى‌ نَحْبَهُ‌، فَفُزْتَ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ ... یرْحَمْک الله یا مُسْلِمَ بنِ عَوسَجِه و قَرَأَ فَمِنْهُمْ مَن قَضَی نَحْبَه وَمِنْهُم مَنْ ینْتَظِر وَمَا بَدَّلُوا تبدیلا لَعَنَ الله المُشترکینَ فی قَتْلِک؛ مسلم بن عوسجہ اسدی پر سلام ہو ۔۔ اور آپ پہلے شخص ہیں جس کے نفس کو اللہ نے خرید لیا اور اللہ کے شہداء میں سے پہلے شہید ہیں جس نے اپنے جان دی، ربّ کعبہ کی قسم آپ کامیاب ہو گئے ۔۔۔، اے مسلم بن عوسجحہ اللہ آپ رحمت نازل فرمائے، پس ان میں سے بعض ہیں جو قربان ہو گئے اور ان میں سے بعض منتظر ہیں اور انہوں نے عہد و پیمان تبدیل نہیں کیا، اللہ ان پر لعنت کرے جو آپ کے قتل میں شریک ہوئے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی انصار الحسینؑ، ص ۱۰۷۔    
۲. حسینی جلالی، محمد رضا، تسمیۃ من قتل مع الحسینؑ، ص۲۶۔    
۳. دہخدا، لغت‌نامہ دہخدا، ج۲، ص۱۸۴۴۸۔
۴. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۴، ص۲۷۰۔    
۵. ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسد الغابۃ، ج ۴، ص ۳۹۶، رقم:۴۹۱۰۔    
۶. نمازی شاہرودی، علی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ج۷، ص۴۱۴۔
۷. مامقانی، عبد للہ، تنقیح المقال، ج۳، ص۲۱۴، رقم: ۱۱۷۸۱۔
۸. سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی انصار الحسینؑ، ص۱۰۸۔    
۹. شمس‌ الدین، محمد مہدی، انصار الحسینؑ، ص۱۰۸۔    
۱۰. محلاتی، ذبیح‌ الله، فرسان الہیجاء، ج۲، ص ۱۵۶۔    
۱۱. محلاتی، ذبیح‌ اللہ، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۱۵۶۔    
۱۲. زرکلی، خیر‌ الدین، الاعلام، ج۷، ص۲۲۲۔    
۱۳. زرکلی، خیر‌ الدین، الاعلام، ج۷، ص۲۲۲۔    
۱۴. محلاتی، ذبیح‌ الله، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۱۵۶۔    
۱۵. مامقانی، عبد الله، تنقیج المقال، ج۳، ص۲۱۴۔
۱۶. محلاتی، ذبیح‌ الله، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۱۵۶۔    
۱۷. ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۳۰۔    
۱۸. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۴، ص۲۷۵۔    
۱۹. شمس‌ الدین، محمد مہدی، انصار الحسین، ص۱۰۸۔    
۲۰. محلاتی، ذبیح‌ الله، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۱۵۶۔    
۲۱. نویری، احمد بن عبد الوہاب، نہایۃ الارب فی فنون الادب، ج۲۰، ص۳۹۷۔    
۲۲. دینوری، احمد بن داؤد، الاخبار الطوال، ص۲۳۸۔    
۲۳. شیخ مفید، محمد بن محمد نعمان، الارشاد، ج ۲، ص ۴۶۔    
۲۴. ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۲۵- ۲۶۔    
۲۵. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۴، ص۲۷۰۔    
۲۶. دینوری، احمد بن داؤد، الاخبار الطوال، ص۲۳۵۔    
۲۷. ابن اعثم، احمد، الفتوح، ج۵، ص۴۳۔    
۲۸. سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین، ص۱۰۹۔    
۲۹. ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ ج۴، ص۵۸.    
۳۰. ابن مسکویہ، احمد بن محمد، تجارب الامم و تعاقب الہمم، ج۲، ص۷۵۔    
۳۱. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۱۸۹۔    
۳۲. نویری، احمد بن عبد الوہاب، نہایۃ الارب فی فنون الادب، ج۲۰، ص۴۳۵۔    
۳۳. خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، ج۱، ص۳۵۰۔    
۳۴. ابن اعثم، احمد، الفتوح، ج۵، ص۹۵۔    
۳۵. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۹۲۔    
۳۶. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۴۴، ص۳۹۳۔    
۳۷. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری ج۴، ص۳۲۲۔    
۳۸. سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین، ص۱۱۰۔    
۳۹. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۹۶.    
۴۰. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۴۵، ص۵۔    
۴۱. طبری، ابو جعفر بن جریر، تأریخ الطبری، ج ۴، ص ۳۲۰۔    
۴۲. سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین، ص۱۱۰۔    
۴۳. ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۲۵۱۔    
۴۴. خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، ج۲، ص۱۷۔    
۴۵. ابن اعثم، احمد،الفتوح، ج۵، ص۱۰۶۔    
۴۶. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۴۵، ص۱۹۔    
۴۷. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۳۵.    
۴۸. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۳۔    
۴۹. ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، ج۸، ص۱۸۲۔    
۵۰. احزاب/سوره۳۳، آیت ۲۳۔    
۵۱. ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۶۷۔    
۵۲. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری ج۴، ص۳۳۱.    
۵۳. ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۶۷-۶۸.    
۵۴. نویری، احمد بن عبد الوہاب، نہایۃ الارب فی فنون الادب، ج۲۰، ص۴۴۸.    
۵۵. خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، ج۲، ص۱۸۔    
۵۶. فرہاد میرزا معتمد الدولۃ، قمقام زخار و صمصام بتار، ص۴۹۴۔
۵۷. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۳۵-۴۳۶.    
۵۸. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۳۔    
۵۹. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۳-۱۰۹۔    
۶۰. ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۲۵۱۔    
۶۱. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۲۔    
۶۲. سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین، ص۱۱۰۔    
۶۳. حیاة الامام الحسین، ج۳، ص۲۱۳.
۶۴. حسینی جلالی، محمد رضا، تسمیۃ من قتل مع الحسینؑ، ص۲۶.    
۶۵. مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۵، ص۶۹۔    
۶۶. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۳۔    
۶۷. سوره احزاب(۳۳)، آیت ۲۳۔    
۶۸. سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، ج۲، ص۵۷۵۔    
۶۹. مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۵، ص۶۹۔    


مأخذ

[ترمیم]

جمعی از نویسندگان، پژوہشی پیرامون شہداء کربلا، ص۳۵۳-۳۵۸۔
پیشوائی، مہدی، مقتل جامع سید الشہداء، ج۱، ص۷۷۵-۷۷۶۔
بعض معلومات محققین ویکی فقہ اردو کی طرف سے اضافہ کی گئی ہے۔






جعبه ابزار