نو آئمہؑ کی امہات کے بارے میں مولوی گرگیج کی ہرزہ سرائی

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



مولوی محمدحسین گرگیج، آزاد شھر کے اہل سنت امام جمعہ نے عمر بن خطاب کی خلافت کے اثبات کیلئے امام حسینؑ کے شہر بانو بنت یزدگرد کے ساتھ نکاح کہ تمام آئمہؑ ان کی نسل سے ہیں؛ سے استدلال کیا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ عمر نے ایران کی فتح کے بعد شہر بانو کا امام حسینؑ کے ساتھ نکاح کروایا ہے، اگر یہ بات قبول کر لی جائے تو یہ عمر کی خلافت کے صحیح ہونے کی دلیل ہو گی اور اگر یہ مطلب قبول نہ کیا جائے تو آئمہؑ کا اعتبار اور ان کا نسب زیر سوال چلا جائے گا۔
بعض علمائے شیعہ نے اس دعوے کے کچھ جوابات دئیے ہیں کہ جن کا ذیل کے نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:
۱۔ تاریخی لحاظ سے اصل مسئلہ کے عمر کی طرف انتساب میں شک و تردید ہے۔
۲۔ تاریخی اعتبار سے بہت بعید ہے کہ شہر بانو کا ازدواج عمر کے دور میں واقع ہوا ہو۔
۳۔ زمانہ عمر میں شہر بانو کا ازدواج ہونے کی خبر پر مبنی مصادر یہ بیان کرتے ہیں کہ عمر اس بانو کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر امام علیؑ نے اس امر کی مخالفت کی۔
۴۔ ازدواج کا صیغہ اس زمانے میں خاتون کی طرف سے پڑھا جاتا تھا اور اگر عمر نے بھی پڑھا ہو، تو اس کی دلالت ان کی خلافت کے شرعی ہونے پر نہیں ہے۔
۵۔ اگر تملیک ہو چکی ہو پھر بھی یہ تملیک خلفا کی جنگوں کے مشروع ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔


شبہہ

[ترمیم]

مولوی گرگیج ( صوبہ گلستان آزاد شھر کے اہل سنت امام جمعہ اور دارالعلوم فاروقیہ گالیکش) کے مدیر نے نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا ہے کہ:
زین العابدین کی مادر، یزدگرد کی دختر تھیں کہ جنہیں عمر بن خطاب نے ایران فتح کرنے کے بعد امام حسینؑ کے عقد میں دیا اور نو معصوم آئمہؑ بھی آگے چل کر اسی نسل سے وجود میں آئے ہیں، پس اگر عمر کی خلافت کو قبول نہ کریں تو آئمہؑ کا اعتبار اور ان کا نسب زیر سوال چلا جاتا ہے۔

جواب

[ترمیم]

مولوی گرگیج کے کلام پر بہت سے اشکال ہیں:

← مسئلے کے عمر کی طرف انتساب میں تشکیک


امام زین العابدینؑ کی والدہ کا ایرانی اور فارس قوم سے ہونا، تاریخ میں ایک مشہور امر ہے، تاہم انہیں کس وقت عرب میں لایا گیا، اس کے بارے میں اختلاف ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ عثمان بن عفان کے دور کا واقعہ ہے نہ عمر بن خطاب کے دور کا۔
[۱] شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا (علیه‌السّلام)، ج۲، ص۱۳۵۔

بعض دیگر روایات کے مطابق یہ مسئلہ امیر المومنین علی بن ابی ‌طالبؑ کے دور میں پیش آیا تھا نہ سابقہ خلفا کے زمانے میں۔ اس بنا پر اس مسئلے کا عمر بن خطاب کی طرف انتساب ہی مشکوک ہے!

← زمانہ عمر میں شھر بانو کے ازدواج کا احتمال بعید


بہت سی عبارات میں یہ نقل ہوا ہے کہ یہ دو بہنیں تھیں کہ ان میں سے ایک نے سید الشہداؑ کے ساتھ ازدواج کیا اور دوسری نے محمد بن ابی‌بکر کے ساتھ! جب سنہ ۲۱ھ کو جنگ نھاوند لڑی گئی، اس وقت محمد بن ابی بکر گیارہ سال کے تھے، لہٰذا عمر بن خطاب کے زمانے میں اس ازدواج کا وقوع بہت بعید ہے! لہٰذا ان شواہد سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ اس ازدواج کے عمر بن خطاب کی خلافت میں ہونے کی خبر دینے والی روایات جعلی ہیں۔

← عمر کا شہر بانو کو فروخت کرنے کا قصد


عمر بن خطاب کے دور میں اس ازدواج کے وقوع کی روایات نقل کرنے والے مصادر یہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر امیر المومنین علیؑ نے اس کی مخالفت کی کہ رسول خداؐ کے حکم کی بنیاد پر یہ افراد اشراف میں سے ہیں اور ان سے شرافت مندانہ سلوک کیا جائے اور آپ انہیں فروخت کرنے کا حق نہیں رکھتے بلکہ وہ جس سے چاہیں ازدواج کریں۔

← شھر بانو کی جانب سے خطبہ عقد


ازدواج کے مسئلے میں حکم شرعی کی بنیاد پر پہلے عورت صیغہ عقد پڑھے اور مرد اسے مکمل کرے؛ آج کل جس طرح وکالت دی جاتی ہے، یہ رسم پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔ روایت کے مطابق حضرت شہر بانو نے ایجاب کے جملات ادا کیے جبکہ جناب سلمان فارسی ان کا ترجمہ کر رہے تھے!

