شکل اول میں دائمہ مطلقہ اور ضروریہ مطلقہ

پی۔ڈی۔ایف فارمیٹ میں مقالہ محفوظ کریں



دائمہ مطلقہ اور ضروریہ مطلقہ قیاس مختلط میں شکل اول کی نتیجہ خیز صورت ہیں۔


اصطلاح کی وضاحت

[ترمیم]

قیاس مختلط وہ قیاس ہے کہ جس کے صغریٰ اور کبریٰ قضایائے موجہہ سے مرکب ہوں۔ قیاس مختلط میں شکل اول کی ایک نتیجہ خیز صورت یہ ہے کہ صغریٰ میں قضیہ دائمہ مطلقہ اور کبریٰ میں ضروریہ مطلقہ ہو۔ ضروریہ مطلقہ سے اس کا عام اطلاق مقصود ہے کہ جو ضروریہ ذاتیہ» اور ضروریہ ازلیہ کو بھی شامل ہے۔
شکل اول کی نتیجہ خیز صورتوں میں ہر مقام پر نتیجہ جہت کے اعتبار سے کبریٰ کے تابع ہوتا ہے بجز یہ کہ کبریٰ قضایائے وصفیہ یعنی مشروطہ عامہ یا خاصہ اور عرفیہ عامہ یا خاصہ ہو کہ اس صورت میں نتیجہ فی الجملہ صغریٰ کے تابع ہوتا ہے؛ اس وضاحت کیساتھ کہ بعض اوقات نتیجہ بعینہ صغریٰ کے تابع ہوتا ہے اور کبھی صغریٰ میں موجود جہت تحلیل ہو کر اس کی ایک جزء نتیجہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور بعض اوقات صغریٰ کی جہت کے ایک جزء اور کبریٰ کی جہت کے ایک یا چند اجزا سے حاصل ہونے والا مجموع جہت کے عنوان سے نتیجہ میں آتا ہے۔

قواعد انتاج

[ترمیم]

مذکورہ موارد کی تعیین کیلئے تین قواعد کی طرف رجوع ضروری ہے:
پہلا قاعدہ: جب کبریٰ وصفیہ اور صغریٰ لا دوام کی قید کا حامل ہو تو مذکورہ قید نتیجہ میں حذف ہو جاتی ہے۔
دوسرا قاعدہ: اگر کبریٰ وصفیہ بلاضرورت یعنی عرفیہ عامہ یا خاصہ ہو اور صغریٰ ضرورت سے مقید ہو تو ضرورت کی قید نتیجے میں حذف ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے صغریٰ کی ضرورت نتیجے میں سرایت نہیں کرتی کہ جس کا کبریٰ ضرورت سے خالی ہو۔
تیسرا قاعدہ: اگر کبریٰ ایسا وصفیہ ہو جو لا دوام سے مقید ہو یعنی مشروطہ خاصہ یا عرفیہ خاصہ ہو تو مذکورہ قید کبریٰ سے نتیجے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔
دائمہ مطلقہ اور ضروریہ مطلقہ سے مرکب قیاس کا کبریٰ قضایا وصفیہ سے نہیں ہوتا، اس لیے جہت کے اعتبار سے کبریٰ کا تابع ہوتا ہے؛ یعنی ضروریہ مطلقہ ہو گا، ہر انسان دائما ناطق ہے(صغریٰ) اور ضرورتا کوئی ناطق پتھر نہیں ہے(کبریٰ) پس ضرورتا کوئی انسان پتھر نہیں ہے۔(نتیجہ)
[۳] مجتہد خراسانی (شہابی)، محمود، رہبر خرد، ص۳۱۴۔
[۵] قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیہ فی شرح رسالة الشمسیہ، ص۱۵۱۔
[۶] قطب‌الدین رازی، محمد بن محمد، شرح المطالع یا لوامع الاسرارفی شرح مطالع الانوار، ص۲۶۸۔


کتابیات

[ترمیم]

اس مقالے کی تالیف کیلئے درج ذیل مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے:
• مجتہد خراسانی (شہابی)، محمود، رہبر خرد.
حلی، حسن بن یوسف، الجوہر النضید۔    
• قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیہ فی شرح رسالة الشمسیہ.
• قطب‌الدین رازی، محمد بن محمد، شرح المطالع یا لوامع الاسرارفی شرح مطالع الانوار.
خواجہ نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، اساس الاقتباس۔    
مشکوةالدینی، عبدالمحسن، منطق نوین مشتمل بر اللمعات المشرقیہ فی الفنون المنطقیہ۔    

حوالہ جات

[ترمیم]
 
۱. خواجہ نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، اساس الاقتباس، ص۲۱۵-۲۲۲۔    
۲. مشکوةالدینی، عبدالمحسن، منطق نوین مشتمل بر اللمعات المشرقیہ فی الفنون المنطقیہ، ص۴۲۷۔    
۳. مجتہد خراسانی (شہابی)، محمود، رہبر خرد، ص۳۱۴۔
۴. علامہ حلی، حسن بن یوسف، الجوہر النضید، ص۱۰۷-۱۱۳۔    
۵. قطب‌الدین رازی، محمد بن‌ محمد، تحریر القواعد المنطقیہ فی شرح رسالة الشمسیہ، ص۱۵۱۔
۶. قطب‌الدین رازی، محمد بن محمد، شرح المطالع یا لوامع الاسرارفی شرح مطالع الانوار، ص۲۶۸۔


ماخذ

[ترمیم]
پایگاه مدیریت اطلاعات علوم اسلامی، یہ تحریر مقالہ دائمۃ مطلقۃ با ضروریۃ مطلقۃ در شکل اول سے مأخوذ ہے۔ لنک مشاہدہ کرنے کی تاریخ:۱۰/۸/۲۰۱۹۔    


اس صفحے کے زمرہ جات : احکام قضایا | اقسام قضایا | قضایا موجہہ




جعبه ابزار