← خلیفہ کے عاقد ہونے کا بلا دلیل دعویٰ


متعدد شیعہ سنی علما کے نزدیک ایک کافر کو بھی کسی مسلمان کا صیغہ عقد جاری کرنے کی غرض سے وکیل بنایا جا سکتا ہے! لہٰذا مولوی گرگیج کا یہ استدلال کہ خلیفہ دوم نے چونکہ حضرت شہر بانو کا سید الشہدا کے ساتھ عقد پڑھا تھا، اس لیے ان کی خلافت شرعی ہے؛ سرے سے ہی باطل ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کسی کے صرف نکاح پڑھنے سے اس کی خلافت تو دور کی بات ہے، اس کا اسلام بھی ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ غیر مسلم بھی شرائط کا خیال رکھتے ہوئے صیغہ عقد جاری کر سکتا ہے!

← تملیک کی مشروعیتِ خلفا پر عدم دلالت


اگر مقصود یہ ہے کہ یہ عظیم بانو خلیفہ دوم کے زمانے میں اسیر ہوئیں اور عمر بن خطاب نے انہیں سید الشہداء کی ملکیت میں قرار دیا ہے تو یہ بات عقد کے حوالے سے مذکورہ بالا بیانات سے منافات رکھتی ہے، یعنی اصلا تملیک انجام نہیں پائی بلکہ ازدواج واقع ہوا ہے؛ دوسری بات یہ کہ اگر تملیک بھی ہوئی ہو تو یہ تملیک خلفا کی جنگوں کی مشروعیت پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ:
الف: شیعہ فقہ اور معصومینؑ کی صحیح السند روایات کے مطابق اگر کوئی شخص غیر شرعی جنگ پر جائے اور اس جنگ میں غنیمت حاصل کرے تو سب غنائم امام کی ملکیت ہوں گے اور امامؑ جیسا چاہیں تصرف کریں۔ اب اگر ایران کے خلاف جنگ اگر معصومینؑ کی نظر میں غیر شرعی ہو تو پھر بھی تمام غنائم امامؑ کی ملکیت ہو جائیں گے اور اگر کوئی ان پر امامؑ کے اذن کے بغیر تصرف کرے تو وہ حرام کا مرتکب ہوا ہے نہ یہ کہ امامؑ کو وہ اموال دے کر اپنی جنگ کی مشروعیت کو ثابت کرے!
ب۔ شیعہ نظریے کے مطابق امام، زمین میں جو کچھ ہے، اس کا مالک بالاصالہ ہے اور دوسروں کی مالکیت فرعی اور امام کے اذن سے ہے، یعنی الہٰی امام جس چیز میں بہتری سمجھے تو اسی طرح تصرف کرے گا؛ کیونکہ اس کے سامنے صرف امر الہٰی کی اطاعت مقصود ہے۔ اسی وجہ سے اگر بالفرض خلفا کی جنگیں غیر مشروع ہوں اور ان جنگوں میں کچھ اموال غنیمت ملیں تو امام مالک بالاصالۃ ہونے کے عنوان سے اپنی مرضی سے ان میں تصرف کر سکتا ہے۔
ت۔ ایک شرعی مسئلہ جو غیر امام کے مورد میں بھی جاری ہے، ظالمین و غیر مشروع حکمرانوں کے تحائف کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی حاکم کسی مومن کو ہدیہ دے تو بعض مقامات پر اس میں تصرف جائز ہے کہ جن میں سے ایک مورد تقیہ ہے۔ حضرت زید بن علی کی والدہ ایک کنیز تھیں، جنہیں جناب مختار ثققی نے امام سجادؑ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھجوایا تھا، مگر اہل سنت اس مسئلے کو مختار کی خلافت کے مشروع ہونے کی دلیل نہیں سمجھتے! تو پھر کیسے عمر بن خطاب کی جانب سے پیش کردہ کنیز کے قبول کیے جانے کو ان کی خلافت کے مشروع ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں؟!

نتیجہ

[ترمیم]

مذکورہ مطالب کی بنیاد پر مشخص ہوا کہ یہ مسئلہ اہل تشیع یا اہل سنت میں سے کسی کے شرعی معیارات کے مطابق نہیں ہے۔ لہٰذا مولوی گرگیج کی باتیں علمی معیارات سے منافات رکھتی ہیں بلکہ شیعہ سنی اصول و قواعد سے متصادم ہیں۔

مولوی گرگیج کا معافی نامہ

[ترمیم]

گرگیج نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے اور ان میں کانٹ چھانٹ کی گئی ہے؛ نیز وہ عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہونے پر معذت خواہ ہیں۔
ان کے پیغام کا متن یہ ہے:
عذرخواهی مولوی گرگیج
سوشل میڈیا پر موجود عزیزوں کو سلام، اس ہفتہ (۱۹ آذر ۱۴۰۰ بمطابق ۱۰ دسمبر ۲۰۲۱ء) کے خطبہ جمعہ میں مفصل مطالب پیش کیے گئے تھے کہ جن کی ویڈیو موجود ہے، دوسری جانب ہم اپنے آپ کو اہل بیتؑ کے ارادت مند اور عاشق سمجھتے ہیں اور اس ارادت مندی کو بارہا جمعہ کے خطبات، تحریروں اور بیانات و انٹرویوز میں بیان کر چکے ہیں؛ اہل بیتؑ اور رسول خداؐ کے اصحاب کی محبت میرے قلبی ایمان کا حصہ ہے؛ پیغمبر اعظمؐ کے اہل بیتؑ کی توہین حرام اور کفر ہے۔
میری تقریر کی وجہ ایام فاطمیہ کے دوران گلی کوچوں اور سڑکوں پر توہین آمیز بینرز لگانا اور فرقہ واریت پھیلانے والی تقاریر کرنا ہے؛ ہزاروں مرتبہ خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ میرے دل میں رسول گرامی کے خاندان اور نسل پاک کی نسبت کینہ، کدورت یا عداوت ہو یا میں کسی توہین کا ارتکاب کروں۔
سعدی کے بقول:
« خدایا به حق بنی فاطمه، که با قول ایمان بُود خاتمه».
بعض لوگوں نے جان بوجھ کر کسی غرض کی وجہ سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کیا ہے اور میرے کلام و مطالب کی تحریف کر رہے ہیں اور ان کی کانٹ چھانٹ کر رہے ہیں کہ ملک کے موجودہ نازک حالات میں ہم اجازت نہیں دیں گے کہ کچھ لوگ اہل سنت اور اہل تشیع میں تفرقہ پیدا کرنے کے اسباب فراہم کریں۔
آخر میں یاد آوری کرنا چاہتا ہوں کہ جس اہل سنت کے دل میں رسول اللہ اور ان کے پاک خاندان کی محبت نہ ہو اور ان کے اعمال کی پیروی نہ کرے، وہ اہل سنت نہیں ہے اور اگر میری باتوں کی وجہ سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے تو اس پر تمام عزیزوں سے معذرت خواہ ہوں۔
اسی طرح انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اہل بیتؑ کی نسبت اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے پیغمبر پر ایمان ، اہل بیتؑ سے محبت اور ان کی طہارت پر یقین کو اہل سنت کے ایمان و عقائد کا حصہ قرار دیا ہے۔ نیز اپنے کلام سے اخذ کیے جانے والے مفاہیم کو رد کرتے ہوئے کہا: ہم پیغمبر بلکہ تمام انبیاء اور اہل بیتؑ جیسے نیک انسانوں کی نسل کو پاک و پاکیزہ سمجھتے ہیں اور ہرگز کوئی ان کےنسب کے بارے میں سوال نہیں کر سکتا اور اگر کرے تو اس کا ایمان مشتبہ ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا (علیه‌السّلام)، ج۲، ص۱۳۵۔
۲. فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین، ص۲۰۱۔    
۳. قاضی نعمان مغربی، نعمان بن محمّد، شرح الاخبار، ج۳، ص۲۶۷۔    
۴. شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۷۔    
۵. زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الابرار، ج۳، ص۳۵۱۔    
۶. ابن حجر عسقلانی، تهذیب التهذیب، ج۳، ص ۴۳۸۔    
۷. زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الابرار، ج۵، ص۳۲۵۔    
۸. زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الابرار، ج۳، ص۳۵۱۔    
۹. ابن فندمه، علی بن زید، لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ج۱، ص۲۱۔    
۱۰. ابن فندمه، علی بن زید، لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ج۱، ص۲۱۔    
۱۱. انصاری، زکریا، اسنی المطالب فی شرح روض الطالب، ج۲، ص۲۶۵۔    
۱۲. طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروة الوثقی، ج۶، ص۲۰۹۔    
۱۳. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج۵، ص۴۴۔    
۱۴. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج۲، ص۳۵۴۔    
۱۵. ابوالفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ص۱۲۴۔    
۱۶. خبرگزاری حوزه۔    
۱۷. خبرگزاری حوزه۔    


ماخذ

[ترمیم]
گروه محققین ویکی فقہ، ماخوذ از مقالہ جواد ابوالقاسمی۔






جعبه ابزار